1,038

علامہ اقبال اپنی دانش کے آ ئینے میں

از قلم ؛ صغریٰ نور

شاعر مشرق علامہ اقبال 9 نومبر 1877 میں پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے آ پ کے والد کا نام شیخ نور محمد اور والدہ کا نام امام بی بی تھا علامہ اقبال نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر سیالکوٹ میں ہی حاصل کی تھی 1885 میں علامہ اقبال گورنمنٹ کالج لاہور گئے وہاں 1889 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کا امتحان پاس کیا اسی سال کے اندر ہی وہ اورنٹل کالج لاہور میں عربی پروفیسر مقرر ہوئے پہر وہ 1905 تک اسی عہدے پر فائز رہے اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ گئے اور لندن جا کے انہوں نے قانون law کی ڈگری حاصل کی 1908 میں انہیں یونیورسٹی سے فارسی فلسفی کے کام پر p.h.d کی ڈگری ملی یہی وجہ ہے کہ انہیں ڈاکٹر محمد اقبال کہا جاتا ہے 1922 میں انہیں برطانوی حکومت نے سر کا لقب دیا علامہ اقبال کو عام طور پر عظیم شاعر کی حیثیت سے بھی یاد کیا جاتا ہے وہ مشرقی اور مغربی فلسفوں کے ماہر تھے اور آ پ نے مضمون ایم اے فلسفہ میں گولڈ میڈل حاصل کیا آ پ کی شاعرانہ زندگی کا آغاز 1896 میں ہوا علامہ اقبال کی تصانیف ✍️ اقبال کی غزلیں فرھنگ کے ساتھ ضربِ کلیم علامہ اقبال شکوہ جواب شکوہ علامہ اقبال کی شاعری شاعر مشرق اقبال ڈے گائیڈ فار اسکول بانگِ درا لو بھی تو قلم بھی تو بال جبریل اطغان عجاز اسرار خودی”




علامہ اقبال کے خطباب ” علامہ اقبال کی تقریر زبان کا گناہ اور انکا اسلامی علاج۔ آ واز زیست متحدہ قومیت کی تردید ھندو مسلم دو الگ قومیں مسلم ریاست کی ضرورت علہدا وطن کا مطالبہ خطبہ الہ آباد اسلام مکمل ضابطہ حیات خطبہ الہ آباد کے اھم نکات مسلم ایک قوم ہے اسلام ایک زنداں قوت ہیں ” علامہ محمد اقبال اپنی دانش کے آ ئینے میں ایک بے مثال مبلغ اسلام ہیں جنہوں نے شاعری کے ذریعے مسلمانان برصغیر کے اندر آ زادی کی روح پہونکی جس کی مثال عصر حاضر کے ذرائع ابلاغ کے باوجود اپنی بے پایاں جوت ومعیت کے اور آ زادی کے بلند بانگ نعروں کے پیش نھیں کر سکتے علامہ اقبال اسلام اور اس کے پیغام کے بارے میں نہایت سنیید الایمان تہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انکی محبت شغف اور انکا اخلاص انتہائی درجے کا تہا اسلئے ان کے نزدیک اسلام ہی ایک ایسا زندا جاوید دین ھے کہ اس کے بغیر انسانیت فلاح سعادت کے بام عروج تک پہنچ ئی نہیں سکتی اقبال کی شخصیت کو بنانے والا دوسرا عنصر وہ ھے جو آ ج مسلمان گھرانے میں موجود ہے مگر افسوس کہ آ ج خود مسلمان اس کی روشنی سے محروم اس کے علم و حکمت سے بے بحرا ہیں میری مراد اس سے قرآن مجید ہے اقبال کی زندگی کی یہ عظیم کتاب ہے ان پر ایسا اثر ڈالا ہے اقبال کا قرآن پڑھنا عام لوگوں کے پڑھنے سے بہت ہی مختلف رھا ھے جیسا کہ خود اقبال نے اپنے قرآن مجید کے پڑھنے کے سلسلے میں ایک واقعا بیان کیا ہے کہ انکا یہ ھمیشہ کا دستور العمل رہا تھا کہ روز نماز فجر کے بعد قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے ھیں اقبال کے والد جب انھیں دیکہتے تو فرماتے کیا کر رہے ہیں اقبال نے پوچھا ابا جان آ پ مجھ سے روزانا پوچھتے ہیں اور میں ایک ہی جواب دیتا ہوں اور آ پ خاموش چلے جاتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میں تم سے کہنا چاہتا ہوں کہ قرآن اس طرح پڑہا کرو کہ جیسے قرآن اسی وقت تم پر نازل ہو رہا ہے اس کے بعد سے اقبال نے قرآن برابر سمجھ کر پڑھنا شروع کیا اور اس طرح کے گویا وہ واقعی ان پر نازل ھوا ہے اپنے ایک شعر میں میں بھی وہ اسکا اظہار یوں فرماتے ہیں کہ۔ ” ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف جوں جوں زندگی کے دن گزرتے گئے اقبال کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ الھانا محبت و الفت بڑھتی ہی گئی یھاں تک کہ آ خری عمر میں جب بھی ان کی مجلس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر آ تا مدینہ منورہ کا تذکرہ ہوتا تو اقبال بے قرار ہو جاتے آنکہیں بہر آ تیں یہاں تک کہ آ نسو رواں ھو جاتے یہ ہی وہ گھری محبت تھی جو ان کی زبان سے الہامی شعروں کو جاری کر دیتی تھی علامہ اقبال اسلام اور اس کے پیغام کے بارے میں نہایت شدید الایمان تہے علامہ اقبال نے زندگی کے آخری ایام کشمیر میںان گزارے علامہ اقبال کی وفات 21 اپریل 1938 میں ہوئی علامہ اقبال مدفون ہوئے حضوری باغ بادشاہی مسجد لاہور میں کیا گیا ،

ادارہ سی این پی اردو کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

سی این پی ارد و پر اپنی تحریریں شائع کروانے کے لیے اپنی تحریر ( 5300061 0313 ) پر واٹس ایپ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں