1,077

سعد رضوی کی نظر بندی، لاہور ہائیکورٹ نے معاملہ نمٹادیا

اسلام آباد (سی این پی ) لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی نظر بندی کے خلاف درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی۔ آج ہونے والی سماعت میں درخواست گزار کی طرف سے برہان معظم ملک ایڈووکیٹ، جب کہ حکومت پنجاب کی طرف سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ملک اختر جاوید پیش ہوئے۔




سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کیا کہتے ہیں؟۔ جس پر درخواست گزار سعد رضوی کے چچا کے وکیل برہان معظم ملک نے عدالتِ عالیہ میں مؤقف اختیار کیا کہ اس عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں دلائل مانگے تھے، درخواست غیر مؤثر ہوچکی ہے، اس لیے واپس لیتے ہیں۔

چیف جسٹس امیر بھٹی نے کہا کہ ان نکات کو آپ سپریم کورٹ میں اٹھائیں، ہم اس درخواست کی حد تک اس معاملے کو دیکھیں گے۔ جواباً برہان معظم ملک ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں نے سپریم کورٹ میں درخواست ہائی کورٹ کو بھجوانے کی کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔ جس پر چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ ہم آپ سے یہ کہہ بھی نہیں رہے کہ آپ نے سپریم کورٹ میں رضامندی ظاہر کی تھی۔




برہان معظم ملک ایڈووکیٹ نے کہا کہ ویسے تو یہ درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے کیونکہ دائرہ اختیار، قابل سماعت اور شفاف ٹرائل کے نکتے پر بحث نہ ہونے کا سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار امیر حسین مزید معاملہ آنے پر دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سماعت کے دوران برہان معظم ملک ایڈووکیٹ نے درخواست واپس لینے کا عندیہ دیتے ہوئے عدالت سے درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کے لیے دو روز کی مہلت کی استدعا کی تھی۔

اکتوبر 12 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے سعد حسین رضوی کی رہائی کے فیصلے کے خلاف حکومت پنجاب کی درخواست کا معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے خصوصی بینچ کو بھیج دیا تھا۔ حکومت پنجاب نے ٹی ایل پی کے سربراہ کو رہا کرنے کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ نے یکم اکتوبر کو علامہ سعد رضوی کی نظر بندی کو کالعدم قرار دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں