1,042

شاردہ پَتھ ؛ قدیم ادوار کی درسگاہوں میں عظیم درسگاہ

تحریر ؛ اُسامہ گُل عَبّاسی

یہ شاردہ پتھ ہے، لفظ( شاردہ) دراصل سنکرتی لفظ شردہ سے نکلا ہے اس کا معنی موسمِ خزاء سے محبت کرنے والی دیوی کے ہیں اور ہندومت میں اسکا اصلی نام سروستی ہے
لفظ( پتھ) کا مطلب بیٹھنے کی جگہ ہے یعنی( سروستی دیوی کے بیٹھنے کی جگہ)
شاردہ پتھ کے آس پاس پورا قصبہ آباد ہے جو شاردہ کے نام سے ہی جانا جاتا ہے، زمانہ قدیم میں شاردہ پتھ کو کافی اہمیت حاصل تھی جس کا زکر البیرونی نے اپنی کتاب ( کتاب الہند) کے باب ( ہندوستانی مزاہب کی عظیم عبادت گاہیں ) میں کیا ہے اور لکھا ہے، سری نگر کے شمال کی جانب شاردہ کی درسگاہ واقع ہے جس کو اہل ہند بہت متبرک تصور کرتے ہیں اور ہر سال خزاء کے موسم میں یہاں کا رخ کرتے ہیں

شاردہ پتھ عبادت گاہ ہونے کے ساتھ درسگاہ بھی تھی جو برصغیر میں بڑی اہمیت کی حامل تھی جسکا زکر بہت سے تاریخ دانوں نے اپنی تصانیف میں کیا ہے
اس درسگاہ میں ایک بڑا طاقچہ بھی موجود ہے جو بڑے چراغ کے لئے بنایا گیا تھا زمانہ قدیم میں یہاںئ ہر سال کئ زائرین عبادت کے لئے آیا کرتے تھے جس کے نشانات موجود ہیں مگر بلندی پر ہونے کے باعث موسم کی سختیوں نے اس تاریخی ورثے کو شدید نقصان پنچایا ہے اس باقیات میں سے فقط 35 فیصد حصہ اس وقت موجود ہے ییی وجہ ہے یہاں عبادت کرنے والوں نے تقریباً آنا چھوڑ دیا ہے مگر گاہے گاہے ہندوستان سے اس درسگاہ کو بحال کرنے پر زور دیا جاتا رہتا ہے مگر شاید کے ائندہ سالوں میں یہ بھی نا رہے جو لوگ تاریخ سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور اس طرح کی جگہوں کو وزٹ کرنے کا شوق رکھتے ہیں وہ اِس خوبصورت پتھ کو ضرور دیکھیں اور کچھ دیر یہاں ٹہرنے کے ارادے سے آنکھیں بند کرکے ٧٦٠ عیسوی کو محسوس کریں،

چاندنی رات میں مرکزی طاقچہ میں رکھے بڑے چراغ سے نکلتی روشنی پوری درسگاہ پر اپنے نقش چھوڑ رہی ہے آسمان پر نظر دوڑائیں، ستارو سے آسمان روشن ہے چہار جانب طالب علم آرام کررہے ہیں گہری خاموشی کا سکوت توڑتے ہوئے کوئ راہب آپکا نام پیار سے پکارتا ہے اور پیچھے دیکھنے کا کہتا ہے یہاں بلندی پر خوبصورت تالاب کے نیلے پانی میں چمکتے چاند کا عکس آپکو محو حیرت کررہا ہے اور زرا اوپر نگاہ جاتے ہی آپکی نظر سامنے شاندار عمارت جو انجینئرنگ کا شاہکار ہے نظر آتی ہے جس میں دیوی سروستی کی مورتی اپنے خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ تخت پر براجمان ہے آپ اس چاندنی رات کو حیرت سے دیکھتے ہوئے آنکھیں کھولتے ہیں تو سامنے یہ ویران اور شکستہ حالت میں مندر آپکے سامنے موجود ہوتا ہے آپ کے پاس افسوس اور دوبارہ اُسی تخیل میں جانے کی خواہش کے سوا کچھ نہیں ہوگا.

ادارہ سی این پی اردو کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

سی این پی ارد و پر اپنی تحریریں شائع کروانے کے لیے اپنی تحریر ( 5300061 0313 ) پر واٹس ایپ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں