1,047

ثاقب نثار کی آڈیو سے ملکی سیاست میں ہلچل

تحریر: اکرم عامر

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنی مدت ملازمت کے دوران بہت سے ایسے فیصلے کیے جو ملکی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے، موصوف ملک میں ہونے والی نا انصافیوں کے واقعات پر سوموٹو ایکشن لینے میں بھی اپنا نام رکھتے تھے، موصوف کو نجانے کیا سوجھی کہ ملک میں ڈیم بنانے کیلئے فنڈ ریزنگ شروع کر دی، جس پر ملک کی مقتدر سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ عام شہریوں نے بھی ”ڈیم بناﺅ“ فنڈ میں رقم جمع کروائی، پھر اچانک ثاقب نثار بیرون ملک چلے گئے، بعد میں ڈیم بناﺅ مہم بھی دم توڑ گئی اور ملک میں موصوف کے بارے میں مختلف قسم کی بحث کی جانے لگی، کسی نے انہیں ہدف تنقید کا نشانہ بنایا تو کسی نے انہیں محب وطن ٹھہرایا، سو کئی ماہ تک الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیاپر ثاقب نثار زیربحث رہے، پھر دیگر معاملات کی طرح ”ڈیم بناﺅ“مہم کا معاملہ بھی خاموشی اختیار کر گیا، چند روز قبل ایک آڈیو لیک ہوئی، جسے ثاقب نثار سے منسوب کیا گیا، اس آڈیو نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے، حکمران اس آڈیو کو جعلی قرار دے رہے ہیں اور اپوزیشن اسے درست قرار دے رہی ہے، ملک کی اعلی عدالت بھی اس معاملہ کو دیکھ رہی ہے ۔ آڈیو اصلی ہے یا نقلی اس کا فیصلہ تو ابھی ہونا باقی ہے، تاہم اس آڈیو نے ملکی سیاست کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔



ملک میں کچھ عرصہ سے تبدیلی کے آثار دیکھے جا رہے ہیں اور موجودہ حکومت کے حوالے سے منفی خبروں کی بہتات نشر ہو رہی ہے، پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں میں نظر آنے والی دوریوں نے اسے مزید تقویت دی ہے کہ حکومت ڈانواں ڈول ہے، لیکن حکمران جماعت کے کپتان اور کھلاڑی ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ کرپٹ مافیا کا احتساب کر کے دم لیں گے اور ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کو کڑی سے کڑی سزا دیں گے، اپوزیشن جماعتیں حکومت کی ان کارروائیوں کو انتقامی قرار دے رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔ کوئٹہ کے سینئر صحافی انور شاہ کے مطابق جہاں گلگت بلستان کے سابق چیف جسٹس کا بیان حلفی انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، وہاں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے منسوب متنازعہ آڈیو لیک ہونے سے ملک کے سیاسی منظر نامے میں بھی بھونچال برپا ہے۔ اس آڈیواسکینڈل کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ ہر سیاسی جماعت، مکاتب فکر اور عوامی سطح پر کیا جا رہا ہے، یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ‘فیکٹ فوکس’ نامی ویب سائٹ سے منظر عام پر آنے والی ایک آڈیو میں دو افراد کو گفتگو کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ یوں تو گفتگو کرنے والے دونوں افراد اپنی شناخت ظاہر نہیں کر رہے، مگر وہ گفتگو کے دوران ملک کے سابق وزیراعظم ، نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سنائی جانے والی سزاوں کے لیے دبا و ڈالنے کی بات کر رہے ہیں۔ جسٹس (ر) ثاقب نثار نے خود سے منسوب آڈیو اور اس میں لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے اس آڈیو کو جعلی اور دو نمبر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے کسی سے ایسی کوئی بات نہیں کی ہے۔ ثاقب نثار کے بقول وہ اس سلسلے میں ویڈیو لیک کرنے والوں کیخلاف قانونی کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں، بنابریں اپوزیشن کہتی ہے سابق چیف جسٹس (ر) ثاقب نثار سے منسوب آڈیو کی صداقت کی تصدیق فارنزک کے ماہر امریکی ادارے نے کر دی ہے اور اس آڈیو کو درست قرار دیا ہے؟ ملٹی میڈیا فرانزک میں مہارت رکھنے والے امریکی ادارے گیرٹ ڈسکوری نے سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار سے منسوب آڈیو کی صداقت اور درستی کی تصدیق کی ہے، اس آڈیو کے بارے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدرشہباز شریف کا کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس کے سامنے آنے والے نئے آڈیو کلپ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سیاسی عمل سے باہر رکھنے کے لیے ایک بڑے منصوبے کے تحت نشانہ بنایا گیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے ساتھ روا رکھی جانے والی غلطی کو ٹھیک کیا جائے۔ پوری قوم نظام عدل کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اس وقت جب سابق وزیر اعظم کی سزاکے بارے میں شنوائی شروع ہونے والی ہے، اس آڈیو پیغام اور حلف نامے کا منظر عام پر آنے سے بہت سارے سوالات نے جنم لے لیا ہے۔ آڈیو لیک سے جہاں عدلیہ کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگے ہیں وہاں اس سے پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے تاثر کو بھی تقویت ملی ہے۔




جہاں تک حلف نامے کا تعلق ہے تو یہ حلف نامہ دینے والا سابق جج گلگت بلتستان خود عدالت میں پیش ہو سکتا ہے جس کے بعد کیا ہو گا یہ ایک الگ سوال ہے؟ آڈیو کے بارے میںابھی اس کے اصلی یا جعلی ہونے کا تعین پاکستان میں ہونا باقی ہے۔ کیونکہ عدالتیں ٹھوس شواہد کی بنا پر فیصلے کرتی ہیں اس لیے سردست اس آیڈیو کی قانونی حیثیت کیا ہے، اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ اس کا پراپیگنڈہ اور شور شرابا بہت زیادہ ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ اس آڈیو کو (ن) لیگ کیا بطور شہادت عدالت میں پیش کرتی ہے؟ کیونکہ ماضی میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی اپیلوں کی سماعت کے دوران جسٹس قیوم ملک کی آڈیو سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ نے ان کی سزاﺅں کو کالعدم قرار دے دیا تھا، نئے واقعات کا رونما ہونا حیران کن بھی ہے اور نہیں بھی۔ بقول اپوزیشن اس وقت ملک میں انتخابات کا ماحول بالکل تیار نظر آرہا ہے۔ کسی بھی وقت نئے انتخابات کا اعلان متوقع ہے۔ تاہم اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ مخصوص طبقہ اپنے پیج پر رہے اور ان تمام تاثرات کو زائل کرنے کے لئے کام کرے جو اس وقت پورے ملک میں بنا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں عوام میں جو ابہام پیدا ہوا ہے کو ختم کرنے کے لئے ملک کے اعلی ترین ادارے کو بھی ایسا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جو ماضی کی طرح نظریہ ضرورت سے ہٹ کر زمینی حقائق کی بنیاد پر ہو۔ اور گلگت بلتستان کے چیف جسٹس کے بیان حلفی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینا چاہئے اگر یہ درست ہے تو بجا؟ اگر یہ غلط ہے تو ایساکر کے اداروں کی ساکھ متاثر کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے،تا کہ آئندہ کوئی ایسی فیک آڈیو، ویڈیو یااسٹام،جاری کرنے کی جسارت نہ کرے اور جعلسازی کا یہ سلسلہ رک سکے۔

ادارہ سی این پی اردو کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

سی این پی ارد و پر اپنی تحریریں شائع کروانے کے لیے اپنی تحریر ( 5300061 0313 ) پر واٹس ایپ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں