1,038

غزوہ احد اور معرکہ موجود

تحریر ؛ ام محمد عبدالله

میں احد پہاڑ کے سامنے کھڑی ہوں۔ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پڑھا ہوا غزوہ احد میری نگاہوں میں گھومنے لگا ہے۔
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی کے آخری سرے پر گھاٹی میں اپنا کیمپ اس طرح لگوا چکے ہیں کہ پیچھے اُحد پہاڑ، سامنے مدینہ اور درمیان میں کفّار کا لشکر ہے۔ رسول اللہؐ کی بصیرت افروز نگاہیں میدانِ جنگ کا بھرپور جائزہ لے رہی ہیں۔ آپؐ نے پچاس تیراندازوں کو حضرت عبداللہؓ بن جبیر انصاری کی قیادت میں عینین کے درّے پر مامور فرما دیا ہے۔ میری نگاہیں اس چھوٹی سی پہاڑی اور اسلامی کیمپ  کے مابین ڈیڑھ سو میٹر کا فاصلہ ناپ رہی ہیں۔
  جبلِ رماۃ نامی اس پہاڑی پر  تیراندازوں کو تعیّنات کرتے ہوئے آپؐ سختی سے تاکید فرما رہے ہیں کہ تمہارا کام دشمن کو تیر مار کر ہم سے دُور رکھنا ہے تاکہ وہ پُشت سے حملہ نہ کر پائے۔ ہم جیتیں یا ہاریں، تمہیں اپنی جگہ ہی پر ڈٹے رہنا ہے۔ جب تک مَیں نہ بلاؤں، جگہ نہ چھوڑنا۔ آپؐ فرما رہے ہیں:
’’اگر تم لوگ دیکھو کہ ہمیں پرندے اُچک رہے ہیں، تو بھی اپنی جگہ نہ چھوڑنا۔ یہاں تک کہ مَیں بُلا بھیجوں اور اگر تم لوگ دیکھو کہ ہم نے مشرکین کو شکست دے دی ہے اور اُنہیں کچل دیا ہے، تو بھی اپنی جگہ نہ چھوڑنا، یہاں تک کہ مَیں بُلا بھیجوں۔“
اس اہم مورچے کو محفوظ بنا کر آپؐ مزید لشکر کی صف بندی میں مصروف ہو چکے ہیں۔




وقت گزر رہا ہے۔ جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ کہیں حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہٗ شمشیر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ادا کر رہے ہیں اور کہیں نو بیاہتا حضرت حنظلہؓ شجاعت و بہادری کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ اور انہی دو پر کیا موقوف وہاں تو سب ہی جانثاران رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمنان اسلام پر قہر بن کر ٹوٹ رہے ہیں۔ کفار شکست کھا کر بھاگ رہے ہیں۔ مسلمان فوج مال غنیمت اکھٹا کرنے کی ابتدا کر چکی ہے۔
گھاٹی پر تعینات تیر انداز مسلم لشکر کو مالِ غنیمت اکٹھا کرتے دیکھ کر پہاڑی سے نیچے اتر رہے ہیں. پہاڑی پر صرف حضرت عبد اللہ بن جبیرؓ اپنے نو ساتھیوں کے ساتھ رہ گئے ہیں۔

اس سے پہلے کے کتابوں میں پڑھا گیا شکست خوردہ کفار کا عقب سے کیا گیا حملہ اور میدان جنگ کا بدلتا ہوا نقشہ، مسلمانوں کا زیر اور کفار کا زبر ہونا میری نگاہوں کے سامنے مجسم ہو جائے میں تیر انداز دستے کو آوازیں دینے لگتی ہوں۔
اے جانبازو! حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان جب تک میں نہ کہوں نیچے نہ اترنا چاہے ہم ہار جائیں یا جیت کر مال غنیمت سمیٹنے لگیں کو پسِ پشت نہ ڈالو۔ مال اکھٹا کرنے میں نہ لگ جاؤ۔ جنگ کا نقشہ بدل جائے گا۔ میں بےقرار ہو کر گھاٹی کی جانب بھاگتی ہوں۔ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے نو ساتھیوں کا دسواں ساتھی بننا چاہتی ہوں کہ امی عائشہ رضی اللہ عنھا کی آواز دامن تھام لیتی ہے۔ آپ مجھ سے مخاطب ہیں: ”اے میری بیٹی! نبی مہرباں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم صرف تیر انداز دستے کو ہی نہیں تمہیں بھی کوئی مورچہ سونپ گئے ہیں۔ تمہارے لیے بھی  فرمان رسولﷺ ہے کہ تمہارے لئے لازم اور ضروری ہے کہ تم اپنے گھروں میں رہو پس یہی تمہارا جہاد ہے۔




میں ٹھٹھک کر رک جاتی ہوں مگر ایک صحابیہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت سے سرشار بارگاہ رسالت میں سوال کرتی ہیں۔ اے رسول اللہ ﷺ! اللہ تعالی نے مردوں کے لئے جھاد کو فرض کیا اور مرد جھاد میں شریک ہوتے ہیں اور مال غنیمت پاتے ہیں اور اگر وہ شھید ہو جائیں تو اپنے رب کے پاس انھیں رزق دیا جاتا ہے جہاں وہ زندہ ہیں، پھر انک ے مساوی ہمارے لیے کون سا عمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں:
 “اپنے شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کرو اور ان کے حقوق کو پہچانو‘‘۔ (یہ جہاد کے برابر ہے)

میں جہاں ہوں میرے قدم وہیں جم گئے ہیں۔ نگاہوں کے سامنےکا منظر بدل چکا ہے. خطہ ارضی میدان جنگ نظر آ رہا ہے۔ کفار و مومنین کے لشکر آمنے سامنے ہیں۔ گھر کے محاذ پر تعینات مسلمان عورتیں اپنے مورچے پر نہیں ہیں۔ بچوں کی پرورش کی ذمہ داری اور گھر کو جائے سکون بنانے کا جذبہ جہاد ماند پڑ چکا ہے۔ مال غنیمت کی کشش کہیں اپنی خواہش پر، کہیں کسی مجبوری کی بنا پر اور کہیں جبراً انہیں اپنے محاذ سے ہٹا رہی ہے۔ دشمن چاروں جانب سے حملہ آور ہیں اور مسلم لشکر بدحواس ہو کر اپنوں ہی کو اپنے پاؤں تلے کچل رہا ہے۔
میں جامد ساکت جہاں کھڑی ہوں، بت بن چکی ہوں۔

میدان جنگ لشکر اسلام سے مطالبہ کر رہا ہے کہ مسلم عورت انسان سازی کا کام کرے مگر وہ تو مغرب کی اندھی تقلید میں ہے۔ بچوں کی اچھی تربیت کر کے، انہیں حافظ قرآن، عالم و داعی دین، مجاہد و سائنس دان بنا کر، گھر کو جنت بنا کر جنت پانے کا مقصد حیات کہیں کھو گیا ہے۔ جلد از جلد، ابھی اور اسی وقت مردار دنیا کے حصول کی خواہش غالب آ چکی ہے۔ آہ، جیسے غزوہ احد میں گھاٹی پر متعین دستہ غنیمت غنیمت کرتا اپنا مورچہ چھوڑ رہا تھا بالکل ویسے ہی ترقی ترقی، آزادی و حقوق نسواں کرتے کرتے مسلم عورت اپنا مورچہ اپنا گھر چھوڑ رہی ہے۔ یہیں سے لشکر کفار حملہ آور ہے۔ گھروں میں بے یارومددگار بچوں کی شہ رگ پر آن لائن گیمز اور دیگر خرافات دشمن کے کسی تیز دھار خنجر کی مانند رکھی ہیں۔
میں گھبرا کر چار جانب دیکھتی ہوں۔




عورت سے متعلق مسلم لشکر کا زاویہ نگاہ بدلا بدلا ہے۔ حضرت خدیجہؓ کی بے مثل پشت پناہی، حضرت سمیہؓ کے خون کی سرخی، حضرت ام حبیبہؓ اور حضرت ام سلمہؓ کی مشکلات میں ثابت قدمی، حضرت عائشہؓ کی ذات گرامی سے پھوٹتی علم کی روشنی اور حضرت فاطمہؓ کی تربیت اولاد کی تقلید کی بجائے مسلم معاشروں کو عورت کا کوہ پیما، کھلاڑی، سیاست دان، باکسر، ہوا باز وغیرہ بننا مرغوب ہو رہا ہے۔ اس سب کے حصول کے لیے مسلم عورت اپنا گھر، اپنا مورچہ چھوڑ رہی ہے اور جیسے جیسے وہ اپنا مورچہ چھوڑ رہی ہے قلب، مقدمہ، میمنہ، میسرہ ساقہ سب کے سب اپنے مقام سے ہٹ رہے ہیں۔ نہ کوئی نظم باقی ہے نہ ترتیب۔
آہ جبل رماة، آہ گھر کا مورچہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں غزوہ احد کے وقت حاضر نہیں تھی میں غنیمت غنیمت کرتے تیر اندازوں کو پکار نہیں سکتی تھی۔
مگر میں رزم حق و باطل کے اس معرکے میں موجود ہوں۔
اے امت!
میں تمہیں پکار رہی ہوں۔
مسلم عورت کا جہاد گھر کو جنت اور اولاد کو باکردار مسلمان بنانا ہے۔
اس کا مورچہ اس کا گھر ہے جسے اسے جنت بنانا ہے۔
اپنی نرم گرم آغوش میں تعلیم و تربیت کے پیاسے ایڑیاں رگڑتے نونہالوں کو قرآن و سنت کے چشمے سے سیراب کرنا ہے۔ 
اے امت اپنے گھر کے مورچے کو محفوظ بناؤ۔ دشمن کے عقبی حملوں کو روکو۔  معرکہ موجود میں اپنے لشکر کا نظم درست کرو۔

ادارہ سی این پی اردو کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

سی این پی ارد و پر اپنی تحریریں شائع کروانے کے لیے اپنی تحریر ( 5300061 0313 ) پر واٹس ایپ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں