1,039

سوشل میڈیا انفلوینسر کے لیے سرکاری نوکریوں کا اعلان

پشاور( ارشد عزیز ملک – روزنامہ جنگ ) خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں تقریباً 1360سوشل میڈیا انفلوینسر (SMI) بھرتی کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔نئے بھرتی ہونے والے ایس ڈی آئی صوبائی حکومت کے خلاف جعلی خبروں اور منفی پروپیگنڈے کا مقابلہ کریں گے۔سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے افراد عوامی مفاد کی حکومتی اصلاحات کے بارے میں نچلی سطح تک آگاہی بھی پھیلائیں گے۔سوشل میڈیا شراکتی پلیٹ فارم پراجیکٹ کے لیے 73کروڑ 60لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ ہر سوشل میڈیا انفلوینسر کو 25000 روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔تمام افراد کو ایک سال کے لئے بطور انٹرنی بھرتی کیا گیا ہے تاہم معاہدہ میں توسیع ہوسکتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں نے سوشل میڈیا انفلوینسرز کی بھرتی کو سیاست میں انتشار پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے۔صوبائی حکومت نے پشاور، مردان ، چارسدہ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، دیر اپر، دیر لوئر، ایبٹ آباد، بٹگرام، بونیر، چترال لوئر، ہنگو، ہری پور، کرک، کوہاٹ، کوہستان اپر، لکی مروت، مالاکنڈ، مانسہرہ، نوشہرہ، شانگلہ،




صوابی، سوات، ٹانک، تور غر، کوہستان لوئر، باجوڑ، خار، خیبر، کرم، مہمند، شمالی وزیرستان، اورکزئی، جنوبی وزیرستان، ایف آر بنوں، ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان۔ ایف آر کوہاٹ، ایف آر لکی مروت، ایف آر پشاور، ایف آر ٹانک، کولائی پالس، اور چترال اپر سے1360سوشل میڈیا انفلوئنسر کی بھرتی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کے لیے 870 ملین روپے کی رقم مختص کی گئی تھی تاہم نظر ثانی پی سی ون کے مطابق اب اس پراجیکٹ پر 736ملین روپے خرچ ہوں گے ۔وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے جنگ کو بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد اصلاحاتی اقدامات اور شہری ذمہ داریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے عوامی آگاہی کے لیے سوشل میڈیا شراکتی پلیٹ فارم قائم کرنا ہے۔پراجیکٹ کا مقصد عوامی مفاد میں اصلاحات اور جعلی خبروںاورمن گھڑت اطلاعات کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی سطح تک آگاہی پھیلانا ہے۔ تمام میڈیا انفلوینسر حقائق اور اعداد و شمار کے ساتھ صوبائی حکومت کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا بھی مقابلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے انہیں عوامی خدمات کی فراہمی میں خامیوں کو اجاگر کرنے کا اہم کام بھی ان نوجوانوں کو سونپا ہے۔ نوجوان سوشل میڈیا پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عوامی شکایات کابھی سراغ لگائیں گے اور حکومت کو معلومات فراہم کریں گے ۔محمد علی سیف نے کہا کہ سوشل میڈیا سستا ہے اور ہر کسی کے لیے آسانی سے قابل رسائی ہے۔ نوجوان حکومت کو پولیو اور دیگر مہمات کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے میں مدد کریں گے۔پرا جیکٹ کے لئے ایک پروجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری کی گئی ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی سربراہ سردار حسین بابک نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے سرکاری وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہےتحریک انصاف نے پچھلے نو سالوں کے اندر تمام اداروں کے بورڈ میں سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو بھرتی کردیا ہے




۔حکومت ان نوجوانوں کو اداروں اور شخصیات کے خلاف پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کرے گی۔ ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا ٹیم کو سیاستدانوں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ محکمہ اطلاعات کی موجودگی میں سوشل میڈیا کے لیے 1400 افراد کو بھرتی کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ کے پی حکومت نے زر علی کو سوشل میڈیا پارٹیسیپیٹری پلیٹ فارم کا پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کررکھا ہے، جو محکمہ اطلاعات میںڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی کے طور پر کام کر رہے تھے۔ مزید برآں، تین کمیونیکیشن کنسلٹنٹس کی خدمات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔ پی ڈی اور کمیونیکیشن کنسلٹنٹس کے علاوہ، ایک باقاعدہ اکاؤنٹنٹ پراجیکٹ کے اکاؤنٹنگ کے معاملات میں مدد کرے گا۔پراجیکٹ ڈائریکٹر زر علی نے جنگ کو بتایا کہ مجموعی طورپر 9379 سے زائد افراد نے درخواستیں جمع کرائی تھیں جس کے لئے قابلیت کا معیار انٹرمیڈیٹ یا آئی ٹی میں ڈپلومہ مقر رکیا گیا تھا تاہم امیدوار کے پاس کسی بھی سوشل میڈیا میں ایک ہزار کے قریب فالورز کا ہونا ضروری تھی۔تقریباً 3692 امیدوار معیار کیلئے اہل پائے گئے۔ انٹرویو کیلئے صرف 2012امیدوار آئے جن میں سے 1096 کا انتخاب کیا گیا۔ ابھی بھی 157 سیٹیں خالی ہیں اور جلد ہی ان کا اشتہار دیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ تمام منتخب امیدواروں کو بھرتی کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں اور انھوں نے محکمے میں رپورٹ کرنا شروع کردیا ہے ۔محکمہ اطلاعات کے ایک اہلکار نے جنگ کو بتایا کہ یہ منصوبہ ریاست اور شہریوںکے تعلقات کو مضبوط بنانے اور صوبائی حکومت کے اعتماد اور ساکھ کو بحال کرنے میں مدد کریگا تاکہ موثر تشہیر اور ان علاقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں حکومت کو عام لوگوں کیلئے پالیسی سازی پر توجہ دینی چاہیے۔ اسکے علاوہ ، پالیسی سازوں اور عام لوگوں کے درمیان اقتصادی طریقے سے براہ راست رابطے کو یقینی بنایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں