1,121

حیا کی طاقت ۔ شیطان کا مقصد عظیم کیاہے؟؟

تحریر : سعدیہ مغل

اللہ تعالی نے جب آدم علیہ سلام کی تخلیق فرمائی تو ان کو بعض اشیاء کا علم عطا فرمایا۔ اللہ تعالی نےتخلیق انسان پر فخر فرمایا اور ملائکہ کو حکم دیا کہ وہ آ دم کو سجدہ کریں سب نے حکم خداوندی کی تعمیل کی مگر ابلیس نے انکار کر دیا۔ اللہ رب العزت اس کے اندر چھپے تکبر کو ظاہر کرنا چاہتے تھے۔ جب ابلیس نے حکم ماننے سے انکار کیا تو عتاب الہی کا شکار ہوا۔ راندۂ درگاہ قرار دیا گیا۔ اور جنت سے نکال دیا گیا۔
ابلیس پیچ و تاب کھانے لگا۔ اسے آدم و حوا کا جنت میں سکون، اطمینان پر لطف زندگی گزارنا ایک آنکھ نہ بھاتا۔ وہ آدم و حوا کو اپنا بد ترین دشمن گردانتا۔




ادھر حضرت آدم و حوا کو اللہ تعالی نے بتا دیا کہ اس درخت کے قریب مت جانا باقی پوری جنت تمہاری قیام گاہ ہے۔ وہ دونوں بہت شاداں و فرحاں دن گذار رہے تھے۔ کہ شیطان ان کو بہکانے لگا۔ انکو اسی درخت کے پھل کی طرف مائل کرتا جس سے اللہ نے ان کو منع فرمایا تھا۔ کبھی کوئی تدبیر کرتا کبھی کوئی جھوٹ بولتا۔ بالآخر اس نے کہا اس درخت کا پھل آپ کو ہمیشہ جنت میں رہنے کے لئے کھانا ضروری ہے۔ ان دونوں نے اس کے بہکاوے میں آ کر جونہی پھل کھایا ان کے ستر کھل گئے۔ یعنی جسم کے وہ حصے جو چھپے ہوئے تھے ننگے ہو گئے۔ یہی ابلیس کا مقصد عظیم تھا کہ وہ آدم اور اولاد آدم کے حیا دار حصوں کو ننگا کرے تاکہ اس ننگ کے باعث بے حیائی پھیلے اور بے حیائی کا اختتام قتل و غارت، فتنہ و فساد۔ بد امنی ہے۔ جس کا نتیجہ آخرکار نسل انسانی کی تباہی ہے۔ آج پھر وہی نازک وقت ہے کہ جب شیطان آج بھی عورت اور مرد کو بے لباس کرنے پر مائل کئے دے رہا ہے۔ دین پردہ کو لازم کرتا ہے۔ مرد و عورت کے اختلاط کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ نا محرم سے پردہ کا حکم دیتا ہے۔



مگر آج چند دین سے بے زار افراد شیطان کے مددگار بنتے نظر آتے ہیں۔ وہ شیطان کے اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے اس سے کہیں زیادہ بڑھ چڑھ کر جوشیلے نظر آتے ہیں۔
آج وہ زمانہ آ چکا کہ ایمان والوں اور کافرین کے گروہ الگ الگ نظر آنے لگے۔ آج طاغوتی قوتیں جس طرح صف آراء ہیں۔ ایمانی قوتوں کو بھی وہی جوش و ولولہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب ایک نیکی کا اجر کئی گنا بڑھ جائیگا۔ آئیے حیا کی طاقت سے اپنے کردار کو مضبوط کریں ۔بے حیائ کو روکیں ،ایک پر امن ،پرسکون گھر اور معاشرہ بنائیں۔
اللہ تعالی ہماری ادنی کوششوں کو قبول فرمائے۔ آمین

ادارہ سی این پی اردو کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

سی این پی ارد و پر اپنی تحریریں شائع کروانے کے لیے اپنی تحریر ( 5300061 0313 ) پر واٹس ایپ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں