1,034

بہتان

تحریر: عائشہ فہیم

تاریخ کے اوراق پہ کچھ کردار اتنے روشن ہوتے ہیں کہ آنکھیں ان سے خیرہ ہوئی جاتی ہیں۔۔
وہ اوراق کھلتے ہیں تو اطراف کی فضا معطر محسوس ہوتی ہے۔۔۔
چنیدہ لوگ! ❤️
وہ کوئی دیومالائی کہانیاں یا مافوق الفطرت قصص بھی نہیں ہوتے۔۔ جنہیں پڑھ کر ہم بس آنکھوں میں بسالیں۔۔
بلکہ ان کی زندگی کو ہم محسوس کرتے ہیں، ان کی تکلیف ہمیں اپنی تکلیف لگتی ہے۔
گو کہ ہم ان کے پاؤں کی دھول ہوتے ہیں۔۔۔
لیکن ان کی شخصیت کے اوصاف کو محض عقیدت سے دیکھتے نہیں ہیں، بلکہ ان کے اندر اپنے آپ کو تلاشتے ہیں، دل ان سے وابستہ ہوتے ہیں، زندگی میں وہ ہمارے لئے قطب نما بن جاتے ہیں۔۔۔




۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ وہ ہیں جو
محبوبہء محبوب صلی اللہ علیہ وسلم ہیں!
عائشہ رضی اللہ عنھا۔
علم، تفقہ فی الدین، ادب، خطابت میں ناموری حاصل ہے۔
علم ایسا کہ بڑے بڑے اصحاب ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کئے ہوئے ہیں۔۔
اور عجز ایسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ زندگی کے آخری ایام میں ملنے آتے ہیں تو جھجھکتی ہیں کہ مبادا وہ تعریف نہ کردیں۔ اور جب تعریف سنتی ہیں تو زبان سے یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں:
‘کاش میں پیدا نہ ہوئی ہوتی!’

خوددار ایسی کہ واقعہ افک کے معاملے میں اللہ کی طرف سے برات کے بعد ماں نے کہا کہ شوہر کا شکریہ ادا کرلو۔ تو کہا کہ:
‘میں تو صرف اپنے اللہ کا شکریہ ادا کروں گی جس نے مجھے بچایا اور مجھے عزت بخشی۔’
اور شوہر کی محبت میں بے قرار ایسی کہ راتوں کو جب رسول اللہ کو برابر میں نہ پاتیں تو شب کی تاریکیوں میں انہیں ڈھونڈنے نکل جاتیں۔۔

حیادار ایسی کہ حج کے موقع پہ ان سے کہا کہ حجر اسود کو بوسہ دے لیں تو کہا:
‘میں مردوں کے ہجوم میں نہیں جاسکتی۔’
اور مضبوط اتنی کہ غزوات میں اپنی پیٹھ پر مشکیں لاد لاد کر زخمیوں کو پانی پلاتی ہیں۔

سلیقہ شعار ایسی کہ گھر کے ہر کام خود اپنے ہاتھوں سے کرتی ہیں، گھر کی صفائی، آٹا گوندھنے سے لے کر رسول اللہ کا خیال رکھنے تک سب کام بخوشی کرتیں۔
اور قابل ایسی کہ شعر و ادب، فصاحت و بلاغت میں کمال حاصل ہے!





یہ وہ ہیں جو بڑی منت مرادوں سے اپنے والدین کے گھر آتی ہیں۔
جن کے والدین نے بیٹے کی امید لگائی ہوئی ہے کہ اسے خدا کی راہ میں وقف کریں گے۔
لیکن اللہ تعالیٰ بیٹی عطا کرکے اس بات کو امر کرتے ہیں کہ خدا بیٹی سے بھی اپنا کام لے سکتا ہے!
مریم علیہ السلام۔۔
جنہیں خدا نے چن لیا تھا۔۔
پھر آزمائش پہ آزمائش!
فرشتے کو غیر مرد کی صورت دیکھ کر ڈر جاتی ہیں، اسے خدا کا خوف دلاتی ہیں اور جب بیٹے کی پیدائش کی خبر سنتی ہیں تو کانپ اٹھتی ہیں۔۔
بن باپ بیٹے کی پیدائش۔۔
کیسے کیسے خدشات نہ لاحق ہوں گے۔ کیا کیا الزامات نہ لگے ہوں گے۔ تن تنہا صحرا میں وہ مشکل وقت کیسے کاٹا ہوگا۔۔ وہ وقت جب عورت کمزور ہوتی ہے، کسی کے ساتھ کی خواہش رکھتی ہے، مدد چاہتی ہے۔۔ وہ وہاں اس بیاباں میں خدا کے آسرے پہ وہ سارا وقت گزارتی ہیں۔
درد کی شدت الگ اور بدکرداری کے الزام کی تکلیف الگ۔۔۔
خوف ایسا کہ مرجانے کا جی چاہے اور “نسیاً منسیاً” کی خواہش ہو۔
اور توکل ایسا کہ اس بیٹے کو لے کر قوم کے پاس آجاتی ہیں۔
اور اللہ کریم معجزہ دکھاتے ہیں!
اس کے ہونے کا ایقان ہو تو وہ خود اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے، پھر معجزے ہوتے ہیں۔۔۔




اس سب میں ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ۔۔
خدا نے عورت ذات کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔ اس نے اس کی ہستی کو devalue نہیں کیا۔ ایک پہ الزام لگا تو قرآن میں اس کی برات نازل کردی۔
غضب ناک ہوا کہ کیوں نہ تم نے کہہ دیا کہ یہ تو صریح بہتان ہے!
دوسری پہ کیچڑ اچھالا گیا تو اس نے لوگوں کا منہ بند کروادیا۔ ایک شیرخوار کو زبان دے کر!
قرآن ان ہستیوں کو اپنے کلام میں ذکر کرکے قیامت تک کے لئے روشن ابواب بنادیتا ہے۔
ہم روزِ حشر ان ہستیوں سے ملنے کی خواہش کریں گے۔۔❤️
ملے تو پوچھیں گے کہ بہتان کی تکلیف کیسی سخت ہوتی ہے۔ تنہائی کیسے کاٹ کھانے کو دوڑتی ہوگی۔ خدا کا ساتھ کیسے زندگی میں سکون بھرتا تھا۔ اور اتنی قوت اور استقامت کہاں سے آتی ہے۔۔
ہم بہتے جھرنوں کی آوازوں، جھکی ہوئی ڈالیوں اور تختوں پہ ٹیک لگائے مریم علیہ السلام اور عائشہ رضی اللہ عنھا سے ملنے کی خواہش کریں گے !

ادارہ سی این پی اردو کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

سی این پی ارد و پر اپنی تحریریں شائع کروانے کے لیے اپنی تحریر ( 5300061 0313 ) پر واٹس ایپ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں