1,104

مری کو مرنے سے بچایا جائے

تحریر: پروفیسرڈاکٹر نیا ز اکمل

موسم کی اطلاعات دینے والے ادارے نے پھر متنبہ کیا ہے کہ 17جنوری کو برفانی طوفان آنے والا ہے، خبر دار ہوشیار! اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کہاں تک وارننگ کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے آنے والے بارش اور برف باری کے طوفان نے ہماری کارکردگی کے پول کھول دیئے۔ اس صورت حال پر کوئی ہنگامی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ برف باری سے نمٹنے کیلئے تمام تر اقدامات اٹھائے جاتے لیکن اس طرف کوئی توجہ نہ دی گئی۔ حکومت کا شعبہء مراثیات بھر پور متحرک تھا کہ عوام کا معاشی سٹیٹس بہت بلند ہو گیا ہے، مری میں عوام بھر پور خریداری کر رہے ہیں بھر پور انجوائے کر رہے ہیں۔ غفلت کے تمام تر ریکارڈ توڑ دیئے غیر ذمہ داری کی تمام حدیں کراس کر لیں۔ قانون کی عملداری کا نام و نشان تک نظر نہیں آیا۔ مری چار ہزار سے زیادہ گاڑیوں کو برداشت نہیں کر سکتا، حکومت کی اطلاعات کے مطابق ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں مری میں داخل ہو چکی ہیں، اس کا مطلب چار پانچ لاکھ لوگ مری پہنچ چکے ہیں۔ جہاں حکومت کی عملی عملداری نہ ہو وہاں تو قانون کا رول ایک تماشائی کا سا بن جاتا ہے۔ پانچ لاکھ لوگوں کو جن میں ایک ڈیڑھ لاکھ سے زائد غیر ملکی سیاح بھی تھے جن کو وہاں کے خوں خوار درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ مقامی انتظامیہ آخر کہاں تک چلتی بلکہ اس لاپروائی اور غفلت کے نتیجے میں پانچ ہزار فی گاڑی ٹوکن دیگر مراعات کوئی روک ٹوک نہیں، بارش برف باری کے طوفان کے ساتھ عوام کا بے ہنگم اور تمام تر حدود سے مبرّا ژدھام۔ ہر قسم کے چیک اینڈ بیلنس سے آزاد ماحول۔ دکانداروں، عام لوگوں، ہوٹل والوں نے ماحول کی بے بسی سے عوام کو خوب لوٹا بلکہ لوٹنے میں بھر پور انجوائے کیا اور عوام کی بے بسی کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔ تین چار ہزار والے کمرے کا کرایہ چالیس پچاس ہزار روپے،گدے کا دس ہزار، ہیٹر کا فی گھنٹہ دس ہزارروپے، انڈا پانچ سو، چائے پانچ سو



۔ شدید برف باری کے طوفان اور سردی سے ٹھٹھرتے عوام کیا کرتے۔ حالات کی سنگین صورت حال غیر ملکی سیاح بیان کر رہے تھے۔ حکومت خاموش میڈیا خاموش، لوگ سردی،معاشی لوٹ مار اور بھوک سے مر رہے تھے۔ راستے برف باری، موسم کی سنگینی سے بلاک ہو چکے تھے، جو گاڑیاں چھوڑ کر نکل آئے وہ تو محفوظ ہو گئے جان جانے سے بچ گئے۔ باقی جن لوگوں نے موسم کی بہتری کا انتظار کیا ان کا وقت نے ساتھ نہیں دیااور وقت ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔دو گاڑیاں ایسی دکھائی گئیں جن میں موجود افراد کی ہلاکت ہو چکی تھی۔ ان کی ہلاکت کی دیگر وجوہات میں گیس بھی ہو سکتی ہے۔ اس کی اصل حقیقت تو وہی جان سکتے ہیں جو اس صورت حال سے دوچار ہوئے۔ حکومت کو حالات کی سنگینی سے سبق سیکھنا چاہیے اور مستقبل میں ایسے اقدامات اٹھانے چاہیئیں جس سے حالات سنگین نہ ہوں، قانون کی عملداری نظر آئے۔ سابقہ ادوار میں ایک میکنزم تھا، دس ہزار سے گاڑیاں زائد ہوتیں تو سسٹم بیٹھ جاتا تھا، بریک لگ جاتی تھی لیکن شاید حکومت چور ڈاکوؤں کو پکڑنے میں مصروف تھی، مری کے مقامی ڈاکوؤں نے عوام کو خوب لوٹا، خوب ستایا، ان کی بے بسی کا خوب مذاق اڑایا۔ قانون کہیں نظر نہیں آیا۔ اب مٹی پاؤ کی پالیسی کے تحت ایک انکوائری کمیٹی تشکیل پا گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ سطح پر جوڈیشل انکوائری کی جائے۔ غیر ملکی سیاحوں کی بہت بڑی تعداد سنگین صورت حال سے دوچار ہوئی ہے۔ اشک شوئی توہونی چاہئے لیکن یہ تو کوئی مسئلہ کا حل نہیں دو چار اہلکار معطل ہو جائیں۔ مری میں قانون پر عمل درداری کیلئے ادارے متحرک کئے جائیں۔ ہوٹلوں، دکانداروں کے ریٹ آویزاں کئے جائیں۔ شعبہ شکایات قائم کیا جائے جس کی وزیر اعلیٰ ہاؤس نگرانی کرے۔ شکایات کنندہ سے شکایت کے ازالہ تک ر ابطہ میں رہے۔





ایسے لوگوں پر نظر رکھی جائے جو بڑی گاڑیاں کھڑی کر کے راستہ بلاک کر تے ہیں۔ گاڑی کو دھکا لگانے کے پانچ ہزار، زنجیر سے گاڑی نکالنے کے دس ہزار، یہ لوگ اپنے فراڈ کے شعبہ میں پی ایچ ڈی ہیں۔ آخر کسی پر تو حالات کی سنگینی کی ذمہ داری ڈالنی ہو گی ورنہ یہ تماشا آئے دن ہوتا رہے گا۔ بلیک میلنگ، کساد بازاری، قانون شکنی چلتی رہے گی۔ قبضہ گروپ متحرک رہے گا، جنگل غیر محفوظ رہیں گے۔ راجہ راجیت سنگھ کا ڈھائی آنے میں بکنے والا مری واپس آ جائے تو تمام رونق بحال ہو سکتی ہے۔ غفلت، لاپرواہی سے تو مری کو صوبہ کا درجہ بھی دے دیا جائے حالات کی سنگینی ماند نہیں پڑ سکتی۔ اللہ میاں بھلا کرے فوج کا وہی لوگوں کو حالات کی سنگینی سے نکالتے رہیں۔ وہ بھی انسان ہیں اپنی ذمہ داری کو ہر فرد ہر ادارے کو محسوس کرنا چاہیے تاکہ ملک سے باہر بھی ہماری قانون پر عمل داری کی ساکھ بہتر ہو۔ ابھی سے اقدامات اٹھانے سے 17جنوری بھی محفوظ طریقہ سے گزر سکتا ہے ورنہ پھر عوام مری سے بیزار ہو جائیں گے۔ مری کو مرنے سے بچانے کی ضرورت ہے۔ قدرت کے حسین نظارے قدرت کا انعام ہیں، کوہسار بھی اس کے حسن کا حصہ ہے۔ اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ غفلت لا پرواہی کی موجودگی میں مری کو صوبہ کا درجہ دے دیں پھر بھی لوگ خوار ہوتے رہیں گے۔ ملک کا بیرونی دنیامیں امیج متاثر ہوتا رہے گا۔ حکومت کی بیان بازی اور میڈیاپر زندہ رہنے والے وزراء پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو حالات کی سنگینی کو بلند معیار زندگی کا لیبل لگا کر حالات کو سنگین کرتے رہتے ہیں۔

سی این پی ارد و پر اپنی تحریریں شائع کروانے کے لیے اپنی تحریر ( 5300061 0313 ) پر واٹس ایپ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں