1,080

آدابِ حرمین شریفین.

آدابِ حرمین شریفین۔ِ۔
تحریر: فرزانہ خورشید
کوئی بھی کام اگر خوب اچھی طرح دیکھ بھال، تیاری ،مشق اور حفاظتی اقدامات کو بروئے کار لا کر انجام دیا جائے تو اس میں ناکامی کے امکانات نوّے فیصد تک کم ہو جاتے ہیں، اور کامیابی حاصل کرنے کا اصول بھی یہی ہے کہ پہلے سے تیاری لازمی کی جائے۔




حج ایک عظیم عبادت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حج جوکہ ایک عظیم عبادت اور اہم فریضہ ہے، تو اس قیمتی عبادت کے مقبول ہونے کی فتح یابی حاصل کرنے کے لیے کیوں نہ خاص تدابیر اور لائحہ عمل تیار کیا جاۓ اور اس پر عمل کی پابندی کی جائے، تاکہ یہ فریضہِ خاص بخوبی پایہ تکمیل تک پہنچے، شرفِ قبولیت پائے، عمر بھر کے گناہوں کا کفارہ بن جائے، ہمارے تقوے کو بڑھاۓ اور مقصد حیات ہمارابس، بندگیِ خدا بن جائے۔




قبولیت میں رکاوٹ بننے والے اسباب۔۔۔
فانی دنیا کی غافل مشغلیات جیسے سیلفی بنانا، غیر ضروری خریدوفروخت کی جانب بڑھتی کشش، فضول گوئی جیسی فضولیت کی چاہ، اگر مدینے کی گلیاں،آقا رسولؐ کی یادیں انکی نشانیاں مسجد نبویؐ اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم،اور کعبہ کی زیارت ،کے بعد بھی دل سے نہیں مٹتی، دنیا کی طرف عقیدت کم نہیں ہوتی، نمود و نمائش اور ریاکاری کے خیالات سے فراغت نہیں ملتی، دل کی دنیا تبدیل نہیں ہوتی تو پھر قبولیت سے محروم اس ‘فرض’ کے رہ جانے کی یہ واضح نشانیاں ہیں۔




انمول عبادتِ حج ریاکاری سے بچائیں۔۔۔۔
افسوس آج دوسری عبادتوں کی طرح حج بھی ریاکاری سے محفوظ نہ رہ سکا،
آدابِ حرمین سے واقفیت نہ ہونے، نا مناسب تیاری اور ایمان کی کمی کی وجہ سے یہ قبولیت کی بلندی تک پہنچنے سے قاصر رہ جاتا ہے، دل ،روح، نظر اور خیالات کی پاکیزگی پانےکے لیے ایمان کو بنانے کی محنت نہ کی گئی، نتیجاً اس کے گھر کا طواف، اس کی نشانی ،اس کے جلوؤں کے حسین احساسات نے بھی عشقِ حقیقی سے محروم رکھا، زندگی یونہی پہلے کی طرح رہتی ہے، پھر دنیا اور نفس کی بے لگام خواہشیں آ گھیرتی ہیں، کیونکہ، دل اس کے عشق کے احساس سے خالی تھا تو، اطاعت کی طلب دھیمی رہ جاتی ہے ،نافرمانی کا خوف ماند پڑجاتا ہے۔

” نصیب والےہی، اسکےعشق میں، گرفتار ہوتے ہیں
خاص کرم ہےجس سےاسکے عاشق فیض یاب ہوتے ہیں”۔




خاص آدابِ حرمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خود میں مثبت بدلاؤ،اطاعتِ الہی کی جانب رغبت بڑھانے اور مناسکِ حج کی ادائیگی کو اخلاص کے ساتھ، خوش اسلوبی سے نبھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان آدابِ حرمین شریفین کا مطالعہ کر کے ان پر لازماً عمل کریں۔
سفرِحج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آغاز سفر حج کا سچی اور پاک نیت سے کریں، اور سفر کی سنتوں پر عمل کریں
1۔ جہاں تک ہو سکے سفر میں کم سے کم دو آدمی جائیں، تنہا آدمی سفر نہ کرے البتہ ضرورت اور مجبوری میں کوئی حرج نہیں کہ تنہا آدمی سفر کرے۔ (فتح الباری جلد 6 صفحہ 53)
2۔ سواری کے لئے رکاب میں پاؤں رکھیں تو بسم اللہ کہیں( ترمذی)
3۔ جب سواری پر اچھی طرح بیٹھ جائیں تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہیں، پھر سفرکی دعا پڑھیں۔
راہِ حج کی مشقتیں۔۔۔۔۔۔۔
اس راہ میں درپیش مسائل، مشکلات اور مشقتوں کا سامنا اللہ کی محبت میں اس کی خاطر خوشدلی سے برداشت کریں، اس راہ کی ہر شے ایک نعمت ہے بیماری بھی آئے تو غم نہ کریں، بس اس کا شکر اور حمد وثنا کرتے رہیں۔

اللہ کی نشانی کو محسوس کریں۔۔۔۔۔۔۔
ویسے تو نظر جدھر اٹھے ہر طرف اللہ کے جلوے ہیں، مگر حرمت والا شہر مکہ المکرمہ اللہ تعالی کی آیت کبریٰ ہے۔ کعبۃ اللہ تعالٰی آیت کبریٰ ہے کعبہ اس کا گھر ہے، اس کے گھر کی جب زیارت ہو تو صاحبِ گھر کا خیال لمحے بھر بھی اوجھل نہ ہو۔ اس کی عظمت کو سوچیں کبرائئ پر اس کی ثنا کریں شان اسکی محسوس کریں، خوب ذکرو حمد میں مشغول رہیں۔
وقتِ طواف نگاہیں نیچی ہو۔۔۔۔۔۔۔
کعبہ شریف کا یہ ادب ہے کہ طواف کرتے وقت نگاہیں نیچی ہوں ،کعبہ کو مت دیکھیں طواف میں کعبہ کو دیکھنا جائز نہیں۔
قلب کی حفاظت کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قوّتِ ایمان بڑھانے کی کوشش ہر پل ضروری ہے اور یہ قلب کی صفائی سے بڑھتا ہے، برے خیالات سے بچیں، ذہن و قلب کو پاکیزہ خیالات سے مزین کریں لوگوں کو معاف کریں،معافی سے پیار اور انتقام سے نفرت کریں۔ یوں قلب کو آلودگیوں سے شفاف رکھیں۔
حفاظتِ نظر کا خاص اہتمام ہو۔۔۔۔۔۔



نظر کی حفاظت اور بد نظری سے بچنے اور حیا کے تقدس کو تھام رکھنے کا حکم ہے اور روح کی پاکیزگی کا اصل محور نظر کی پاکیزگی ہے، نگاہیں نیچی رکھیں ادھر اُدھر نہ دیکھیں ،اس کی حفاظت سے غفلت ہرگز نہ برتیں، بد نظری ہی دل کی بربادی کا دروازہ ہے، کثرتِ استغفار ہی اس گناہ کا کفارہ ہے۔
فضول گوئی سے احتیاط کریں۔۔۔۔۔۔
غیر ضروری بات چیت سے پرہیز کریں عبادت، ذکر، تلاوت طواف، سجدوں کی کثرت میں مصروف رہیں، اور تھک جائیں توکعبہ شریف کو دیکھتے رہیں، وہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں اپنی مناجات اس کے گوش گزار کریں۔
ہدایات برائے زائرینِ مدینہ منورہ۔۔۔۔۔۔
روضہِ رسولؐ اور مسجد نبویؐ میں خوب درود شریف پڑھیں، نظر جب روضہ رسول صل اللہ علیہ وسلم پر پڑے، تو اپنے آپ کو وہ عاشق تصور کریں جو صدیوں سے اس ایک دیدار کی طلب دل میں لیے دن رات تڑپ رہا ہوں، آج جو یہ مراد بر آئی تو دل بے قابو ہے، زمین پر پاؤں نہیں ٹکتے، اس عظیم خواہش کے پورا ہونے پر، دل ایسا محسوس کرتا ہے جیسے یہ ایک خواب ہو اور کبھی اس خواب سے باہر نہ نکلنے کی آرزو دل میں لئے بس اس مقامِ افضل کو تکتا جا رہا ہو۔
شکرِخدا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مقام جو عرشِ اعظم سے افضل ہے اگر آپ اس جگہ پہنچیں تو خدا کا شکر کریں، اپنے نبیؐ کی خدمت میں نہایت ادب سے سلام پیش کریں، اپنے رب سے دعائیں مانگیں ،مغفرت مانگیں ،اپنے نبیؐ کی سفارش مانگیں، ہدایت مانگیں، عافیت مانگیں، ایمان کی طاقت مانگیں، تقویٰ مانگیں، اطاعت کی توفیق مانگیں نافرمانی سے اسکی، نفرت مانگیں، سارے عالم پر اس کی رحمت مانگیں،اپنےحج کی قبولیت مانگیں، اور واپسی پر اپنی، تمام فانی نفسانی خواہشات کو اس کے احکامات کے آگے پیروں تلے کچل ڈالنے کی ہمّت مانگیں۔
اے اللہ ہم سب کو اس عظیم سفرِحج کا مسافر بنااور گناہوں سے پاک صاف ہوکر،پلٹنے کے بعد،پھر کبھی اس دلدل میں پھنسنےنہ دینا۔
آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں