1,068

شبِ عید (یوم الجائزہ) کے فضائل ازقلم:فرزانہ خورشید

شبِ عید (یوم الجائزہ) کے فضائل:
ازقلم:فرزانہ خورشید
شب قدر، جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، مگر یہ ہم سے مخفی رکھی گئی،کہا کہ اسے رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ مگر شبِ عیدجسے، لیلۃ الجائزہ یعنی” انعام اور بخشش کی رات” کا نام دے کر ہم پر ظاہر کر دیا گیاتاکہ ہم ،اس رات عبادت کرکے پورے رمضان، اپنی کی گئی محنت و مشقتوں کا اجر حاصل کرلیں، اس کے کرم و فضل اور انعامات سمیٹ لیں۔



لیلۃ الجائزہ کی فضیلت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلاشبہ بہت فضیلت اور برکت والی رات شب عید، جس میں خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کرنے والا،اللہ کا قرب اور جنت کا حقدار قرار پاتا ہے،ڈھیروں انعام و کرام سے نوازا جاتا ہے اور مغفرت و بخشش کا قیمتی پروانہ اسے عطاء کیا جاتا ہے۔
اس بابرکت شب کی عبادت اور قبولیت بےشک رب کی بڑی نوازش اور بڑا رحم و کرم ہے کہ پہلے توفیق مل جائے اور پھر بارگاہ الہی میں شرفِ قبولیت کا درجہ بھی حاصل ہو جائے۔
دل مُردہ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت ابوامامہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا “جس نےعیدین (عیدالفطر اور عیدالاضحی) کی دونوں راتوں میں اللہ تعالی سے اجر و ثواب کی امید رکھتے ہوئے عبادت میں قیام کیا، اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا جس دن سب کے دل مردہ ہو جائیں گے۔
(سنن ابن ماجہ:1786)
شب عید آپؐ کس طرح گزارتے ۔۔۔۔۔۔؟
” آپؐ ہمیشہ اس رات میں قیام فرماتے آپ صل اللہ علیہ وسلم چونکہ اعتکاف فرماتے تھے اس لئے آپؐ کا یہ معمول شریف تھا کہ حضورؐ یہ رات بھی مسجد میں ہی قیام فرماتے، اور وہیں سے نمازِ عید کی ادائیگی کے لیے سیدھے عیدگاہ تشریف لے جاتے” ۔



یوم الجائزہ پر رب کی خاص عنایت۔۔۔۔۔
حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ” رمضان کی ہر رات افطار کے وقت لاکھوں لوگوں کو دوزخ سے آزاد کیا جاتا ہے۔ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو اس کی ہر گھڑی میں اس قدر افراد کو آزاد کیا جاتا ہے اور جب رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اللہ تعالی اس دن میں اتنی تعداد میں لوگوں کو دوزخ سے آزاد فرماتا ہے جس قدر اس نے پورے مہینے میں آزاد فرمائے ہوتے ہیں۔
( لطائف المعروف ص380)
مغفرت کی بشارت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ رمضان کے حوالے سے میری امت کو پانچ ایسی چیزیں عطا ہوئی (ان میں سے ایک یہ ہے کہ) امت کو اس کی آخری رات میں معاف کردیا جاتا ہے”
عرض کیا گیا کہ کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟ حضور اکرمؐ نے فرمایا نہیں، مزدور جب اپنا عمل مکمل کر لیتا ہے تو اسے پورا اجر دے دیا جاتا ہے۔
اللہ سبحانہ تعالی ہمیں حضور اکرمؐ کی اس بشارت کو حاصل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔
اہمیت ،فضیلت، فرضیت۔۔۔۔۔۔۔۔
آپؐ کی شبِ عید قیام و عبادت کی خاص ترغیب و تاکید سے اس رات کی اہمیت ،فضیلت بخوبی حاصل ہوتی ہے کہ ہم اسے پانے کا خصوصی اہتمام کریں، اور پہلے سے نیت،ارادہ و تیاری کریں،
عموماً آج مسلمانوں کے دلوں میں شب قدر میں عبادت اور اسے پانے کا جوش و خروش تو پایا جاتا ہے، مگر افسوس اس شب کی فضیلت و اہمیت سے اکثریت انجان ہے، اور جو باخبر ہیں ان میں سے بھی بیشتر اس رات کو عیدو دعوتوں کی تیاریوں، اور دیگر امور و مشاغل میں مصروف ہو کر( جب رب رحمتیں لٹا رہا ہوتا ہے ،مرادیں پوری کی جارہی ہوتی ہے، بخشش کے پروانے مل رہے ہوتے ہیں ) اس نایاب وقت کو غفلت میں گنوا بیٹھتے ہیں۔
لہذا اب سے عہد کریں اسے ذکر، نوافل ،تلاوت اور دعاؤں کی کثرت سے بہترین گزاریں، اسے پکاریں، اپنے رمضان بھر کی عبادات کی قبولیت مانگیں، اس کی محبت اس کی رضا مانگیں، دونوں جہاں کی عافیت مانگیں، بخشش مانگیں، گناہوں پر اپنی مغفرت مانگیں، ایمان و یقین کی دولت مانگیں۔ صراط مستقیم پر چلتے رہنے کی، مدداورہدایت مانگیں۔ اللہ ہمیں اس رات کے ایک لمحے میں بھی اپنے انعامات سے محروم نہ رکھے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں