1,098

ریاست مدینہ میں کھلے مہ خانے

تحریر: اکرم عامر

یوں تو ریاست مدینہ کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں شراب کی فروخت چوری چھپے ہو رہی ہے، مگر ریاست کے صوبوں سندھ، پنجاب، بلوچستان، بشمول گلگت بلتستان، آزاد کشمیر کے بڑے شہروں میں واقع فائیو سٹار ہوٹلوں میں شراب کی فروخت سر عام ہو رہی ہے، اور ان ہوٹلوں میں پہنچ کر ایسا لگتا ہے کہ ہم کسی یورپی ملک کے باسی ہیں جہاں شراب کے بار سر عام کھلے ہوتے ہیں، ان ہوٹلوں کو شراب کی فروخت کے لائسنس کیوں اور کس نے دیئے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا کسی حکمران کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور نہ ہی کوئی حکمران آج تک ان ہوٹلوں میں شراب کی فروخت پر پابندی عائد کر سکا؟ آخر کیوں؟ جس کی ایک وجہ بھی ہے کہ فائیو سٹار ہوٹل مالکان کی اکثریت سیاست میں ہے اور وہ بااثر طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، اور ان کی ہی اکثریت ملک پر حکمران ہے۔ کپتان ملک کو ریاست مدینہ بنانے کا دعوی کر کے اقتدار میں آئے لیکن وہ بھی ساڑھے تین سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ملک کے ہوٹلوں پر سر عام شراب کی فروخت کی روک تھام نہ کر سکے؟




دوسری طرف پنجاب سول اکاﺅنٹس کی رپورٹ کے مطابق صرف پنجاب میں شراب کی فروخت پر عائد ڈیوٹیوں کی مد میں سابقہ سال کی نسبت 2021 میں 10 فیصد زیادہ آمدنی ہوئی ہے اور صوبہ نے شراب فروخت کرنے کیلئے ڈیوٹی اور لائسنس کے اجراءسے 670 ملین روپے حاصل کیے ہیں، جو 2020 کی نسبت 10 فیصد زیادہ ہیں۔ اس طرح صوبائی حکومت کی آمدنی کا ذریعہ شراب کی فروخت اور لائسنس کے اجراءپر عائد ٹیکسز سے ہے۔ مالی سال 2021-22 میں ڈیوٹیوں اور لائسنس کے اجراءسے آمدنی میں اضافہ دیکھا گیا، دستاویزات کے مطابق ریاست مدینہ کے صوبہ پنجاب میں شراب کی فروخت کے لائسنس کے اجراءسے 470 ملین روپے حاصل ہوئے، جبکہ غیر ملکی شراب پر عائد ڈیوٹی سے 2 ہزار ملین روپے آمدن حاصل ہوئی، مقامی طور پر تیار ہو کر فروخت ہونے والی شراب کے ٹیکسز سے 61.4 ملین روپے حاصل کیے گئے، ظاہر ہے اسی طرح دیگر صوبوں میں بھی شراب کے لائسنسز اور شراب کی فروخت کے ٹیکسز کی مد میں حکومت کو اربوں روپے کی آمدن حاصل ہوئی ہو گی۔




سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے صوبہ میں شراب پر پابندی کی نوید سننے کو ملی تو یقین نہیں آ رہا تھا کیونکہ سندھ بالخصوص کراچی میں تو شراب کی فروخت عام تھی، لیکن پھر سرکاری افسران و دیگر صاحب علم لوگوںسے دریافت کیا تو یقین آیا کہ عدالت نے شراب پر پابندی عائد کر دی ہے، ریاست مدینہ میں شراب نوشی اور شراب خانوں سے شراب کی کھلے عام فروخت سے متعلق تین درخواستیں سندھ کی اعلی عدالت میں زیر سماعت تھیں، جن میں شراب کی فروخت پر پابندی کی استدعا کی گئی تھی، شراب پر پابندی کا حکم اس لئے بھی مشکل نظر آ رہا تھا کہ شراب خانوں کے مالکان کی وکالت ملک کے بڑے نامی گرامی وکیل کر رہے تھے، عدالت نے پولیس سے رپورٹ طلب کی، امن عامہ کے مسائل اور معاشرتی خرابیوں کا بھی ذکر کیا، لیکن سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ لائسنس شدہ شراب خانہ بند کیسے ہونگے؟ شراب خانوں کے مالکان کے وکیل کا اصرار تھا کہ شراب خانوں کا لائسنس 1997ءمیں جاری ہوا اس لئے شراب کی فروخت قانونی طور پر ہو رہی ہے جسے روکا نہیں جا سکتا، کراچی کے علاقہ ابراہیم حیدری میں قائم ایک شراب خانے بارے عدالت نے رپورٹ منگوائی تو پولیس نے قانون کی تلاش شروع کر دی، وکیلوں سے معاونت طلب کی، ایک کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے شراب خانے کیخلاف درخواست آئی تو عدالت میں یہ معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا اور عدالت عالیہ سندھ ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز سندھ کو عدالت میں طلب کیا اور ڈائریکٹر ایکسائز سے پوچھا کہ سندھ بھر میں کتنے شراب خانوں کے لائسنس جاری شدہ ہیں، اور لائسنس جاری کروانے کا طریقہ کار کیا ہے؟ سندھ ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن سے ضلع جنوبی میں بسنے والی اقلیتی برادری کی آبادی کا ریکارڈ و کوائف بھی طلب کر لئے، اور درخواستیں سماعت کیلئے منظور کر لی، جن سماعت شروع ہوئی تو عدالت کے سامنے رپورٹ پیش کی گئی۔ ڈی جی ایکسائز نے کراچی کے علاقے ڈیفنس، کلفٹن میں موجود گیارہ شراب خانوں پر شراب کی خرید و فروخت اور شراب کے گوداموں کے اسٹاک کی تفصیلات پیش کیں، جسے دیکھ کر عدالت کے فاضل جج کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر عدالت نے حدود آرڈیننس 1979ءکا سیکشن 17 نکالا اور ڈی جی ایکسائز سے سوال کیا کہ قانون پڑھ کر بتائیں کہ شراب خانے کا لائسنس کیسے دیا جا سکتا ہے؟ فاضل جج نے کہا کہ کیا کسی شراب کی دکان کے لائسنس کے اجراءسے پہلے کسی پنڈت یا کسی بشپ سے پوچھا گیا کہ آپ کے کس مذہبی تہوار کے لیے شراب کتنی اور کب درکار ہے۔ اگر ایسی کوئی دستاویز ہے تو دکھائیں، جس پر ڈی جی ایکسائز سندھ شعیب صدیقی ہکا بکا رہ گئے، اور بولے جناب یہ تو پریکٹس ہی نہیں، ان سے پوچھنے کا کوئی عمل نہیں ہوا۔ فاضل جج نے ڈی جی ایکسائز کے جواب پر برہمی کا اظہار کیا اور تاریخی ریمارکس دیئے، فاضل جج نے کہا کہ حدود آرڈیننس 1979ءکے سیکشن 17 کے تحت اقلیت کو بھی صرف ان کے مذہبی تہوار پر شراب کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ فاضل جج نے کہا کہ شراب کی دکانیں سال کے 365 دن کس قانون کے تحت کھلی رہتی ہیں؟ ہندو پنڈتوں اور بشپ کو بھی بلا کر پوچھیں گے کہ ان کا مذہب کب اور کن تہواروں میں شراب کی اجازت دیتاہے؟ ایسے میں شراب خانوں کے مالکان کی وکالت کے لیے موجود وکلاءنے جب عدالت کو مطمئن کرنے کی کوشش کی تو فاضل عدالت کے جج نے انہیں ڈانٹ پلادی، اور بولے کہ بومبے (بمئی) کا قانون یہاں نہیں چل سکتا؟ ڈی جی ایکسائز سندھ نے کہا کہ 1979ءسے پہلے ایسے ہی لائسنس جاری ہوتے تھے۔ جس پر فاضل جج نے کہا کہ 1979ءکے بعد کیسے ہوسکتے تھے؟ یہ سب غیر قانونی ہیں۔ شراب خانوں کے مالکان کے وکلاءنے موقف اختیار کیا کہ یہ ان کے موکلان کا کاروبار ہے، اور انہوں نے حکومت کو لائسنس کی فیس دی ہے؟ ہمارا موقف سنا جائے، فاضل جج نے کہا کہ شراب بیچنے اور پلانے کے لیے پوری سہولت دی گئی ہے، لائسنس فیس بھی معمولی رکھی گئی ہے تاکہ ملک میں شراب عام ہوسکے، ملک میں قانون ساز اسمبلیاں موجود ہیں، اگر شراب عام ہی کرنی ہے تو اسمبلیاں قانون بنا دیں، پھر ہم بھی دیکھیں گے کہ قانون کیسے بنتا ہے؟ فاضل جج نے وکلاءکو کہا کہ جو وکلاءشراب خانوں کی وکالت کے لیے آئے ہیں، وہ آئندہ عدالت آنے سے پہلے قرآن و حدیث پڑھ کر آئیں۔ قرآن میں شراب پینے کو ممنوع اور حدیث میں شراب پینے پلانے اور اس کی راہ ہموار کرنے والے مسلمانوں پر لعنت بھیجی گئی ہے۔ فاضل جج نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق کراچی میں 120 شراب خانے اور صرف ضلع جنوبی میں 24 شراب خانوں کے لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔ جبکہ دوسری رپورٹ کے مطابق ضلع جنوبی کراچی میں اقلیتوں کی آبادی بیس ہزار ہے۔ ضلع جنوبی میں جتنی دکانیں اور شراب کی خرید و فروخت بتائی گئی، بیس ہزار اقلیتی شہری اگر شراب سے نہا بھی لیں، تب بھی ختم نہیں ہوگی؟ فاضل جج نے یہ بھی کہا کہ ہندوو¿ں اور عیسائیوں کا محض نام استعمال کیا جاتاہے، اصل کہانی اور ہی ہے۔ ہندو اور عیسائی اتنی مہنگی شراب خرید کر پینے کی سکت ہی نہیں رکھتے، اقلیتوں کو بدنام نہ کیا جائے۔ پنڈتوں اور بشپ کو بلا کر بھی پوچھا جائےگا کہ ان کی مقدس کتابیں کیا سارا سال شراب پینے کی اجازت دیتی ہیں؟ قانون کے مطابق اقلیتوں کو ہولی، دیوالی اور کرسمس یا کسی اور مذہبی تہوار سے صرف پانچ دن پہلے شراب کی فراہمی کے لیے میکینزم بنایا جا سکتا ہے؟ عدالت نے 18 اکتوبر 2021ءکو حکم دیا کہ سندھ بھر میں شراب خانوں کے لائسنس واپس لے کر آج ہی ان کی فہرست جاری کی جائے۔ اور آئی جی سندھ کو حکم دیا گیا کہ فوری طور پر تمام شراب خانوں کو بند کرایا جائے۔عدالت نے ڈی جی ایکسائز کو حکم دیا کہ اقلیتی برادری کے مذہبی پیشواو¿ ں سے دریافت کیا جائے کہ کن کن مذہبی تہواروں پر اقلیتوں کے لیے کتنی شراب کی ضرورت ہے؟ عدالت نے حکومت سندھ، آئی جی سندھ اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائز سندھ سے عملدرآمد کے بعد جواب بھی طلب کر رکھا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سالہا سال غیر قانونی شراب خانے کھلے رہے، اقلیتوں کے نام پر مسلم آبادیوں میں بھی شراب کا کاروبار ہوتا رہا، لیکن کسی حکمران کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی،کسی نے اس بارے نہ سوچا اور نہ نوٹس لیا کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی قانونی، اخلاقی یا مذہبی گنجائش ہے بھی کہ نہیں؟ یہاں سوال یہ بھی ہے کہ ملک میں جو پارلیمانی ادارے وفاق اور صوبے کے موجود ہیں اور وہ قانون سازی کرتے ہیں، اسمبلیوں میں بیٹھے ان منتخب قانون سازوں سے بھی سوال بنتا ہے کہ آپ کی آنکھوں کے سامنے قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی رہیں اور آپ نے آنکھیںبند کر رکھی ہیں، ریاست مدینہ میں اقلیتوں کے نام پر شراب سے استفادہ اکثر مسلمان اٹھا رہے ہیں اور ہر حکومت اس کے لیے سہولت کار بنی، اگر سندھ ہائیکورٹ کے فاضل جج حدود آرڈیننس اور شراب خانوں کے اجراءکے لیے سیکشن 17 سامنے نہ لاتے تو شراب کی فروخت ہمارے معاشرے میں آئے روز بڑھتی جاتی، یوں بھی شراب پی کر انسان دنیا و مافیہا سے بے بہرہ ہو جاتا ہے تو یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ 1979ءسے اب تک ریاست مدینہ کے کسی کرتادھرتا نے شراب پر پابندی عائد کیوں نہیں کی، کہ فاضل عدالت کے حکم پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سندھ میں شراب خانے بند کروانے پڑے۔



یہ تو حالات اور عدالت کا حکم تھا سندھ کے حوالے سے، لیکن شراب تو سندھ، پنجاب، خیبر پختونخواہ، بلوچستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے بڑے شہروں کے بڑے ہوٹلوں میں ایک عرصہ سے شراب کی سر عام فروخت ہو رہی ہے، جن سے حکومت کو ٹیکسز تو ضرور ملتے ہیں لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ریاست مدینہ میں شراب کی فروخت جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ ریاست مدینہ میں ان ہوٹلوں پر بھی شراب کی فروخت پر پابندی عائد کریں کیونکہ سندھ ہائیکورٹ کا شراب پر پابندی بارے اب واضح فیصلہ بھی آ چکا ہے، اس کے باوجود ملک کے بڑے شہروں میں واقع ہوٹلوں پر شراب کی سرعام فروخت پر عوام حکومت سے سوال کرنے پر حق بجانب ہیں کہ شاید شراب فروخت کرنے والے بڑے ہوٹلوں کے پیچھے ہر دور میں کسی نہ کسی بڑے سیاستدان کا ہاتھ رہا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار وزیر اعظم عمران خان ملک کے بڑے ہوٹلوں میں سر عام فروخت ہونے والی شراب پر پابندی خود عائد کرتے ہیں؟ یا پھر محب وطن شہریوں کو اس حوالے سے ملک کی اعلی عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔

ادارہ سی این پی اردو کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

سی این پی ارد و پر اپنی تحریریں شائع کروانے کے لیے اپنی تحریر ( 5300061 0313 ) پر واٹس ایپ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں