1,068

EOBI میں بڑے مالیاتی سیکنڈل کا انکشاف – ہزاروں ملازمین کے اربوں روپے غائب

راولپنڈی (آن لائن)ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ (ای او بی آئی)”EOBI“میں نجی اداروں کی مبینہ ملی بھگت سے غریب ملازمین کے معاشی استحصال کے بعد ایک نئے مالیاتی سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے جس کے تحت ای او بی آئی اپنے قوانین سے ہٹ کر ہزاروں غریب ملازمین کو پنشن کی مد میں کم ادائیگیاں کی جا رہی ہیں اس ضمن میں نہ صرف عدالتی فیصلوں کو بھی یکسر نظر انداز کر دیا گیاجس سے گزشتہ 5 سال سے زائد عرصہ میں مبینہ طور پرلاکھوں غریب ملازمین کی پنشن سے مجموعی طور پراربوں روپے ہضم کر لئے گئے جبکہ مزدوروں کے حقوق کی علمبردار نام نہاد مزدور یونینوں اور تنظیموں نے بھی پراسرار خاموشی اختیار کر لی ای او بی آئی متاثرین کے مطابق ای او بی آئی کے قانون میں پنشن میں دیئے گئے فارمولا کی بجائے پنجاب میں صنعتی کارکنان کو خلاف قانون کم از کم پنشن 8500روپے کی ادائیگی کی جا رہی ہے حالانکہ ای او بی آئی کے قانون میں موجود فارمولہ کے تحت پنشن کی ورکنگ مدت ملازمت آخری تنخواہ جس پر کنٹری بیوشن ادا ہوئی ہو کو50پر تقسیم کرنے سے کارکنان کی پنشن ادا کی جاتی ہے لیکن ای او بی آئی سال2016سے کارکنان کو کم از کم پنشن 8500روپے ادا کر رہا ہے جو کارکنان کی لاعلمی کی وجہ سے تاحال جاری ہے متاثرین کاموقف ہے کہ محکمہ ای او بی آئی کی جانب سے اس دیدہ دلیری کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ فروری2016کو وفاقی حکومت نے ایکٹ 2016/viiجاری کرتے ہوئے غیر ہنر مند کارکنان کی کم از کم تنخواہ کے قانون مجریہ 1969میں ترمیم کرتے ہوئے کم از کم تنخواہ کی ادائیگی کے شیڈول کو تبدیل کیا تھا لیکن اس ترمیم شدہ قانون



کا اطلاق اسلام آباد تک محدود تھا ای او بی آئی ہیڈ آفس کراچی نے سرکلر نمبر350مجریہ یکم مارچ2016کے تحت یہ سسٹم خلاف قانون پورے ملک پر لاگو کر دیا جسے حکومت پنجاب کے اکثر صنعتی اداروں نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے اس حوالے سے دائر رٹ نمبر15362-16پر دیئے گئے فیصلے میں متذکرہ ترمیمی آرڈی نینس اور ہیڈ آفس سے جاری شدہ سرکلر دونوں کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے پنجاب میں اس کااطلاق غیر قانونی قرار دیا تھا جبکہ ای او بی آئی نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں کوئی اپیل دائر نہ کی جس سے یہ فیصلہ حتمی حیثیت اختیار کر چکا ہے متاثرین کے مطابق محکمہ ای او بی آئی نے پنجاب میں غریب مزدوروں کی پنشن تیار کرتے ہوئے اس غیر قانونی ترمیمی آر ڈی نینس پر عمل درآمد نہ کرتے ہوئے مزدوروں کی کم از کم پنشن بلالحاظ سروس 8500روپے مقرر کر دی ہے اور غریب کارکنان کے ھق پر گزشتہ کئی سال سے خاموش ڈاکہ جاری ہے کسی مزدور یونین کو اس کا علم نہیں یا وہ دانستہ طور پر خاموش ہیں محکمہ ای او بی آئی کے اس غیرقانونی اقدام کو چکوال ریجن کے چند کارکنان نے چیئر مین ای او بی آئی کے روبروچیلنج کرتے ہوئے ای او بی آئی ایکٹ کی دفعہ(35)کے تحت نظر ثانی اپیل دائر کی تھی جس پر21دسمبر2021کے فیصلہ میں اپیل کنندگان کو ای او بی آئی کے قانون میں دیئے گئے فارمولا کے مطابق پنشن ادا کرنے کا حکم دیا تھا جس پر تاحال عملدرآمد نہ ہو سکاای او بی آئی کے پنشنرزنے ای او بی آئی کے اس اقدام کو حکومتی اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کے لئے ایک چیلنج قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان،




اعلیٰ عدلیہ اور چیئر مین ای او بی آئی سے مطالبہ کیا ہے کہ کارکنان کے معاشی حق پر گزشتہ5سال سے ہونے والی چوری کا نوٹس لیا جائے اور کارکنان کو ان کے5سال کے واجبات دلوائے جائیں دریں اثنا اس حوالے سے رابطہ کرنے پرای او بی آئی کے ریجنل ڈائریکٹر فاروق طاہر نے کہا کہ وہ روات انڈسٹریل ایریا کے وفود کے ساتھ اہم میٹنگ میں ہیں لہٰذاان کے پاس وقت نہیں ہیں تاہم جب انہیں معاملہ سے متعلق آگاہی اور ریجن میں موجود پنشنرز یا انہیں کی جانے والی مجموعی ادائیگیوں کے متعلق استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی بات کی اجازت نہیں اس حوالے سے آپ کراچی ہیڈ آفس میں میڈیا سیل سے رابطہ کریں جب ان سے میڈیا سیل کے کسی ذمہ دار کا فون نمبر مانگا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ میرے پاس نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں