1,079

عثمان مرزا کیس متاثرہ لڑکا لڑکی بیان سے مکر گئے، ملزمان کوپہچاننے سے انکار

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ ) اسلام آباد ویڈیو سکینڈل کیس میں انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ لڑکے اور لڑکی پر تشدد کی ویڈیو بنانے اور بلیک میلنگ کے کیس میں متاثرہ جوڑے نے ملزمان کو پہچاننے سے انکار کر دیا ہے۔ زیادتی کیس میں مدعی لڑکے اور لڑکی اپنے بیان سے مکر گئے متاثرہ جوڑے نے ٹرائل کورٹ میں بیان دے دیا ہے۔
مقدمہ اب اپنے منطقی انجام کو پہنچنے ہی والا تھا کہ متاثرہ جوڑے نے اپنا بیان بدل لیا ہے۔02 دسمبر2021ء کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عثمان مرزا کیس میں ایف آئی اے اہلکار مسعود علی پر ملزمان کے وکلاء نے جرح مکمل کرلی تھی۔جمعرات کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عطاء ربانی کی عدالت میں کیس کی سماعت کی گئی،مرکزی ملزم عثمان مرزا اور دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیاگیا،سماعت کے دوران ملزمان کے وکلاء نے گواہان پر جرح کی۔



ایف آئی اے اہلکار مسعود علی نے کہاکہ میرے پاس اصلی ویڈیو نہیں تھی بلکہ انٹرنیٹ سے ڈاؤنلوڈ کی ہوئی ویڈیو تھی۔ ملزمان کے وکلاء نے سوال کیا کہ کیا آپ نے آڈیو ویڈیو میں سپیشلسٹ کسرس کیا ہی کیا ہے تو دکھائیں۔ایف آئی اے اہلکار مسعود علی نے کہاکہ میں نے آسٹریلین پولیس سے جو کورس کیا ہے اس میں آڈیو ویڈیو فورینسک کرنا شامل ہے۔ ملزمان کے وکلاء نے سوال کیاکہ گوگل کس کا یونٹ ہی ۔




ایف آئی اے اہلکار مسعود علی نے کہاکہ مجھے نہیں پتا کہ گوگل کس کا یونٹ ہے،ایف آئی اے اہلکار مسعود علی پر ملزمان کے وکلاء نے جرح مکمل کرلی۔ایف آئی اے اہلکار انیس الرحمن نے کہاکہ ٹویٹر پر ٹرینڈ بنا جس پر غیر اخلاقی ویڈیوز تھیں جس پر میں نے تحقیقات کیں، میں نے ٹرینڈ پر تحقیقات نہیں کیں کہ کتنے اصلی اور نقلی اکاؤنٹ تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں