1,069

راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں پوسٹ بجٹ اجلاس

راولپنڈی ( سی این پی )راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں پوسٹ بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر چیمبر محمدناصر مرزا نے کہا ہے کہ چیمبر کو وفاقی وصوبائی بجٹ پر تحفظات ہیں۔ سیکشن 203 اے کے تحت یہ اختیار دیا گیا کہ ٹیکس آفیسرکسی ٹیکس پیرئر کو گرفتار کرسکتا ہے جو سراسر، زیادتی ہے۔ اس سے ہراسیت، رشوت اور بلیک میلنگ میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا عمومی طور پر بجٹ متوازن پیش کیا گیا تاہم بجٹ میں بعض ایسے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن سے بزنس کمیونٹی میں منفی پیغام گیا۔ کسٹم ڈیوٹی، ودھ ہولڈنگ ٹیکس، کیپیٹل گین ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کا اقدام خوش آئند ہے۔ پولٹری فیڈ اور خام مال پر ڈیوٹی کی شرح میں کمی کی گئی ہے تاہم دوسری جانب سیلز ٹیکس کی شرح دس فیصد سے بڑھا کر سترہ فیصد کر دی گئی ہے اسے واپس کیا جائے۔، گروپ لیڈر سہیل الطاف نے کہا کہ کرونا وبا سے سب سے زیادہ متاثر تاجر طبقہ ہوا ہے، پوائنٹ آف سیلز نظام کی تنصیب کے



حوالے سے وزارت خزانہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرے۔ دس لاکھ روپے جرمانے اور دکان سربمہر کرنے جیسے اقدام کو واپس لیا جائے۔ کرونا وبا کے تناظر میں ریلیف دیا جائے۔ پی او ایس نظام کو پرکشش بنایا جائے۔ اس پر سیلز ٹیکس کی شرح سنگل ڈیجٹ تک لائی جائے۔پنجاب کے بجٹ میں گیم چینجر پراجیکٹ رنگ روڈ کے لئے بجٹ مختص نہیں ہوا جسے شاید ختم کردیا گیا۔اب سننے میں آرہا ہے کہ روات سے ٹھلیاں انٹرچینج تک بائی پاس بنے گا.
کنوئنیر ٹیکس




کمیٹی شہزاد ملک نے وفاقی اور صوبائی بجٹ پر اجلاس کو تفصیل سے بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ ای ہیرنگ شروع کی جا ری ہے۔ سیکشن 122کو واپس لیا گیا ہے۔ تاہم ہمارا مطالبہ ہے کہ مینوئل نوٹس کا اجراء یقینی بنایا جائے ابھی کئی ٹیکس پیئرز ای نوٹسسز سے نا واقف ہیں۔ اس موقع پر سابق صدور جلیل احمد ملک، کاشف شبیر، اسد مشہدی، راجہ عامر اقبال، انجمن تاجران کے نمائندے شیخ حفیظ، طاہر تاج بھٹی، مجلس عاملہ کے اراکین اور چیمبرممبران بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں