1,090

میٹرک ، پیپروں کو دوبارہ لینے کا فیصلہ ہائی کوٹ میں چیلنج

راولپنڈی (خان گلزار حسین سے)راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے آو¿ٹ ہونے والے پیپرز دوبارہ لینے کے فیصلے کے خلاف آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن راولپنڈی ڈویڑن کے صدر ابرار احمد خان کی طرف سے ایڈووکیٹ ہائی کورٹ چودھری یاسر محمود کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی گئی ابتدائی سماعت کے لیے کل کی تایخ مقرر کردی گئی اور جسٹس احمد ندیم ارشد اس کیس کی سماعت کریں گے۔ ابرار احمد خان کے بیان کے مطابق راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے تحت ہونے والے میٹرک پارٹii کے پانچ پیپرز حساب (آرٹس و سائنس) دوسرا گروپ ، کیمسٹری، بائیالوجی اور کمپیوٹر سائنس پہلا گروپ آو¿ٹ ہوئے۔ اس بابت ایک پریس کانفرنس پبلک سیکٹر کی تنظیموں کی طرف سے 19 مئی کو کی گئی، دوسری پریس کانفرنس پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے 20 مئی کوکی گئی تیسری پریس کانفرنس مورخہ 30 مئی کو پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندوں کی طرف سے مشترکہ کی گئی




اور تحریری طور پر بھی اپنے مطالبات حکام بالا تک پہنچائے گئے جس میں ہم نے مطالبہ کیا کہ منسوخ ہونے والے 5 پیپرز ہمارے بچے دوبارہ ہرگز نہیں دیں گے۔ چند لوگوں کے جرم کی سزا تمام بچوں کو دینا ظلم و زیادتی ہے۔راولپنڈی تعلیمی بورڈ اپنی نا اہلی غفلت اور ناقص منصوبہ بندی کا ملبہ 1,17000 بچوں پر مت ڈالے اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن دوبارہ پیپرز دینے کا نوٹیفیکیشن فوری طور پر واپس لے۔ مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے حکام بالا نے ہماری استدعا مسترد کر دی اور ایک نہ سنی اور آج بچوں کی ترمیم شدہ ڈیٹ شیٹ دوبارہ جاری کر دی گئی۔ اس کے ردعمل میں آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا۔ ایپسما راولپنڈی ڈویڑن کے صدر ابرار احمد خان اور پنجاب ٹیچرز یونین ضلع راولپنڈی کے صدر راجہ طاہر محمود نے امید ظاہر کی ہے کہ عدالت بچوں کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہونے دے گی اور نقل مافیا کے اصل کرداروں کو قانون کی گرفت میں لانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں