1,194

راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے امتحانات کی شفافیت کا بیڑہ غرق . پیپر لیک ہونے پر والدین سراپا احتجاج

راولپنڈی (خان گلزار حسین سے )راولپنڈی تعلیمی بورڈ کی ناقص حکمت عملی اور ذمہ داران کی جانب سے میں نہ مانوں کی پالیسی نے بورڈ کی ساکھ اورامتحانات کی شفافیت کا بیڑہ غرق کردیا، جماعت نہم کے صبح وشام کے اوقات میں فزکس کے معروضی اور انشائیہ طرز کے دونوں پیپرقبل ازوقت سوشل میڈیا پر گردش کرتے رہے ، امیدواروں کی اکثریت اپنے اپنے سینٹروں کے باہر سوشل میڈیا پر پیپر ڈھونڈکر سوالات کے جوابات دیکھتی رہی ، تعلیمی حلقے اور دن رات پڑھائی کرنے والے طلباوطالبات اور انکے والدین بورڈ کی اس غیر سنجیدگی پر سراپا احتجاج بن گئے جب کہ ایک ہی دن میںدونوں پیپروں کے چاروں حصوں کے آوٹ ہونے نے چیئرمین ، کنٹرولر امتحانات سمیت دیگر ذمہ داران کوسوالیہ نشان بنادیا۔پنجاب بھر کی طرح راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے زیراہتمام ہفتے کے روز جماعت نہم کا فزکس کا پیپر تھا، صبح کے وقت معروضی اور انشائیہ طرز کے دونوں پرچے قبل ازوقت سوشل میڈیا پر آگئے،




پیپروں کے آوٹ ہونے پر بورڈ دفترمیں کھلبلی مچی رہی ، بعدازاں دوپہر کے وقت گروپ ٹو میں بھی فزکس کا پیپرتھااور صبح کی مانند یہ پیپر یہ امتحان شروع ہونے سے تیس منٹ قبل سوشل میڈیاپر گردش کرنے لگا،دوپہر کے وقت بھی انشائیہ اور معروضی طرز کے دونوںپیپر ایک ساتھ آوٹ ہوئے اور پھر بورڈ حکام نے اسے خود ساختہ قر اردے کر والدین کو مطمین کرناشروع کیاتاہم پیپر شروع ہونے کے بعد حقائق سامنے آئے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے معروضی اور انشائیہ طرز کے دونوں پیپر ٹھیک ہیں ، یہاں یہ امرقابل ذکرہے کہ اس سے قبل بھی بورڈ کے امتحانات کے پیپر قبل اازوقت سوشل میڈیاپر سامنے آجاتے جس کو بورڈ حکام جعلی قرار دیتے رہے ، حتی کہ چیئرمین بورڈ ڈاکٹر غلام دستگیر کے پی اے آصف انجم نے مری کے علاقے گلہڑ ہ گلی کے امتحانی سینٹر کی انسپکشن کے دوران پیپر کے آوٹ ہونے اور ایک نجی سکول کے مالک محسن اعجاز کے موبائل میں پیپر کے موجود ہونے کے الزامات عائد کرتے ہوئے انکے خلاف مقدمہ بھی درج کروایا، اسی طرح کہوٹہ کے علاقے میں بھی ایک ٹیچر کے پاس بورڈ کا سوالیہ پیپر موجود ہونے کی اطلاعات پر اے سی کہوٹہ نے کارروائی کی ، جب کہ وزیر اعظم پاکستان کے سٹیزن پورٹل پر بھی متعد د ایسی شکایات موجود ہیں جن کے ساتھ بورڈ کا پیپر اور اسکے آوٹ ہونے کا وقت بھی لکھاہواہے مگر اسکے باوجود کوئی سنجیدہ کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ، ادھر ذرائع کی جانب سے ملنے والے دستاویزی شواہد میں یہ بھی انکشاف ہواہے کہ چیئرمین بورڈ کے پی اے آصف علی انجم جو اس وقت کنٹرولرامتحانات شہنشاہ بابر کے ساتھ بطور پی اے ڈیوٹی دے رہے ہیں ان کی دو الگ الگ تحریر یں سامنے آئی ہیں جس میں انھوںنے تھانہ مری میں درج ہونے والے واقعے کو چیئرمین بورڈ سے نتھی کیاہے اور ملزم جس کے خلاف آوٹ پیپرکی موجودگی کا سنگین الزام عائد کیاگیا اس مقدمہ کو غلط فہمی قرار دیاگیااور معاملے پر صلح کرلی گئی ،سامنے آنے والی تحریر میں یہ بھی کہاگیاہے کہ ملزم کے ساتھ صلح چیئرمین بورڈ کے حکم پر کی گئی جس نے معاملے کو مزید سنگین بنادیاہے ، یہاں یہ امربھی قابل ذکرہے کہ بورڈ کے امتحانات جب سے شروع ہوئے ہیں اس وقت سے پیپروں کے آوٹ ہونے کی باتیں زبان ذدعام ہیں،سٹیزن پورٹل پر بھی شکایات موجود ہیں مگر اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لیاگیا، تعلیمی حلقوں نے نام شائع نہ کرنے کے وعد ے پر گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ اگر بورڈ حکام کی بات مان لی جائے تو بورڈ کے خلاف ہونے والی سازش کو کیونکر ابھی تک بے نقاب نہیں کیاجاسکا، سوشل میڈیا پر گردش ہونے والے پیپروں کا معاملہ ایف آئی اے سائبر کرائم کے سپرد کیاجاتاتو سازش کرنے والے بے نقاب ہوجاتے ، مگرایسا نہیں کیاگیا




اسی طرح بور ڈحکام مافیاکا سراغ لگاسکتے تھے کہ کون پیپرآوٹ کرنے یاکرانے میں ملوث ہے ، بورڈ والے جتنا مرضی شور مچائیں کہ انکے خلاف سازش ہورہی ہے کوئی اس کو اس لیے نہیں مانے گاکیونکہ بچوں نے پیپر حل کیے ہیں جو پیپر سوشل میڈیاپر تھے وہی پیپر انھیں حل کرنے دیاگیا، کسی بھی سینٹر کو چیک کرلیاجائے وہاں بچوں کی امتحانی حال کے اندر داخلے ہونے کا وقت دیکھ لیاجائے تو سب سامنے آجائے گا، امتحانی اداروں کے سربراہان سے پوچھ لیاجائے تب بھی یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ بچے امتحانی سینٹر کے باہر موبائل کے گرد کتابیں لے کر کھڑے ہوتے تھے اور سوالوں کے جواب دیکھ رہے ہوتے تھے یہ سب جھوٹ تو نہیں ہوسکتا، ادھر بورڈچیئرمین نے اپنا فون اٹینڈ نہیں کیا، کنٹرولر امتحانات کا فون بند ملتارہاجب کہ ترجمان ارسلان چیمہ نے جماعت نہم کے امتحانات میں پرچہ آو¿ٹ ہونے کی خبر پروضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر اپنے مذموم مقاصد کی ناکامی پر بورڈ کو بد نام کرنے کی سازش کر رہے ہیں بورڈ کی بہترین عملی کی وجہ سے نقل مافیا کو ناکامی ہوئی ہے وہ مختلف طریقے سے بورڈ پر جھوٹے الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں واضع رہے کہ قبل از وقت پرچہ اآوٹ ہونے کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی، بینک سے ڈسٹری بیو ٹینگ انسپکٹر کی نگرانی میں سپریٹنڈنٹ کو بروقت پرچہ دیا جاتا ہے اور ریزیڈنٹ انسپکٹر کی موجودگی میں سوالیہ پرچہ جات تقسیم کیے جاتے ہیں،بوٹی مافیا نے بورڈ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے بورڈ کے خلاف جھوٹا پراپگنڈہ کررہے ہیں جس میں کوئی صداقت نہ ہے۔ہم نے اس معاملے پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور معاملے کی چھان بین کے بعد رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں