1,069

آلودہ سیاست کے زمہ دار سیاسی کارکن ہیں

تحریر؛ علی شیر

سیاست آج جس قدر آلودہ ہوچکی ہے اس کی تمام تر زمہ داری سیاسی جماعتوں کے کارکنان پر عائد ہوتی ہے

زرا تاریخ پر نظر دوڑائیں

مکالمہ

:- ‏ذوالفقار علی بھٹو عوامی جلسوں میں جب محترمہ فاطمہ جناح انکے خلاف تھی تو انہیں کیسے کیسے القابات سے نوازتے تھے قائد اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح کے بہن بھائی جیسے رشتے پر بھی زومعنی جملے استعمال کرتے تھے خرم دستگیر کے والد محرمہ فاطمہ جناح کے انتخابی نشان کو کتیا کے گلے میں ڈال کر گھوماتے تھے وہ فاطمہ جناح جنہیں قوم نے مادر ملت کا خطاب دیا گیا تھا زوالفقار علی بھٹو صاحب کا یہ سیاسی طرز صرف مادر ملت تک نہیں تھا اپنے وقت کے ہمعصر مرد کرداروں کو بھی وہ نہیں بخشتے تھے مفتی محمود صاحب کے بارے میں کیا خیالات رکھتے تھے سیاسی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے احباب بخوبی جانتے ہیں کچھ القابات، جملے، تبصرے بیان کرنے کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتے نواب زادہ نصراللہ خان کو “حقہ ٹوپی”، اصغر خان کو “آلو” اور ائیرمارشل نور خان کو “ٹماٹر” کہہ کر پکارتے تھے اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے ورکر انہیں روکتے تو آج سیاست اتنی آلودہ نہ ہوتی مگر نہیں روکا گیا یوں اخلاقی اقدار سے باہر آتی سیاست بھٹو صاحب کے دور تک نہیں رہی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اخلاق سے عاری طرز سیاست کو مستقل طور پر سیاسی مخالفین پر حملہ اور رہنے کے لئیے اپنایا گیا



:- ‏1988 کی الیکشن مہم کے دوران اب کی مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف صاحب نے اس طرز سیاست کو مزید فروغ دیتے ہوئے بیانات القابات سے آگے لے جاتے ہوئے اسے تصاویری روپ دیا محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ اور انکی والدہ محترمہ نصرت بھٹو صاحبہ کی مبینہ فحش تصاویر ہیلی کاپٹرز کے ذریعے حلقوں میں گرائی غیر اخلاقی تصاویر کا استعمال پہلی بار پاکستانی سیاست میں ہوا اور اس وقت کے نون لیگ کارکنان نے اس طرز سیاست جس نے سیاسی اقدار کا جنازہ نکال دیا کو روکنے یا اس کی مزمت کرنے یا پھر اپنے اکابرین سے اس حد تک کی اخلاق باختگی پر سوال نہیں اٹھایا اگر اس وقت سوال اٹھاتے تو آج سیاست اخلاقی دائرہ کار میں مقید ہوتی جوں جوں وقت گزرتا گیا سیاسی کرداروں نے سیاست کو مزید آلودگی کی جانب لے جاتے رہیں یہ سنہ 1993 کی بات ہے جب محترمہ بےنظیر بھٹو صاحبہ وزیر اعظم بننے کے بعد پیلے رنگ کے لباس میں اسمبلی پہنچی تو اس پیلے رنگ کی بنیاد پر جناب میاں محمد نواز شریف صاحب نے انہیں”ٹیکسی” کا لقب دیا اس زمانے میں ٹیکسی لفظ کو کسی اور تناظر میں بھی استعمال کیا جاتا تھا نواز شریف صاحب کی جانب سے ٹیکسی لقب پر نون لیگ اراکین اسمبلی نے میاں صاحب کو اس قدر داد دی کہ محترمہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے یہ سلسلہ یہاں تک ہی رہتا اے کاش کے سیاسی کردار ہوش کے ناخن لیتے ممبران اسمبلی ایوان کا تقدس بچانے کے لئیے زمہ دارانہ کردار ادا کرتے تو بھی اج سیاست اخلاقی اقدار میں ہوتی مگر موروثیت کے ہاتھوں پرغمال جمہوریت میں کسی نے ضمیر کو نہیں سنا فحش گوئی جملے بازی کو سیاست میں قابل فخر ہتھیار سمجھا گیا اور اسے زور و شور سے مخالفین پر استعمال کیا جانے لگا کیونکہ مدمقابل ایک خاتون تھی آگے چل کر اسی خاتون محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ کو پھر سے غیر اخلاقی جملہ بازیوں سے ہراساں کیا گیا ایک اسمبلی اجلاس (وقت اور سال یاد نہیں آ رہا) میں ان کی حکومت کے کسی فعل پر نکتہ اعتراض اٹھایا گیا تھا اس نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے محترمہ نے کہا کہ “مصروفیت کی وجہ سے میری ایک ٹانگ کراچی اور دوسری ٹانگ اسلام آباد میں ہے” ان کے اس جملے پر اس وقت کے ایک نون لیگی وزیر نے فقرہ کسا کہ “ملتان والوں کی تو پھر موج رہتی ہوگی”۔ یہ سن کر ن لیگ کے اراکین نے دل کھول کر ڈیسک بجائے اس قدر گرے ہوئے جملہ بازی سے محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ کی آنکھیں بھر آئی اور روتے ہوئے اسمبلی اجلاس سے چلی گئی
تاریخ کے آئینے میں زرا مزید جھانکےتاریخ کے اوراق پلٹتے جائے تو آپ کو وہ اسمبلی اجلاس کے مناظر بھی نظر آئیں گے جب محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ نے اپنے دور اقتدار میں اتفاق فاؤنڈری کے سکریپ امپورٹ پر ڈیوٹی لگا دی چونکہ اتفاق فاؤنڈری میاں خاندان کی ملکیت تھی ان کے اس عمل کا جواب میاں محمد نوازشریف صاحب نے اپنے دور اقتدار میں کچھ اس طرح دیا کہ انہوں نے آصف علی زرداری پر مختلف نوعیت کے کیسسز تیار کروا کر انہیں جیل کی کال کوٹھری میں بند کردیا ان کی اس طرز حکمرانی پر محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا کہ نواز شریف کے بس میں ہو تو یہ میرے بچوں سے دودھ بھی چھین لے جواب میں ن لیگ کے ایک وزیر نے جو کہا اس کے مقابلے میں اوپر زکر کردہ اخلاقی گراوٹ کچھ بھی نہیں اس قدر غلیظ زبان استعمال کی گئی اس بے شرم ممبر اسمبلی نے تمام حدوں کو پار کیا اور ایسا کرتے ہوئے اسے ایک لمحے کو بھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہ اجلاس میری بہن بیٹیاں بھی دیکھ رہی ہوں گی انہوں نے جس قدر نیچ زبان استعمال کی اس کا میں یہاں زکر نہیں کرسکتا کیونکہ میرے فیس بک احباب میں خواتیں بھی شامل ہیں کاش کہ اس وقت نون لیگ کے کارکنان باضمیر آراکین اسمبلی مقتدر حلقے یا پھر سفید عمارت میں براجمان انصاف کے ضامن ان گھناؤنے کرداروں کو شٹ اپ کال دیتے سیاست کو اس قدر غلاظت زدہ کرنے سے روکتے تو آج سیاست مادر پدر آزاد لوگوں کے ہاتھ میں نہ جاتی ماضی کی سیاست ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے اس میں سے چیدہ چیدہ آپ کے سامنے پیش کئے اب زرا ماضی قریب کی سیاست پر نظر دھراتے ہیں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سے لیکر اب تک کی سیاست میں جو کچھ ہوتا آ رہا ہے وہ آپ سبھی نے سنا بھی ہوگا ٹی وی اسکرینوں پر دیکھا بھی ہوگا زرداری صاحب شریف برادران کو چور، ڈاکو، لٹیرے، درندے، دھرتی کا ناسور مودی کے یار انڈیا کے وفادار اور رائے ونڈ کا مجیب الرحمٰن تک کے القابات سے مخاطب کرتے رہے اور انکے مدمقابل کردار میاں صاحبان نے سرعام زرداری کا پیٹ پھاڑنے، سڑکوں پر گھسیٹنے اور الٹا لٹکانے سے لیکر دیگر بہت سے جملے استعمال کئے بھٹو صاحب کے دور سے شروع ہونے والی اخلاق باختہ سیاست میاں صاحبان سے ہوتے ہوئے محترمہ مریم نواز صاحبہ تک پہنچ گئی اب کے ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے بجائے ایک تیسری سیاسی قوت سیاسی شخصیت نے لے لی اس تیسری سیاسی قوت جو کہ عمران خان تھے کے مقابلے میں پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی اشتراک میں آ گئے عمران خان کی سیاسی پوزیشن بہتر ہوتے ہی ان کے لئے جو القاب استعمال کئے جانے لگے، ان میں سے چند ایک میں یہاں لکھ دیتا ہوں۔ ‏کوکینی، زانی، لونڈے باز، نشئی، بدکردار، نااہل، نالائق، پاگل، فتنہ، ناسور، یہودی ایجنٹ یہ ان کی زات تک کے القابات تھے ان کے کنبہ کی خواتین اور ان کی بہنوں سے لیکر ان کی اولاد تک کو جن القابات سے نوازا گیا جس طرح کے غیر اخلاقی جملے استعمال ہوئے اس کا زکر یہاں میں مناسب نہیں سمجھتا کیونکہ آپ سبھی ان سے آگاہ ہے یہ طرز سیاست یہاں تک نہیں رہی عمران خان کے جلسوں میں پارٹی ترانوں پر خواتین کے جھنڈے لہرانے کے لئے “مجرے” کا لفظ استعمال کیا گیا عمران خان کے جلسوں میں شامل خواتین کو “فاحشہ” اور “کنجریاں” تک بھی کہا گیا بدلے میں عمران خان نے مخالفین کی خواتین یا ان کے کنبہ پر غیر اخلاقی زو معنی جملے استعمال کرنے سے اجتناب کرتے رہے ہاں مگر انہوں نے میاں صاحبان اور پیپلز پارٹی کے چئیرمیں کو چیئرمین کے حوالے سے غیر سیاسی جمہوری القابات استعمال کرنے میں زرا بھر سیاسی اقدار کا خیال نہیں رکھا سیاسی کرداروں نے سیاست کو آلودہ کرنے میں یہی تک اکتفاء نہیں کیا اس گندگی کو مزید بڑھایا گیا اور اسے باقاعدہ مبینہ آڈیوز سے لیکر غیر اخلاقی ویڈیوز تک پہنچا دیا آج کی اس سیاست میں آڈیوز اور ویڈیوز تک سیاست کو کس نے پہنچایا ان کرداروں سے بھی آپ بخوبی آگاہ ہے کن کن شخصیات کی کیسی کیسی ویڈیوز منظر عام آئی چشم نم نے وہ سب دیکھا اس نہج میں بھی کاش کہ سیاسی کارکنان سیاسی اکابرین کو احساس ہوتا کہ ہم نے سیاست کو آلودہ کرنے میں کیسے کیسے حربے اپنائے اب بس اب مزید نہیں ہم نے اس سیاست کو نسل نو میں منتقل بھی کرنا ہے اب ہمیں حد کا تعین کرنا ہوگا سیاست کو اخلاقی اقدار کے خوبصورت لبادہ میں رکھنا ہوگا مگر نہیں یہ احساس تیسری نسل تک کے سیاسی کرداروں میں بھی نہیں جاگا بلکہ دوسری اور تیسری نسل کے سیاسی کرداروں نے اسے سب سے خطرناک ہتھیار سے مزین کیا مخالفین کو سیاسی میدان میں گرانے کے لئیے مزہب کا استعمال من پسند تشریح کے زاویے میں شروع کیا اور ہمیشہ کی طرح موروثیت کو دوام بخشنے والے سیاسی کارکنان نے تیسری نسل کی غلامی کا بستہ اٹھائے انہیں اس خطرناک ترین ہتھیار کے استعمال پر ان کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے۔ طور ایندھن ان کی سہولت کاری بھی نبھانی شروع کردی یوں بڑے منعظم طریقوں سے سیاسی کرداروں پر توہین مذہب کے الزامات لگانے شروع کردیے گئے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سیاسی لیڈر پر بلاسفیمی کے مقدمے درج ہوئے



یہ تمام تر حقائق آپ کے سامنے اس لئیے پیش کر رہا ہوں کہ آج عمران خان نے اپنے سیاسی کیریئر میں پہلی بار اولیاء کے شہر ملتان میں جلسے سے خطاب کے دوران محترمہ مریم نواز صاحبہ پر جملہ کسا ان کے اس جملے کی میں مزمت کرتا ہوں اور بطور قلمکار اس مکالمہ سے قبل دو تحریروں میں اپنے خیالات کا اظہار کرچکا ہوں عمران خان کے غیر اخلاقی جملے کے بعد سوشل میڈیا سے لیکر ٹی وی چینلز تک کی اسکرینوں میں ‏آج سیاسی جماعتوں کے کردار ہمیں اور قوم کو نسل نو کو یہ بتا رہے ہیکہ کہ سیاست میں بدزبانی کا کلچر عمران خان نے متعارف کروایا ہے اس شخص کی وجہ سے ہماری سیاست آلودہ ہو چکی ہے اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں ماسوائے اس کے کہ بدزبانی کا کلچر عمران خان نے متعارف کرایا درحقیقت یہ کلچر متعارف بھی پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نے کروایا اور انہی دونوں جماعتوں نے دہائیوں پر مشتمل سیاست میں اسے بطور ہتھیار مستقل طور پر استعمال میں رکھا پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان مسلم لیگ کی طرح ابھی تک مزہبی کارڑ استعمال نہیں کیا، یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں محترمہ بینظیر بھٹو کے بعد اگر کسی کی بدترین کردار کشی اور اس کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا ہے تو وہ عمران خان ہے ‏اور اس کے پیچھے کن لوگوں کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے وہ اوپر پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو ہی چکا ہو گا کاش کہ سیاسی کارکنان ماضی میں سیاست کو اخلاقی اقدار سے باہر لے جاکر غلیظ زدہ کرنے والوں کو روکتے یا پھر حال ہی کی سیاست میں بھی اپنے آکابرین کو ٹوکتے تو آج سیاست اس قدر آلودہ نہ ہوتی آج بھی ان سیاسی کارکنان کو یہ احساس نہیں کہ ان کے اکابرین نے سیاست کو کس نہج تک پہچایا آج بھی اخلاقیات سے عاری سیاست کو اور ان کے تخلیق کردہ کرداروں کے حق میں دلائل پیش کرتے ہوئے انہیں صحیح ثابت کرنے میں مصروف عمل ہیں سوشل میڈیا بلخصوص فیس بک میں آپ سبھی ملاحظہ کر چکے ہوں گے کہ آج بھی یہی سیاسی کارکنان چند بڑے سیاسی کرداروں کی سربراہی میں بھی مخالف سیاسی کرداروں کے لئیے ان کی بہنوں بیٹیوں اور بیگمات پر جس قدر گری ہوئی زبان استعمال کر رہے ہیں وہ آپ ملاحظہ کر ہی رہیں ہوں گے اسی لئیے تو میں ان سیاسی کارکنان کو ہی سیاست کو اس آلودگی کی نظر کرنے کا زمہ دار ٹھہراتا ہوں ۔

ماضی کے احوال کو یاد دلانے کے لئیے پیارے دوست انصار آپ کا مشکور ہوں
میں اس پر لکھنے کا عزم کر بیٹھا تھا کہ ایسے میں آپ نے میرا حوصلہ بڑھا دیا

ادارہ سی این پی اردو کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

سی این پی ارد و پر اپنی تحریریں شائع کروانے کے لیے اپنی تحریر ( 5300061 0313 ) پر واٹس ایپ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں