1,089

جنوبی پنجاب میں اندھڑ گینگ کی گرفتاری پنجاب پولیس کےلئے چیلنج

تحریر: اکرم عامر

پنجاب میں امن و امان کی صورتحال دوسرے صوبوں بالخصوص سندھ کی نسبت کچھ تسلی بخش ہے لیکن جنوبی پنجاب کے اضلاع راجن پور، رحیم یار خان اور گردونواح میں کچے کے علاقوں میں ڈاکوﺅں، اغواءکاروں کے گینگز نے پنجاب پولیس کو چکرا کر رکھ دیا ہے اور پولیس کی تمام تر کوششوں کے باوجود ان علاقوں میں امن و امان قائم نہیں ہو سکا، آئے روز ان علاقوں میں ڈکیتی و قتل و غارت گری، اغواءبرائے تاوان کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ پنجاب پولیس کی تمام تدبیریں اس سلسلہ میں ناکام ہو چکی ہیں، کچے کے ان علاقوں میں خوف کی سی فضا پائی جا رہی ہے، لوگوں کا شام کے وقت گھروں سے نکلنا محال ہو کر رہ گیا ہے، دو دہائیوں سے ہر آئی جی پنجاب پولیس ان علاقوں میں سرچ آپریشن کر کے ڈاکوﺅں، اغواءکاروں اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لئے اعلیٰ سطحی پولیس ٹیمیں تشکیل دیتے آئے ہیں۔ لیکن اتنے عرصہ میں کوئی بھی پولیس ٹیم ان علاقوں میں خوف کی علامت بنے گینگز کا قلع قمع کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ جس پر گزشتہ سال آرمی کو آپریشن کرنا پڑا اور اس دوران چھوٹو گینگ کے کچھ افراد گرفتار کر لیے گئے، کچھ سندھ فرار ہو گئے، ان میں اندھڑ گینگ بھی شامل تھا،




جس نے اب واپس آ کر علاقہ میں ات مچا دی ہے، اور دن دیہاڑے قتل و غارت گری کی سنگین وارداتیں کرنے میں مصروف ہے۔ یہ گروہ درجن سے زائد افراد جن میں پولیس ملازم بھی شامل ہیں سمیت قتل، ڈکیتی، اغواءجیسی و سنگین وارداتوں میں پنجاب پولیس کو مطلوب ہے، اس ضمن میں انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب راو¿ سردار علی خان نے گزشتہ روز اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا ہے کہ اندھڑ گینگ کے سفاک ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور اس گینگ کی گرفتاری کےلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں، ملزمان کے ساتھ انکے سہولت کاروں کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ نیز عوام کے احساس تحفظ اور اعتماد کی بحالی کیلئے سمارٹ اینڈ کمیونٹی پولیسنگ کی طرز پرعوام دوست پولیسنگ کے فروغ کیلئے اقدامات میں تیزی لائی جائے۔ سینئر افسران خود میدان میں نکلیں اور اس گینگ کے خلاف درج مقدمات پر پیش رفت کی ہفتہ وار رپورٹ آئی جی آفس بھجوائیں، آئی جی پنجاب نے مزیدکہا کہ شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کیلئے سکیورٹی نفری کی تعداد اور گشت دورانیے میں اضافہ کیا جائے تاکہ فیلڈ میں پولیس کی موجودگی سے نقص امن کا خطرہ نہ رہے، ہر قسم کے دباو¿ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کیس کو میرٹ کے مطابق جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ ویڈیو لنک کانفرنس میں ڈی پی او رحیم یار خان کیپٹن (ر) محمد علی ضیاءنے اندھڑ گینگ کے ملزمان کی گرفتاری کیلئے جاری آپریشنز بارے آئی جی پنجاب کو بتایا کہ اندھڑ گینگ کے ملزمان کی گرفتاری کیلئے اب تک 53 چھاپے مارے گئے ہیں، جبکہ کچے کے علاقے میں بھی سرچ آپریشنزجاری ہیں۔ اب تک اندھڑ گینگ کے 14 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ بھجوایا جا چکا ہے جبکہ ہر پہلو سے واقعہ کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ آئی جی پنجاب نے پولیس افسران کو ہدایت کہ معاشرے میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنا ، شہریوں کی جان ومال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے، ویڈیو لنک کانفرنس میں ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب صاحبزادہ شہزاد سلطان، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ زعیم اقبال شیخ، ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب ساجد کیانی،اے آئی جی مانیٹرنگ احسان اللہ چوہان اور اے آئی جی آپریشنز سید ذیشان رضا موجود تھے جبکہ آر پی او بہاولپوراور ڈی پی او رحیم یار خان موجود تھے۔



یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب پولیس دو دہائیوں میں وہ کامیابی حاصل نہ کر سکی جو گزشتہ سال آرمی نے آپریشن کر کے حاصل کی، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب راﺅ سردار صاحب پنجاب کایہ علاقہ، علاقہ غیر بن چکا ہے، اور یہاں امن امان کی صورتحال مخدوش ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے علاقہ میں امن و امان کا شیرازہ بکھر کر رہ گیا ہے۔ اندھڑ گینگ جب اور جہاں چاہتا ہے واردات کر لیتا ہے۔ اور اس گینگ نے قتل و غارت گری کا اندھیر مچا رکھا ہے، اب تک درجنوں افراد کے قتل میں پولیس کو مطلوب ہے، پنجاب پولیس اس گینگ کی گرفتاری کے لئے ہر حربہ استعمال کر چکی ہے اور صرف 14 ایسے افراد کو گرفتار کر سکی ہے جو گینگ کے سہولت کار یا ان کا گینگ سے دور کا تعلق ہے۔ اصل ملزمان میں سے ایک بھی ابھی تک گرفتار نہیں ہوا، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اندھڑ گینگ سمیت دیگر گینگز کی گرفتاری کےلئے پاک آرمی کی خدمات حاصل کر لی جائیں تا کہ ان گینگز کا قلع قمع ہو سکے اور علاقہ میں امن و سکون قائم ہو پائے۔ ورنہ پنجاب پولیس تو پہلے بھی 20 سالوں سے یہاں تدبیریں آزماتی رہی مگر ان کی کوئی تدبیر کارآمد ثابت نہ ہوئی۔ اس لیے تجربے کرنے کی بجائے مزید کسی جانی نقصان سے بچنے کے لئے علاقہ کو آرمی اور رینجر کے حوالے کر دیا جائے جو گزشتہ سال کی طرح آپریشن کر کے اندھڑ گینگ کو گرفتار یا اس کا صفایا کر سکے؟ اگر ایسا نہ کیا گیا تو علاقہ میں مزید جانی نقصان کا اندیشہ ہے؟ کچے کے علاقے کے لوگ اس بات کے منتظر ہیں پنجاب کے کپتان عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب راﺅ سردار اس بارے میں کیا حکمت عملی اپناتے ہیں؟

ادارہ سی این پی اردو کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

سی این پی ارد و پر اپنی تحریریں شائع کروانے کے لیے اپنی تحریر ( 5300061 0313 ) پر واٹس ایپ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں