1,181

سیل کا سیزن

از قلم : عصمت اسامہ
کچن میں کام کرتے ہوئے موبائل ٹون سنائ دی تو فرح نے جلدی سے ہاتھ صاف کر کے فون اٹھایا ۔۔۔۔۔۔
، السلام علیکم ۔آپی میرے ساتھ چلو گی
، میں نے آج شاپنگ کے لئے جانا ہے
زبردست سیل لگی ہوئ ہے۔
دوسری طرف اس کی چھوٹی بہن بات کر رہی تھی۔
اچھا ،میں کوشش کرتی ہوں کچھ وقت نکال لوں۔ سیل کہاں لگی ہے ؟
آپی گل احمد اور سیفائر پر ۔صرف دو دن باقی ہیں
پلیز ۔۔۔۔۔
ہوں ۔ سوٹ تو میں نے بھی لینے ہیں ۔اوکے ڈن !
فرح نے موبائل سائیڈ پہ رکھا اور جلدی جلدی کام نمٹانے لگی۔بچے سکول سے آۓ تو ان کو کھانا دے کے ماسی کو ان کا خیال رکھنے کو کہا اور جیسے ہی بانو کی گاڑی کے ہارن کی آواز آئ وہ باہر نکل آئ۔سارا راستہ کپڑوں ،فیشن اور ٹرینڈز پہ گفتگو ہوتی رہی ۔مارکیٹ پہنچے تو ہر شاپ گویا
اپنی طرف بلارہی تھی




لوگوں کا اژدھام تھا۔ لگتا تھا کہ خواہشات کے ریلے میں سب بہتے چلے جارہے ہوں۔
فرح نے کچھ سوٹ اپنے اور کچھ بچوں کی ضرورت کی اشیاء خریدیں ،چلتے چلتے کچھ جیولری بھی لے لی۔ ایک طرف ایک ضعیف آدمی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔دیکھنے میں بہت کمزور اور بیمار لگتا تھا۔ فرح نے اسے دیکھا تو لگا کہ ضمیر اسے ملامت کر رہا ہے کہ کسی غریب کا بھی کچھ بھلا کردو۔فرح نے بے اختیار کچھ
پیسے اس کے ہاتھ پہ رکھ دئیے۔
کون تھا یہ ؟ اس کی بہن بانو نے فرح سے پوچھا ۔
“انسان”.فرح اپنے دھیان میں کہہ کے آگے بڑھ گئ۔
مال میں ایک جوس کارنر پہ وہ ذرا دیر کے لئے ٹھہریں تو بانو کہنے لگی “آپی آپ کو پتہ ہے کہ رات کو بابا کی طبیعت خراب ہوگئی تھی ؟”
اللہ خیر ، کیا ہوا بابا جان کو ؟فرح نے چونک کر پوچھا۔
بی پی بہت ہائ تھا پھر بھائ جان ان کو ڈاکٹر پہ لے کر گئے۔بانو نے بتایا۔
اوہ ،اللہ شفا عطا فرمائے۔ میرا خیال ہے کہ میں گھر جانے سے پہلے بابا سے مل ہی لوں ۔فرح بات کر رہی تھی کہ قریبی مسجد سے اذان کی صداۓ جاں فزا سنا ئ دی۔
آف ، مجھے پتہ ہی نہیں چلا اور مغرب کی نماز رہ گئ ۔اب گھر جا کے دونوں نمازیں پڑھتی ہوں۔اب تو بہت دیر ہوگئ ہے ۔اب بابا سے ملنے کا وقت بھی نہیں رہا۔وہ دونوں اپنے شاپنگ بیگ تھامے مال سے باہر آئیں اور گاڑی میں سامان رکھ کے گھر کو روانہ ہوئیں۔ بانو نے ڈراپ کیا تو گھر داخل ہوتے ساتھ ہی فرح کو پتہ چلا کہ بچوں نے پورا گھر تلپٹ کر رکھا ہے۔اس نے جلدی جلدی ضروری صفائ کی اور کھانا بنانے لگی ۔موبائل ٹون پھر سنائ دے رہی تھی۔ اس نے فون اٹھایا تو دوسری طرف اس کی نند آنے کے موڈ میں تھی ۔ نہیں بھئ بچوں کے ٹیسٹ ہورہے ہیں ۔اپ دو دن بعد آنا ،اوکے ۔ اس نے نند کو ٹالا اور پریشر ککر چیک کرنے لگی ۔ آج دن کتنی جلد گزر گیا،فرح نے سوچا اور پھر میاں صاحب کے آنے پہ ٹیبل پہ کھانا لگا دیا۔ جلدی سے نماز پڑھیں اور نجانے کب نیند کی وادی میں اتر گئ۔
دھندلی سی فضا تھی اور اجنبی سا ماحول تھا ۔ فرح دیکھ رہی تھی کہ وہ ایک گزرگاہ پہ چل رہی ہے جہاں مختلف سواریوں پہ لوگ گزر رہے ہیں ۔اس کے پاس سے ایک گاڑی تیز رفتاری سے گزری تو فرح نے دیکھا کہ اس میں اس کے بچے بیٹھے ہوئے اسے آوازیں دے رہے ہیں ۔ماما ، بھوک لگی ہے ۔۔۔۔



اتنے میں کوئ اسے پیچھے سے پکارتا محسوس ہوا ۔۔۔بھابھی ،فرح بھابھی ، میں آجاؤں ؟
فرح نے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ اس کی نند کس جگہ سے اسے پکار رہی ہے ؟
اتنے میں اسے بابا جان کی گاڑی دکھائ دی ،وہ بے اختیار اس کے پیچھے دوڑنے لگی ۔۔۔لیکن وہ بھی گزر گئے ۔۔۔
آنسو فرح کی پلکوں کو بھگونے لگے ۔ میرے خدا ، میرے حال پہ رحم فرما ۔ میں بالکل تنہا ہوں ۔ یہاں کوئ میرے ساتھ نہیں ہے بس تیری ذات ہے ۔فرح نے دل کی گہرائ سے اپنے رب کو پکارا۔
بی بی جی ،رکشہ چاہیے آپ کو ؟ ایک رکشے والا اس کے پاس آکے بولا۔ فرح نے سکھ کا سانس لیا اور اسے گھر کا ایڈریس بتانے لگی۔گھر پہنچ کے اس نے رکشے والے کو پیسے دینے کے لئے پرس کھولا تووہ کہنے لگا
آپ رہنے دیں بی بی جی۔ پیسے تو آپ پہلے ہی دے چکی ہیں ۔
ہیں ؟ میں نے کب دئیے ؟ فرح نے حیران ہوکے کہا۔
بی بی جی ،آپ نے مجھے سو روپے کا نوٹ دیا تھا نا ، بس وہی آپ کو منزل تک پہنچانے کی قیمت تھی ۔
فرح کے ذہن میں ایک جھماکا ہوا
اچھا تو میری وہ نیکی میرے کام آئ ہے ۔۔۔۔
فرح کی یکدم آنکھ کھل گئی ۔ الحمدللہ میرے رب ،تو نے مجھے سمجھایا کہ وہ
سیل تو میرا امتحان تھی ۔مجھے سمجھ آگیا کہ میں نے کیا کھویا ہے اور کیا پایا ہے ۔
~ کسی درد مند کے کام آ، کسی ڈوبتے کو اچھال دے !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں