1,098

روپے کی قدر میں کمی، گاڑیوں کی قیمتیں بڑھا دی گئیں

اسلام آباد (ڈان نیوز) چار ماہ قبل وفاقی بجٹ میں ڈیوٹیز اور ٹیکسز میں کٹوتی کے بعد جولائی کے دوسرے ہفتے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا اعلان بہت دھوم دھام سے کیا گیا تھا لیکن یہ کمی صرف 3 ماہ ہی برقرار رہ سکی اور اس کے بعد اسمبلرز نے حالیہ ایام میں ایک بار پھر تیزی سے قیمتوں میں اضافہ کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل جولائی میں اسمبلرز کی جانب سے مقامی سطح پر بنائے جانے والی کاروں اور ایس یو ویز قیمتوں میں 62 ہزار سے 4 لاکھ روپے تک کمی کی گئی تھی۔

تاہم نومبر کے آغاز میں گاڑیوں کی قیمت میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا، اسمبلرز کاکہنا ہے کہ فریٹ میں اضافہ، کنٹینرز کی کمی، خام مال کے اضافی اخراجات اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تازہ ترین کمی گاڑیوں کی قیمت میں اضافےکی وجہ ہے۔




9 نومبر کو لکی موٹرز کورپوریشن لمیٹڈ (ایل ایم سی ایل) نے مقامی سطح پر تیار کردہ اور برآمد شدہ گاڑیوں کی قیمت میں 2 لاکھ 28 ہزار سے 5 لاکھ روپے تک اضافہ کیا۔

اس ہی دوران ٹویوٹا کی گاڑیوں کی قیمت میں ایک لاکھ 40 ہزار روپے سے 5 لاکھ 80 ہزار روپے تک اضافہ دیکھا گیا جبکہ دیگر اسمبلرز بھی صارفین کو متاثر کرنے کی اس ہی راہ پر گامزن ہیں۔

مارکیٹ ذرائع کا کہنا تھا کہ ہونڈا اٹلس کارز لمیٹڈ (ایچ اے سی ایل) نے سٹی، سوک اور بی آر وی گاڑیوں کے مختلف ماڈلز کی قیمت میں ایک لاکھ 30 ہزار سے 4 لاکھ 85 ہزار روپے تک اضافے کا اعلان کیا ہے۔

حال ہی میں مارکیٹ میں آنے والی ہونڈا سٹی کی قیمت میں بھی ایک لاکھ 30ہزار سے ایک لاکھ 95 ہزار روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ریگل آٹو موبائل انڈسٹری لمیٹڈ( ریل) نے رواں ہفتے مختلف ماڈلز پر 2 لاکھ سے 4 لاکھ روپے بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔





یاد رہے کہ ماسٹر گروپ کی کمپنی چنگان پاکستان نے مالی سال 2022 کےبجٹ میں ڈیوٹی اور ٹیکسز میں کمی کے بعد دیگر اسمبلرز کے ساتھ قیمتوں میں کٹوتی کی تھی تاہم انہوں نے اگست کے وسط میں سب سے پہلے گاڑیوں کی قیمت میں دوبارہ اضافہ کیا۔

تاہم اس وقت حکومتی مداخلت کے بعد اسمبلرز نے قیمتوں میں اضافہ معطل کردیا تھا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ بڑے اسمبلرز کو حکومت کی جانب سے کوئی اشارہ دیا گیا ہے یا وہ فریٹ، زر مبادلہ کی شرح اور خام مال کی قیمتوں میں اضافے سے پروڈیکشن کے اخراجات سے خود متاثر ہورہے ہیں۔

مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ اسمبلرز نے اگست 2020 سے مئی 2021 تک ڈالر کی قدر میں اضافے کے اثرات کو صارفین تک پہنچنے نہیں دیا۔

اگست 2020 میں ڈالر کی قیمت 167 روپے 80 پیسے تھی جبکہ اس کے مقابلے مئی 2021 میں ڈالر 152 روپے سے 153 روپے میں دستیاب تھا۔



انڈس موٹر کمپنی ( آئی ایم سی) نے ٹوپ لائن سیکیورٹیز بریفنگ میں کہا کہ سیمی کنڈیکٹر چپ کی کمی کی وجہ سے کمپنی کی پروڈیکشن متاثر ہوئی ہے اور یہ بھی ایک وجہ ہے جس سے دیگر اسمبلرز کے مقابلے میں آئی ایم سی کی کاروں کی ترسیل میں کمی دیکھی گئی ہے۔

ان سائٹ سیکیورٹیز کے مطابق ٹویوٹا اسمبلرز کے پاس اپریل 2022 تک کے لیے چپ کا ذخیرہ موجود ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اپریل میں چپ کی فراہمی یا پروڈیکشن میں معمولی کمی کا سامنا ہوگا۔

آئی ایم سی کی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ آٹو فنانسنگ کے قواعد میں سختی فورچونر پر اثرا انداز ہوسکتی ہے، تاہم ممکنہ طور پر ہائی لیکس کی فروخت پر فورچونر کے مقابلے زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں