1,039

چیئرمین فیڈرل تعلیمی بورڈ نجی تعلیمی اداروں کے مسائل سامنے لانے والی خاتون ممبر بورڈ پر سیخ پا

اسلام آباد (خان گلزار حسین سے )چیئرمین فیڈرل تعلیمی بورڈ نے نجی تعلیمی اداروں کے مسائل سامنے لانے اور اتھارٹی کی جانب سے فوری ایکشن کی توقع رکھنے والی خاتون ممبر بور ڈ پر سیخ پا ہوگئے ، چیئرمین بورڈ کی چیخ چیخ کر سر آسمان پر اٹھا لیا، خاتون ممبر کے ساتھ تلخی کرتے ہوئے بدتمیزی کی حدیں ہی کراس کر ڈالی ، کنٹرولر امتحانات سمیت دیگر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کرتے رہے، خاتون ممبر بورڈ کے ساتھ ناروارویے پر نجی تعلیمی اداروں کی تنظیم نے چیئرمین بورڈ کے برطرفی اور اعلی سطح انکوائری کا مطالبہ کردیا۔بتایاجاتاہے کہ مسز سکینہ تاج فیڈرل تعلیمی بورڈ کے چیئرمین سید قیصر عالم سے ملاقات کرنے کے لئے ان کے آفس میں گئیں




اور فیڈرل تعلیمی بورڈ سے متعلقہ تعلیمی اداروں کے مسائل ان کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ فیڈرل تعلیمی بورڈ نے میٹرک کے امتحانات کی ڈیٹ شیٹ میں مختلف مضامین میں مناسب وقفہ نہیں رکھا کرونا کے باعث کافی عرصہ تک تعلیمی سرگرمیاں بند رہیں جس کی وجہ سے بچوں کی مناسب تیاری نہیں ہو سکی لہذا بورڈ حسب روایت ایک پیپر کے درمیان تین چار دنوں کا وقفہ دے اور دوسرا مطالبہ یہ سامنے رکھا کہ طلبہ کی رول نمبر سلیپس تک رسائی صرف سکولز مالکان کو دی جائے اور سکول انتظامیہ ہی طبہ تک رول نمبر سلپ پہنچانے کی ذمہ دار ہو۔ مسز سکینہ زاہد کے مطابق چیئرمین نے کہا آپ کو بی۔ او جی فیڈرل بورڈ کی ممبر بنانے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ آپ تعلیمی اداروں کے مسائل میرے سامنے لے کر آئیں بی او جی ممبر کی نشست فیڈرل تعلیمی بورڈ میں فرضی ہے، سکینہ تاج کاکہناتھاکہ اس پر میںنے کہا کہ




اگر فرضی طور پر ہمیں بی۔او۔جی کا ممبر بنایا ہوا ہے تو میں اس عہدہ سے استعفی دینے کے لیے تیار ہوں اگر ہم فیڈرل تعلیمی بورڈ میں لوگوں کے مسائل حل نہ کر سکے تو پھر ہمارا ممبر ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے،اس پر چیئرمین فیڈرل تعلیمی بورڈ نے کنٹرولر امتحانات اور دیگر مہمانوں کی موجودگی میں مجھ پر چیخنا چلانا شروع کر دیا اور انتہائی بدتمیزی سے پیش آیا۔ آل پاکستان پرائیویٹ سکول مینجمنٹ ایسوسی ایشن راولپنڈی ڈویژن کے صدر ابرار احمد خان نے چیئرمین فیڈرل تعلیمی بورڈ کے اس ناروا اور ہتک آمیز سلوک کے خلاف آئیندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لئے تنظیم کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا اور وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین سے مطالبہ کیا کہ اس چیئرمین کو فوری طور پر اس کے عہدے سے برطرف کیا جائے اسے خواتین سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے ورنہ ہماری تنظیم دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر راست اقدام کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں