1,047

پنجاب پولیس میں اصلاحات کون کرےگا؟

تحریر ؛ اکرم عامر

مہذ ب معاشروں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و ملازمین کو عزت و احترام دیا جاتا ہے، اسی بنا پر ایسے ممالک میں جرائم کی شرح بہت کم ہوتی ہے، ایسے ممالک میں پولیس اور قانون نافذکرنے والے ادارے عوام کی جانب سے ہونے والی حوصلہ افزائی کی وجہ سے دلجمعی سے جرم اور جرائم پیشہ عناصر کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے، ان ترقی یافتہ ممالک میں دیگر محکمہ جات کی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پولیس کی ڈیوٹی ٹائم 8 گھنٹے ہوتا ہے، لیکن ہمارے ملک میں پولیس ایسا شعبہ ہے جس کے ملازمین سے دن رات مشین کی طرح کام لیا جاتا ہے، اور پھر بد قسمتی سے سب سے زیادہ تنقید بھی ہماری قوم ملک کے محافظوں (پولیس) پر ہی کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود پولیس کی کارکردگی ملک میں دیگر شعبوں سے بہتر ہے، پولیس ہی وہ ادارہ ہے جس کے جوان پاک فوج کے بعد دفاع وطن کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں پیش کرتے ہیں، قربانیاں دینے والوں میں زیادہ تعداد چھوٹے ملازمین کی ہوتی ہے جس کی واضح مثال پی ٹی آئی کا حالیہ لانگ مارچ ہے جس میں حکومت وقت کے حکم پر پی ٹی آئی کے ایک کارکن کی گرفتاری کیلئے چھاپے کے دوران لاہور میں ایک پولیس کانسٹیبل شہید ہوا تو دوسری طرف سرگودھا، اسلام آباد سمیت دیگر کئی مقامات پر لا تعداد پولیس کانسٹیبل و ملازمین و افسران دوران ڈیوٹی زخمی ہوئے، مگر پولیس کے جوانوں نے حکومت وقت کے احکامات کی نافرمانی کی بجائے اطاعت کی، شہید و زخمی ہونے والے ملازمین کی اکثریت کا تعلق پنجاب پولیس کے رینکر کیڈر سے تھا۔ مگر پنجاب سمیت ملک بھر میں استحصال بھی صوبائی پولیس سروسز کے ملازمین کا ہی ہو رہا ہے، ہر بر سر اقتدار آنے والا حکمران پنجاب سمیت دیگر صوبہ جات کی پولیس کو ٹاسک دیتا ہے کہ جرم اور جرائم کا خاتمہ آہنی ہاتھوں سے کیا جائے، پولیس ملازمین کو اس کے بدلے سہولتیں دینے اور پولیس نظام میں اصلاحات کا لالی پاپ دیا جاتا ہے، آج تک کسی بھی حکمران نے عوام اور ملک کی محافظ پولیس فورسز کو وہ مراعات نہیں دیں جو ان کا بنیادی حق ہے، بلکہ ایک پلاننگ کے تحت پولیس آرڈیننس کے تحت صوبائی پولیس فورس کی ترقیوں کو کم کر کے پی ایس پیز کا کوٹہ بڑھا دیا گیا، جس سے صوبائی پولیس فورس کے کانسٹیبل سے لیکر آفیسر رینک تک کے ملازمین میں بے یقینی کی سی کیفیت پائی جارہی ہے،پی ٹی آئی کے کپتان پولیس میں اصلاحات کا نعرہ لگاتے لگاتے ساڑھے تین سال حکومت کر کے اقتدار سے چلے گئے لیکن نہ تو پولیس کے رینکر ملازمین جن کی تعداد لاکھوں میں ہے کو ان کا بنیادی حق دے سکے اور نہ ہی پولیس میں اصلاحات کر سکے؟ جس کا نعرہ لگا کر کپتان اقتدار میں آئے تھے، کیا اچھا ہوتا کہ سابقہ حکومت کے دور میں جتنے آئی جیز پنجاب تبدیل ہوئے ہیں، اگر حکومت اتنی توجہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں پولیس میں اصلاحات اور رینکرز کو ان کا حق دینے پر دے دیتی تو پاکستان کی پولیس کا شمار بھی دنیا کی مثالی پولیس میں ہوتا، پولیس میں اصلاحات کے نعرے سابقہ حکومتیں بھی لگاتی رہیں لیکن پولیس کے رینکر ملازمین کی ترقیوں کا معاملہ اپنی جگہ اٹکا رہا، یہی وجہ ہے کہ اب بھی پولیس نظام میں اکثریت انگریز کے بنائے گئے قانون پر عمل ہو رہا ہے۔





پولیس میں اصلاحات کرنے کی بازگشت اکثر سنائی دیتی ہیں مگر اصلاحات کا حل کسی کے پاس نہیں ہے ، مثلا جب ہم پنجاب پولیس کہتے ہیں تو اس سے مراد پنجاب کی پولیس ہونی چاہیے کیونکہ لا اینڈ آرڈر صوبائی اختیار ہے اور ہونا تو یہ چاہئے کہ آئی جی پنجاب سے لیکر سپاہی تک تمام پوسٹس ہوم ڈیپارٹمنٹ کی ہوں، مگر صوبوں میں ایسا نہیں ہے، پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں وفاق کے افسران کی اکثریت کا راج ہے، جو صوبائی پولیس سروسز کے ملازمین کی حق تلفی کے مترادف ہے، توجہ طلب بات یہ بھی ہے کہ پنجاب پولیس اور دیگر صوبہ جات کی پولیس کے ملازمین کا بجٹ بھی صوبائی اسمبلیاں منظور کرتی ہیں، قانونی طور پر تو یہ صوبائی پولیس ہوتی ہے مگر ان صوبائی پوسٹوں پر وفاقی پولیس سروس آف پاکستان کے افسران کی اکثریت تعینات رہتی ہے، اسی بنا پر صوبائی پولیس سروس کے ملازمین کی ترقی صرف ڈی ایس پی کے عہدہ پر پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے، کوئی اکا دکا ملازم ایس پی کے عہدہ پر پہنچ پاتا ہے، جبکہ کئی مثالیں موجود ہیں کہ نئے پولیس آرڈیننس کے تحت پی ایس پیز کا کوٹہ بڑھانے سے پہلے صوبائی پولیس سروس کے ملازمین ایس ایس پی، ڈی آئی جی، ایڈیشنل آئی جی اور اس سے اوپر کے عہدہ تک پہنچے، اب صوبائی پولیس سروس کے ملازمین کی ترقیوں پر پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں پی ایس پیز نے شب خون مار لیا ہے، یہی وجہ ہے کہ صوبوں میں ایس پی سے لے کر آئی جی تک کی پوسٹوں پر وفاقی پولیس کے افسران براجمان ہیں، جس سے صوبائی پولیس سروس کے ملازمین میں بے یقینی اور مایوسی کی سی فضا پائی جا رہی ہے۔



موجودہ آئی جی پنجاب راﺅ سردار علی خان نے بھی چارج سنبھالتے ہی پنجاب پولیس میں اصلاحات کا نعرہ لگایا تھا مگر وہ نعرہ صرف نعرہ ہی رہا، اس پر عملی طور پر کوئی کام نہیں ہو سکا؟ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ وفاقی پولیس سروس آف پاکستان کے ملازمین کو صوبائی پولیس ملازمین کہا اور تصور کیا جاتا ہے، حالانکہ پی ایس پی افسران اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ملازمین ہوتے ہیں جو صوبائی قانون اور صوبائی اتھارٹی کے ماتحت نہیں اور نہ ہی ان کو صوبوں سے تنخواہ دی جا سکتی ہے، اور نہ ہی یہ صوبوں میں ایڈمنسٹریشن اختیارات استعمال کر سکتے ہیں؟ حکومتوں کی سادہ دلی سمجھیں یا پی ایس پی افسران کا دباﺅ، ہر حکومت وفاقی افسران سے صوبائی پولیس اصلاحات کرواتی ہے، جو کہ تعجب خیز بات ہے، اگر پولیس اصلاحات ہو جائیں تو وفاقی پولیس افسران صوبائی پوسٹوں پر تعینات ہی نہیں ہو سکتے، ذرائع کے مطابق پولیس اصلاحات کیلئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے صوبائی پولیس سروسز کو آرٹیکل 240 (ب) کے مطابق گریڈ 22 تک پہنچایا جائے، تا کہ قانونی طور پر صوبائی پولیس سروس قائم ہو اور اس کے بعد انتظامی و مالی خود مختار، تفتیشی عمل اور دوسرے معاملات کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے، پولیس اصلاحات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پولیس کو صوبائی قانون اور اتھارٹی کے ماتحت کیا جائے، تا کہ صوبوں میں پولیس کا صحیح ڈھانچہ تشکیل پا سکے، اس سے صوبوں میں پولیس کی کارکردگی بہتر ہو گی اور پولیس کانسٹیبل، اے ایس آئی سے لے کر دیگر ملازمین تک کو امید ہو گی کہ اس کی ترقی کا حق وفاق کا کوئی افسر غصب نہیں کرے گا۔



سو بات کہاں سے کہاں نکل گئی بات ہورہی تھی، پولیس اصلاحات کی تو حکومت وقت کو چاہئے کہ وہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں پولیس اصلاحات کرے اور وفاق کے ملازمین کو صوبوں سے ہٹا کر وفاق میں بھجوایا جائے اور صوبوں میں ترقیاں دے کر صوبائی پولیس سروسز کے ملازمین کو چھوٹے بڑے عہدوں پر تعینات کیا جائے، تا کہ صوبوں میں صوبائی پولیس سروس ملازمین کی حق تلفی کا عمل جو کہ ایک عرصہ سے ہو رہا ہے کا خاتمہ ہو سکے؟ اس سے صوبوں میں پولیس ملازمین کا مورال بلند ہو گا، اور وہ جرم اور جرائم سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے، پولیس کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور ہمارے ملک کی پولیس کا شمار بھی ترقی یافتہ ممالک کی پولیس میں ہو گا۔

ادارہ سی این پی اردو کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

سی این پی ارد و پر اپنی تحریریں شائع کروانے کے لیے اپنی تحریر ( 5300061 0313 ) پر واٹس ایپ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں