1,065

نیکی کی رغبت۔ ازقلم: فرزانہ خورشید

روزِ قیامت انسان کی ہراک زرّے برابر نیکی کو بھی تولہ جائے گا، اوررب کا فضل ہے کہ اس سفرِ زندگی میں ہمارے لئے قدم با قدم نیکی حاصل کرنےکے مواقع و ذرائع موجود ہیں۔ طلب اگر سچی اور نیت صاف ہو تو رب تعالی نیکی کا حصول اس شخص کے لیے آسان بنا دیتا ہے، گناہوں اور اپنی نافرمانی سے دور کرکے اسے نیکی میں آگے بڑھ جانے کی توفیق عطا کرتا ہے۔
قرآن حکیم میں اللہ سبحانہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے “لہذا نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو”
مگر افسوس اس قدر پر زور احکام کی پروہ نہ کرکے آج کا مسلمان خود کو نیکیوں سے دور گناہ اور خلافِ شریعت کاموں میں ایک دوسرے سے آگے جانے کی رغبت و طلب میں گرفتار ہو چکا ہے۔




مغریب ودجالی تہذیب کی نقالی میں بغیر کسی جانچ پڑتال اور پرکھ کے محض مال و شہرت کے عشق میں کوئی بھی کام، پیشہ، فیشن،اورذرائع کو اپنانے میں ذرا بھی دریغ نہیں کرتا۔ یہ فکر بھی سر نہیں اٹھاتی کہ ہم جس نقشِ قدم پر چل رہے ہیں، یا جس طریقت کو اپنی زندگی میں شاملِ حال کر چکے ہیں، یہ اس کے دین کے خلاف اوراسکی آخرت کی بربادی کا ذریعہ ہیں۔ بس یہ سوچ غالب ہے کہ جب دوسرے اس راہ پر چل رہے ہیں، تو ہم کو بھی ضرور اس کا مزہ لینا چاہئے اسے اپنانا چاہیے۔ (مجبوری میں تو ویسے بھی سب جائز ہے) اس میں حرج اور برائی کیا ہے آج کے ترقی یافتہ دور کی، یہ سب ضروریات اور وسائل ہیں۔
یادرکھیں، اس کی لگائی گئی حد سے باہر قدم پھلانگنےکی اجازت ہرگز نہیں ہے۔ ہمیں رب کی رضا مطلوب ہے، اسکے احکامات توڑ کر،اسکی ناراضگی حاصل کرنا,اس کے غضب کو دعوت دینا ہے۔ ہماری زندگی کا مقصد رضائے الہی ہے، اس کی اطاعت کی رغبت میں آگے بڑھ جانے کی کوشش و جدوجہد میں ہی ہماری خوشحالی وکامرانی ہے۔

اس بے سکونی وفتنوں کے دور میں، جہاں ہر شخص ہی تقریباً کسی نہ کسی غم، بیماری ،مشکل یا خوف میں مبتلا ہے، یہاں ہم تمام مسلمانان کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے، اورگناہوں و شیطانی سازشوں سے خود کومحفوظ رکھنے کی اشد ضرورت ہے، برعکس اس کے کہ ہم نقالی میں صحیح اور غلط کی پہچان کھودیں، اپنے خالق کے احکامات بھلا دیں، اپنے مقصد کو فراموش کر کے فقط اس لیے ان غیر اسلامی تہذیب وکلچر کواپنانے لگے کہ سب کر رہے ہیں۔
گناہ کسے کہتے ہیں؟ اور نیکی کیا ہے؟ اپنے رب کی نافرمانی سے کیسے بچیں؟ اور ہمارے لئے احکام الہی کیا ہیں؟ ان سارے سوالات سے واقفیت اور انھیں جاننا ہر مسلمان کی زندگی کا لازمی امر ہے۔




اپنے ہر عمل پر غور کریں ،خود کا جائزہ لیتے رہیں۔ اور ایسے تمام کاموں سے کنارہ کشی اختیار کر لیں،جورب کی ناراضگی اور اس سے دوری کا ذریعہ ہوں۔ ہم مسلمان ہیں ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کرنا اور اپنے دین کو بچانا ہے اور اپنے دل میں نیکی کی رغبت کو بڑھانا ہے، اگرچہ یہ مشکل اور کھٹن ہی کیوں نہ ہو مگر اس سفر میں کی جانے والی جہدوکوشش بھی نیکی ہے، شرط ہے کہ نیکی کی رغبت اورگناہوں کاڈر دل میں موجود ہو۔ یہ نیکی ہی ہمیں بچائے گی۔ اس دنیا میں اور آخرت میں بھی ہماری راہ میں درپیش مسائل و دشواریوں کی تاریکیوں کو مٹانے والی روشنی بن جاۓ گی۔

،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں