1,054

تم ہو ایک زندہ و جاوید روایت کے چراغ

از قلم؛ ام محمد عبداللہ

ہمالیہ اور قراقرم کے بلند و بالا عظیم پہاڑی سلسلوں کے دامن میں واقع وادیِ کشمیر قدرتی حسن میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے آسمان سے باتیں کرتے پہاڑ، ان پہاڑوں کی برف پوش چوٹیاں، صدیوں کی برف اپنے سینے سے لگائے میلوں لمبے گلیشیرز، شور مچاتے ہوئے دریا، بلند و بالا آبشار، گھنے جنگل، اور سرسبز و شاداب وادیاں اس خِطّے کو ایک مثالی حسن عطا کرتے ہیں. کشمیر کو اس کے غیر معمولی حسن کی وجہ سے جنتِ ارضی بھی کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر نے سرزمینِ کشمیر پر جب قدم رکھا تو بے اختیار پکار اٹھا۔
اگر فردوس بر روئے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است

ہائے افسوس کہ قدرت کی جانب سے انسانوں کو ودیعت کردہ یہ جنت نظیر وادی بھارتی ظلم و جبر کے باعث اب جہنم کا نقشہ دکھائی دیتی ہے۔
   وادی کشمیر مدت ہوئی وادی کشمیر نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر پکاری جاتی ہے۔ مسئلہ کشمیر درحقیقت پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مقبوضہ کشمیر کی ملکیت کا تنازع ہے۔ یہ مسئلہ تقسیم ہندوستان سے چلا آ رہا ہے۔ تقسیم ہندوستان کے وقت مسلم اکثریتی علاقے پاکستان میں شامل ہونا تھے مگر کشمیری راجا، ہندو اور انگریز قیادت کے گٹھ جوڑ سے کشمیری عوام کی رائے کا خون کرتے ہوئے اسے بھارت کا حصہ بنا دیا گیا۔ پاکستان اور کشمیری عوام نے اس ناانصافی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی تنازع کی بنا پر پاکستان اور ہندوستان کے مابین تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ پہلی جنگ 1947ء، دوسری 1965ء اور تیسری 1971ء میں لڑی گئی۔ اسی تنازع کی بنا پر ایک چوتھی جنگ 1999ء میں بھی لڑی گئی۔ اس کے علاوہ آئے دن مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کی سرحد جسے لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے پر بھی گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ جس میں اکثر پاکستانی شہری آبادی نشانہ بنتی ہے۔

قیام پاکستان کے بعد کشمیریوں نے کشمیر کی آزادی کو تکمیل پاکستان سے تعبیر کیا۔ تکمیل پاکستان کی اس منزل کو پانے کے لیے کشمیری مسلسل اپنا خونِ جگر قربان کر رہے ہیں۔ اپنی فکر سے عمل تک، اپنی عصمتوں سے مال تک، اپنے احساسات سے جذبات تک اور عام شہری سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں تک، تحریک آزادی کشمیر کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے   کشمیری اپنے گرم لہو سے تکمیل پاکستان کی منزل کو پانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
برہان وانی، مقبول بٹ، محمدیوسف بچھ  اور ان گنت چاند سورج جیسے شہید آئے روز سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر سپرد خاک ہو رہے ہیں۔ یہ شہید، آزادی کے متوالے اپنے لہو سے کئی اور چراغ روشن کر جاتے ہیں۔
انہی چراغوں میں ایک چمکتا دمکتا نام یاسین ملک کا بھی ہے۔ 

کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے ہیرو یاسین ملک کو بھارتی حکومت کی جانب سے بے بنیاد دہشت گردی کے الزامات میں فروری 2019ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اب تین سال قید وبند کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد ان پر ایک عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ یاسین ملک جدوجہد آزادیٔ کے جرم میں گزشتہ کئی سال سے نئی دلی کی تہاڑ جیل میں پابند سلاسل تھے۔ اس بدنام زمانہ جیل میں مقبوضہ کشمیر کے کئی دیگر آزادی کے متوالے راہنما بھی جبری قید و بند کی صعوبتیں جھیل چکے ہیں۔ 59 سالہ یاسین ملک نے اپنی جوانی کشمیریوں کی آزادی پر قربان کر دی۔  بارہ سالہ شادی شدہ زندگی میں صرف ساٹھ دن اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ گزارے۔ ان پر جیل میں بے پناہ تشدد بھی کیا جاتا رہا ہے۔ بھارتی غیر منصف اور جانبدار عدالت نے 25 مٸی کو انہیں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
تحریک آزادی کشمیر جو کہ دراصل تکمیل پاکستان ہے، میں کشمیری اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔ عمر قید کی سزائیں اور شہادتیں ماتھے پر رقم کرائے وہ سرخرو بھی ہیں اور امر بھی۔ بقول شاعر
میری ہمتیں ابھی جھکی نہیں میرے حوصلے بھی بلند ہیں
مجھے ہار جیت سے غرض نہیں میری جنگ تھی سو میں لڑ گیا 

 افسوسناک امر تو یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے اہم فریق پاکستان کی طرف سے عملی کارروائی کے بجائے بھارت کی ہر جبر و ظلم پر مبنی مذموم حرکت پر  زبانی کلامی مذمت پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ حالانکہ پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ کا کشمیری نعرہ مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان بطور فریق مسئلہ کشمیر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے. جب تک پاکستان ذمہ داریوں سے کوتاہی کا مرتکب رہے گا بھارت اپنی  گھٹیا اور ظالمانہ حرکتوں سے باز نہیں آئے گا۔

پاکستان میں سیاستدانوں اور صاحب اختیار و اقتدار کا فرض ہے کہ آپس کی کشیدگی، حصول اقتدار کی دوڑ اور انتقامی احساسات و جذبات سے اوپر اٹھ کر واقعتاً پاکستان اور مسلم امہ کے وسیع تر مفاد میں بھارتی عدالت کے بنیادی انسانی حقوق کے خلاف اور فرضی بنیادوں پر جناب یاسین ملک صاحب کی  غیر منصفانہ عمر قید سزا پر مل کر اپنا  مضبوط رد عمل دیں۔

پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سے بیک وقت رجوع کرے اور بھارتی حکومت کے سنگین مظالم کے خلاف عالمی برادری کو بیدار کرنے کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کرے اور جناب یاسین ملک کی باعزت رہائی کو جلد از جلد ہر صورت ممکن بنائے۔  

ادارہ سی این پی اردو کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

سی این پی ارد و پر اپنی تحریریں شائع کروانے کے لیے اپنی تحریر ( 5300061 0313 ) پر واٹس ایپ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں