1,067

تخت پنجاب کی جنگ، چوہدری نثار کا ووٹ اہم

تحریر: اکرم عامر

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں سیاسی اور آئینی ہلچل مزید بڑھ گئی ہے اور نمبر گیم ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گئی ہے، نئی صورتحال دونوں جماعتوں کیلئے دلچسپ بن چکی ہے، (ن) لیگ کے پانچ منحرف ارکان نکالنے کے بعد (ن) لیگ کے ارکان کی تعداد 160 جبکہ پیپلز پارٹی کے 7 ارکان، 4 آزاد اور ایک راہ حق کا رکن شامل کیا جائے تو تعداد 172 بنتی ہے، اگر (ن) لیگ کے 5 منحرف ارکان واپس پارٹی میں آ جائیں تو ان کی تعداد 177 ہو جائے گی، پی ٹی آئی کے 183 ارکان میں سے 25 منحرف ارکان نکالنے کے بعد تعداد 158 رہ جاتی ہے، ان میں ڈپٹی سپیکر کا ووٹ بھی شامل ہے جو پارٹی سے باغی ہو چکے ہیں، 25 منحرف ارکان میں 5 مخصوص نشستوں سے تعلق رکھتے ہیں، نا اہلی کی صورت میں پی ٹی آئی کے 5 نئے ارکان مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونگے تو ان کی تعداد 163 ہو جائے گی، ڈپٹی سپیکر کا ووٹ مائنس کیا جائے تو پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد ایوان میں 162 ہو جائے گی، مسلم لیگ (ق) کے 10 ارکان شامل کر کے کل تعداد 172 ہو جائے گی یعنی کہ حمزہ شہباز شریف اور پی ٹی آئی کے وزیر اعلی کیلئے نامزد چوہدری پرویز الہی کو یکساں ووٹوں کی حمایت حاصل ہو جائے گی، چوہدری نثار احمد جنہوں نے تین سال بعد حلف اٹھایا اور اب 8 ماہ سے خاموش بیٹھے سیاست کے نشیب و فراز دیکھ رہے ہیں کا ووٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہو گیا ہے، یاد رہے کہ چوہدری نثار احمد کا شمار مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت میں ہوتا تھا، وہ دبنگ سیاستدان ہیں جو پارٹی کے اندر رہ کر کھری کھری سنانے کے عادی ہیں، اسی بناءپر مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت سے انکے 2017 میں اختلافات ہوئے، دوریاں اس نہج تک پہنچیں کہ مسلم لیگ (ن) کے قائدین نے 2018 میں انہیں پارٹی ٹکٹ نہ دیا تو چوہدری نثار احمد نے قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑے، بدقسمتی سے وہ قومی اسمبلی کی نشست ہار گئے اور صوبائی رکن اسمبلی منتخب ہو گئے، بعض وجوہات کی بناءپر چوہدری نثار احمد نے اسمبلی رکنیت کا حلف نہ لیا ،وہ سیاست سے عرصہ تک پس پردہ رہے، 8 ماہ قبل اچانک اسمبلی میں حلف اٹھانے کیلئے گئے تو سیاسی حلقوں میں چوہدری نثار کئی روز تک زیر بحث رہے، پھر دھیمے لہجے کے سیاست دان چوہدری نثار نے چپ سادھ لی، اب چوہدری نثار کا ووٹ وزارت اعلی کیلئے فیصلہ کن نظر آ رہا ہے، اور اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ ان کا ووٹ چوہدری پرویز الہی کے پلڑے میں پڑے، کیونکہ مسلم لیگ (ن) نے 2018 کے انتخابات میں انہیں ٹکٹ نہیں دیا تھا، امکان ہے کہ 2018 کا بدلہ اب چوہدری نثار (ن) لیگ کو ووٹ نہ دے کر چکائیں گے۔



سو بات کہاں سے کہاں نکل گئی بات ہو رہی تھی پی ٹی آئی کی جانب سے منحرف اراکین کیخلاف دائر درخواست پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلہ کی، سپریم کورٹ آف پاکستان نے تو پارٹی سے وفاداری تبدیل کرنے والے 25 منحرف اراکین کا ووٹ شامل نہ کرنے کی رائے دی تھی، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تو پی ٹی آئی کے ان منحرف 25 ارکان پنجاب اسمبلی کو ڈی سیٹ کر دیا ہے، یعنی اب منحرف ہونے والے پی ٹی آئی کے 25 ارکان جنہوں نے حمزہ شہباز شریف کو وزارت اعلی کا ووٹ دیا تھا اب خود رکن اسمبلی نہیں رہے، اسی تناظر میں پی ٹی آئی نے اب حمزہ شہباز شریف کو عہدہ سے ہٹانے کیلئے عدالت عالیہ ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے، عدالت اس آئینی درخواست پر آئندہ چند روز میں فیصلہ کر دے گی، جو پنجاب کی سیاست میں انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا۔



بنا بریں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے نتیجہ میں ڈی سیٹ ہونے والے 25 ارکان صوبائی اسمبلیز میں عبد العلیم خان، راجہ صغیر ، ملک غلام رسول ، سعید اکبر نوانی ،محمد اجمل چیمہ ، نذیر چوہان ، امین ذوالقرنین، ملک نعمان لنگڑیال ، سلمان نعیم ، زوار حسین وڑائچ ، نذیر احمد خان ، فدا حسین ، زہرہ بتول ، لالہ طاہر، اسد کھوکھر ،محمد سبطین رضا ، محسن عطا خان کھوسہ ، میاں خالد محمود ، مہر محمد اسلم ،فیصل حیات ،عائشہ نواز ،ساجدہ یوسف ،عظمیٰ کاردار ، ہارون عمران گل ،اعجاز مسیح شامل ہیں، ڈی سیٹ ہونے والوں میں 10 ایم پی ایز 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو شکست دے کر آزاد حیثیت سے جیتے تھے، ان میں راجہ صغیر، غلام رسول سنگھا، سعید اکبر نوانی، چوہدری اجمل چیمہ، فیصل جبوانہ، اسلم بھروانہ، سلیمان نعیم، فدا وٹو، لالہ طاہر، محسن کھوسہ شامل ہیں، جو بعد میں جہانگیر ترین کے طیارے میں بیٹھ کر بنی گالا پہنچ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے، جبکہ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والے پانچ ارکان اسمبلی عائشہ نواز، ساجدہ یوسف، عظمی کاردار، ہارون عمران گل، اعجاز مسیح کو کپتان نے پارٹی کی خدمات کے نتیجہ میں نوازا تھا، کہتے ہیں نہ کہ سیاست بے حس اور بے رحم ہوتی ہے۔ ان ارکان اسمبلی نے پارٹی سے غداری کی تو پی ٹی آئی کی قیادت نے بھی ان کیخلاف خوب قانونی جنگ لڑی اور ان کی ایم پی اے شپ ہی ختم کرا دی، کپتان نے منحرف ارکان کے بارے میں عوام میں اتنا شعور بیدار کر دیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے وفاق اور پنجاب میں منحرف ہونے والے ان ارکان اسمبلی کو سخت عوامی دباﺅ کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان میں سے کوئی خوش قسمت سیاستدان ہی ہو گا جو آئندہ انتخابات میں جیت پائے گا؟

ادارہ سی این پی اردو کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

سی این پی ارد و پر اپنی تحریریں شائع کروانے کے لیے اپنی تحریر ( 5300061 0313 ) پر واٹس ایپ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں