1,052

ملتان کے عبدالستار ایدھی : باباجان خضر عباس

ملتان (ملک شاہد عزیز ) انسا نوں سے پیار و محبت اور ضرورت مند انسا نوں کی مددکے عمل کو ہر دین اور مذہب میں تحسین کی نظر سے دیکھا جا تا ہے لیکن دینِ اسلام نے خد مت ِ انسا نیت کو بہترین اخلا ق اور عظیم عبا دت قرار دیا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے انسا نوں کو یکساں صلا حیتوں اور اوصاف سے نہیں نوازا بلکہ اُن کے درمیان فرق وتفا وت رکھا ہے اور یہی فرق و تفاوت اس کا ئنات ِرنگ وبو کا حسن و جما ل ہے ۔انسان کو درد ِدل کے واسطے پیدا کی گیا ہے۔ اور یہی وصف ایک آدمی کو انسان بناتا ہے ۔ مگر اس جہانِ خرابہ میں جہاں لوگ مال و زر ، طاقت اور سماج کے باب میں خود کو بہ حیثیت متمول دیکھنا چاہتے ہوں ، اور اس کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ہوں ، کسی کا بھی مال کھا سکتے ہوں، تو ایسے میں انسانیت اس انسان نما مخلوق کے ساتھ اپنے تعلق پر شرماتی ہوئی نظر آتی ہے۔




مگر اس دنیا ئےبے ثبات میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ہر لمحہ ہم دم انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے سر بسر مصروفِ عمل ہیں ۔ جن کا یہ سفر کسی طور بھی مستقر نہیں بلکہ ان کے جذبے کو مزید ممتد بناتا ہے۔ میں نے جس شخصیت کو ”ملتان کا عبدالستار ایدھی“ کہا ہے وہ واقعی ہی ایدھی صاحب کا پرتو ہیں ۔ ہر چند ان کی ذاتی شخصیت بھی ازبس متاثر کن ہے مگر مجھے یہ استعارہ بہ عوض مجبوری استعمال کرنا ہوگا۔ ایدھی صاحب پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا معتبر حوالہ ہیں جو پاکستانی قوم کے لئے قابل ِ فخر ہیں ۔ جنہوں نے بغیر کسی نسلی و مذہبی افتراق کے انسانیت کے لئے خدمت کی اور کسی بھی طرح کی Reciprocation کی خواہش نہیں کی ۔
”بابا جان خضر عباس“ ملتان میں ایک غیر روایتی فلاحی ادارہ چلاتے ہیں ۔ جس میں یتیم اور بے سہارا بچوں کو جدید طرز کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ ”ہمدرد“ سکول کسی بھی جدید ترین بچوں کے تعلیمی ادارے سے کم نہیں۔ جدید نصاب، جدید ترین طریقۂ تعلیم اور ماہر اساتذہ کی زیر ِ نگرانی اس ادارے کے معیارات و اوصاف ہیں۔ بچوں کو تعلیم غیر روایتی دی جاتی ہے، ان کی ذہن سازی ان کی ذہنی صلاحیت کے حوالے سے کی جاتی ہے ۔ یہ ادارہ نرسری سے کلاس دھم تک کی تعلیم فراہم کرتا ہے جو بچوں کی ذہنی استطاعت کے مطابق ہو۔ دو تین یا پھر چار سال تک کے لئے میڑک کی تعلیم بھی فراہم کرتا ہے۔بابا جان خضر ادارہ کی خود نگرانی کرتے ہیں ، اور بچوں کی خوب نفسیات سمجھتے ہیں ۔ ان کے سکول میں قریب سو طلباء زیر تعلیم ہیں جو بے سہارہ او ریتیم ہیں ۔ ادارہ کی طرف سے بچوں کو ہر طر ح کی سہولیات حاصل ہیں۔ تعلیم ، رہائش، کپڑے سمیت کھانے کے انتظامات بھی ادارہ خود کرتا ہے۔
اپنے ایک انٹرویو میں خضر عباس صاحب بتاتے ہیں کہ:



”میر ی اپنی کوئی اولاد نہیں ,میں اپنی ساری زندگی ان معصوم بچوں میں صَرف کرنے کا مصمم ارادہ رکھتا ہوں۔ یہی سارے بچے میری اولاد ہیں ، جو مجھے جان سے بڑھ کر عزیز ہیں ۔ جب وہ سکول سے پڑ ھ کر واپس آتے ہیں اور بابا جان کہہ کر پکارتے ہیں تو بے اولادی کا احساس اسی وقت دم توڑ جاتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ بچے خوب تعلیم حاصل کرکے اچھے شہری بنیں اور معاشرے میں اپنی جان پہنچان بنائیں ۔ اور میں ان کے تابناک فردا کا منتظر ہوں ، جس کا مجھے قوی یقین ہے کہ ہی ایسا ہو گا،“

ترقی پسندی اور جدیدت کے اس دور میں جہاں تعلیم اور مذہب کے معیارات یکسر بدل چکے ہوں۔ مذہب کو ذاتی مسئلہ اور ثانوی حیثیت دی جارہی ہو۔ اور تمام جدید تعلیمی ادارے بچوں کو دینیات سکھانا فعلِ لا یعنی سمجھتے ہوں ، اور جدید تہذیبوں اور معیارات کو اخلاقیات کا نام دے کر سماجی شعور کے مظاہرے کرتے ہوں وہیں بابا جان خضر عباس بچوں کی ذہن سازی مذہبی حوالے سے بھی کرتے ہیں ۔ اور دین ِ اسلام کو انسانیت کے مذہب کے طور پر بچوں کو متعارف کرواتے ہیں جس میں کسی قسم کی تفریق نہیں بلکہ ان کے نزدیک مساوات ہی دین ِ اسلام ہے۔
یہ کام اصل میں تو مسلمان حکومتوں کے کرنے کا ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کو اس طرف دھیان دینے کی فرصت ہی کہاں ہے۔ مگر بابا جان نے یہ ثابت کر دیا کہ انفرادی طور پر ایدھی ویلفیئر اور الخدمت فاؤنڈیشن کے طرز پر چھوٹے پیمانے پر بھی یہ کام کیا جا سکتا ہے۔جس معاشرے میں غریبوں پر ظلم ، حقداروں کے حقوق کا استحصال اور ، یتیموں کا مال کھایا جانا کوئی بڑا گناہ نہ سمجھتا ہو تو نامرادی ایسی قوم کا مقدر بن جاتی ہے ۔ مگر خدا کی ذات بڑی بے نیاز اور رحم کرنے والی ہے۔ وہ ایسے ہی بے سہار اور مجبور لوگوں کے لئے اپنے نیک بندے تعینات کر دیتے ہیں ۔ ملتان جیسی دھرتی جسے سرزمین ِ اولیاء بھی کہا جاتا ہے ، اس میں بابا خضر جیسے لوگوں کا موجود ہونا ، خدا ئے بزرگ و برتر کی شان کریمی اور نعمت سے کم نہیں۔
انسانیت کے حقوق کے ذیل میں یہ واقعہ کہ آنحضورؐ نبوت سے قبل معاہدہ حلف ا لفضول میں شریک ہوئے تھے ۔ ابن سعد اور ابن حشام نے اس کا تذکرہ کیا ہے کہ:
” مکے میں کمزور وں پر ظلم ہوتا تھا اور ان کے حقوق غصب کئے جاتے تھے ۔ قریش کے کچھ زعما جمع ہوئے اور ایک معاہدہ طے پایا جس کے ذریعے ظلم اور انسانی حقوق کی حق تلفی کا ازالہ مقصود تھا۔نبی اس معاہدے میں شریک ہوئے اور فرمایا :مجھے اس کے عوض سرخ اونٹ بھی قبول نہیں اور اسلام کے بعد بھی کسی ایسے معاہدے کے لئے مجھے دعوت دی جائے تو میں خوشی سے اس میں شریک ہوں گا۔“
انسانیت کو سب سے بڑا دھرم ماننے والےبابا جان خضر عباس کہتے ہیں کہہ:
،”یاد رکھئے انسانیت کو زندہ رکھنے اور اس کی تمام بنیادی ضروریات کی تکمیل کرنا ہر صاحبِ استطاعت شخص پر فرض ہے۔ لہٰذا مصیبت کے اس وقت میں مذہب اور ذات پات سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خاطر باہم مدد کرنے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ایک اچھا سماج وہی ہوتا ہے جس کے اندر انسانی حقوق اور سب کے ساتھ مساویانہ سلوک کو اختیار کیا جاتاہے۔ اونچ نیچ اور بھیدبھاؤ سے سماج میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔“



قاسم پارک، سبزہ زار، ملتان میں واقع ”ہمدرد“ سکول میں بابا جان خضر عباس اپنے کئی بچوں کے ساتھ آج بھی محبتیں ، شفاعتیں اور راحتیں بکھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بچوں کا بابا جان! کہہ کران سے لپٹ جانا ان کے لئے وسئلہ راحت ہے۔ خالق و باری تعالیٰ بابا جان کو عمر خضر عطا فرمائے۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں