1,045

سیاست کا مؤثر انداز

ازقلم ، صغریٰ نور

اللہ تعالیٰ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ کے دست با برکت سے قائم ہونے والی مدینہ کی اسلامی ریاست کے بعد پاکستان وہ واحد اور پہلا اسلامی ملک ہے جو اسی نظریہ کے تحت وجود میں آیا اس ملک کی بنیاد رکہتے ہوئے مسلمانوں نے جس جذبے سے اور جوش و خروش سے اس میں حصہ لیا اور اپنی جان مال یہاں تک کہ عزتوں کی قربانی دی اس سے خود بخود یہ بات سمجھانے میں آ تی ھے کہ ان کے پیشِ نظر کوئی عظیم مقصد تھا جو ان کی جان و مال اور خواتین کی عزت و عصمت سے بھی بڑا تھا سیاست کا مطلب ہی سنورنا ہے اصلاح کرنا ہے تو ہمارے حکمران اس لفظ کا ترجمہ تشریح سمجہیں کے اس چہوٹے لفظ سیاست میں کتنا بڑا مقصد اور اھم بات چہپی ہوئی ہے سنوارنا اصلاح کرنا ایک معاشرا بہت بگڑا ہوا ہے بد امنی بد سلوکی قطع تعلقی عرب ہی کی مثال لے لیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کتنا بڑا بگاڑ تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست قائم کی تو سب بہائی بہائی ہو گئے تو آ ج کل کے حکمران بہی یہی جائزہ لیں کہ بگاڑ کہاں ہے اور کیسے ختم کر نا پے علامہ ابنِ خلدون متوفا نے فرمایا سیاست اور حکمران مخلوق کی نگھداشت اور ان کی مفاد کی کفالت و ضمانت کا نام ہے یہ سیاست خدا کی نیابت ،( نائب) ہے اس کے بندوں پر اسی کے احکام نافذ کرنے کے کام ہیں کفالت کا مطلب ان کی پرورش کرنا ان کو پالنا جو عوام ہے ان میں زیادہ تر غربت اور یتیمی ہے جو راستوں پر بھٹک رہے ہیں کچھ روز گار کی خاطر اپنی جوانی اپنی تعلیم چنوں کا تھال اور پاپڑ کا شاپر لے کر چل رہے ہیں ان کو روزگار کی طلب ہوتی ہے اور کچھ یتیم جو راستوں پر بہیک مانگ رہے ہو تے ہیں تو سیاست کا مطلب کیا بتایا گیا ؟؟؟ مخلوق کی نگھداشت” اور ان کے مفاد کی کفالت و ضمانت جس نے اس کی کفالت کی اس نے سیاست کو سمجھ لیا اور اس کا حق ادا کیا دیکہیں پاکستان بنانے کے لیے ھمارے بزرگوں نے کتنی قربانیاں دیں جو میں نے پہلے بیان کی ہیں اتنی قربانیوں کوششوں سے ھمیں آ خر کار ہمیں پاک پاکستان ملک مل گیا اگر ایسی کوششیں ایسی قربانیاں ھمارے حکمران کریں’ تو ھمارے ملک میں جو فساد بد امنی پہیلی ہے جو غربت بے روزگاری کا طوفان برپا ہوا ہے یہ سب ختم ہو جائے گا اور ھمارا ملک اسلامی ملک بن جاتا کیوں کہ سیاست ان تدابیر کا نام ہے جن کی وجہ سے لوگ صلاح مصلحت عام کے قریب ھو جاتے ھیں اور فساد و بگاڑ سے دور ھو جاتے ھیں سیاست کسی چیز کی اصلاح کے لیے کمربستہ کہڑے ہو جانے کو کہا جاتا ہے سیاست مدبر اور قائد کا کام ہے سائس اس شخص کو کہا جاتا ہے جو سردار اور قائد ہوں ( السیاسیۃ النبویہ ) النبیاء کی سیاست یہ مقدس اور پاکیزہ اصولوں پر مبنی ھوتی ھے جو نفوس انسانیا کو فاسد و خیالات و افکار سے محفوظ رکھنے کا علاج بتاتی ہے جیسے حضرت عمر رض اللہ تعالیٰ عنہ کی حکومت غریبوں کا ھمدرد بے سہاروں کا سہارا دکہیاروں کے غم خار پریشانوں کے ھمراز محتاجوں کے آ قا عورتوں کی عزت کرنے والا بچوں سے پیار کرنے والا بوڑھوں کا عزت و احترام کرنے والا ایسے حکمران ہی اسلام غالب کرسکتے ہیں ظلم وزیادتی کو مٹا سکتے ہیں عدل و انصاف کر کے فحش بے ھودا کاموں کو مٹا کر اسلام غالب کرسکتے ہیں یعنی سیاست کے معنا مکر و فریب اور لڑانا نہیں ہے بلکہ اس حکمت عملی کا نام سیاست ھے جو اخوت ومحبت اور اتحاد و اتفاق پیدا کرتی ہو سیاست دان طبقاتی کشمکش برپا کرنے والے اور لڑانے والے کو نہیں کہا جاتا بلکہ حقیقی سیاست دان وہ ہوتا ہے جو بہترین مدبر و منتظم ہونے کے ساتھ مصلح اور معلم اخلاق بہی ہو آ ج ھمارا ملک سنگین حالات سے دوچار ہے ملک کے حالات دن ب دن خراب ہو تے جا رہے ہیں دوسرے مذاھب کی رسموں روایات کو اپنانا باعث فخر سمجھا جانے لگا ہے جب کہ اسلام پر چلنے والوں کو تنگ نظر یا دقیانوس سمجھا جاتا ہے اس سے بڑی فکر کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ایک ملک میں پروپیگنڈہ کے تحت اسلام سے ہی دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کسی حد تک کامیابی کے ھم کنار ہے لھذا اسلامی معلومات کی کمی اور دوسری قوموں کے من گھڑت افسانے اور کہانیاں مسلمانوں کے ذہنوں کو تباہ کر رہی ہیں ھمارا زوال یہی ہے کہ ہم ویسے ہی ہوتے جا رہے ہیں جو یورپ والے چاہتے ہیں اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح سے صوبائی و لسانی تعصب بڑہ گیا ہے کرپشن زیادہ ہوتی جا رہی ہے جھوٹ مکر و فریب بڑہ گیا ہے پردہ ختم ہوتا جارہا ہے تجارت پیشہ افراد اسلامی تعلیمات سے حد درجا دوری پر نظر۔ آ تے ہیں لوٹ مار کا چور بازار سر گرم عمل ہے عجیب نفسا نفسی کا عالم ہے

ادارہ سی این پی اردو کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

سی این پی ارد و پر اپنی تحریریں شائع کروانے کے لیے اپنی تحریر ( 5300061 0313 ) پر واٹس ایپ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں