1,061

مضر صحت مرغیوں کی فروخت کا مرغی منڈی سے کوئی تعلق نہیں . پولٹری آڑھت ایسوسی ایشن راولپنڈی

راولپنڈی(آن لائن) پولٹری آڑھت ایسوسی ایشن راولپنڈی نے مرغی منڈی میں کم وزن،بیمار اور مضر صحت مرغیوں کی فروخت کے نام پر تواتر کے ساتھ فوڈ اتھارٹی کی کاروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولٹری کی صنعت کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے بلاجواز کاروائیوں کو یکسر مسترد کردیا ہے اورایک بار پھر واضح کیا ہے کہ بیمار، کم وزن اور مضر صحت مرغیوں کی فروخت کا مرغی منڈی سے کوئی تعلق نہیں فوڈ اتھارٹی پولٹری کے کاروبار کی ساکھ کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے اور مختلف کاروائیوں میں بیوپاریوں اور آڑھتیوں کو لاکھوں روپے




کا نقصان پہنچایا جا چکا ہے وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیئر مین فوڈ اتھارٹی آئے روز مرغی منڈی میں فوڈ اتھارٹی کے بلاجواز چھاپوں کا نوٹس لیں اور تاجرروں کوکاروبار کے لئے سازگارماحول فراہم کریں بصورت دیگر مرغی منڈی میں غیر معینہ مدت تک ہڑتال کر کے مکمل ناکہ بندی کی جائے گی ان خیالات کا اظہارایسوسی ایشن کے نمائندہ اجلاس میں کیا گیاایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کہا کہ مرغی منڈی میں مرغی کی تمام اقسام کی خریدو فروخت پولٹری کے مجوزہ ایس او پیز کے تحت کی جاتی ہے جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی بلاجواز طور پر منڈی میں چھاپے مار کر تاجروں کا لاکھوں روپے کا نقصان کر چکی ہے انہوں نے کہا کہ فوڈ اتھارٹی کوخود پولٹری کے ایس او پیز کا علم نہیں ہے نہ ہی ان کے ساتھ کوئی متعلقہ افراد موجود ہوتے ہیں علی الصبح آکر منڈی کو گھیرے میں لے کر تمام داخلی و خارجی راستے بند کر دیئے جاتے ہیں اور مختلف مقامات سے منڈی پہنچنے والی لوڈ شدہ گاڑیوں سے نکال کرنہ




صرف زندہ اور صحت مندمرغیاں کم وزن یا مضر صحت قرار دے کرذبح کر کے تلف کر دی جاتی ہیں بلکہ گاڑی مالکان کو 20سے25ہزار روپے جرمانہ کر دیا جاتا ہے حالانکہ سفر کر کے آنے والی برائلر مرغی کو جب تک دانہ پانی نہ دیا جائے اس وقت مرغی دوبارہ ایکٹو نہیں ہوتی انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن اس حوالے سے پہلے ہی کڑی نگرانی کرتی ہے کہ کوئی بھی ڈسٹری بیوٹر بیمار یا کم وزن مرغی یہاں نہ لا سکے اور ایسا ہونے کی صورت ایسوسی ایشن خود ایسے بیوپاریوں کا مال واپس بھجوا دیتی ہے اور سزا کے طور پر ان پر کچھ روز کی پابندی عائد کر دی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ پولٹری ایس او پیز کے تحت 400سے 1500 گرام وزن کی مرغی فروخت کی جا سکتی ہے اور اس حوالے سے پہلے ہی مکمل دھیان رکھا جاتا ہے کہ اس سے کم وزن مرغی فروخت نہ کی جائے لیکن فوڈ اتھارٹی کا عملی مرغی کا وزن کئے بغیر اپنی مرضی سے کم وزن قرار دے کر ذبح کر کے تلف کر دیتا ہے پھر اس پر ستم یہ کہ منڈی میں آپریشن کے لئے ایسا انداز اپنایا جاتا ہے کہ ہم لوگ رزق حلال کمانے والے تاجر نہیں بلکہ کوئی دہشت گرد یا جرائم پیشہ عناصر ہیں مرغی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایک طرف ڈیمانڈ اور سپلائی میں عدم توازن جبکہ دوسری جانب چوزے، فیڈ اور ادویات کی قیمتوں میں یکدم کئی گنا اضافے سے پہلے ہی60سے70فیصد پولٹری فارم بند ہو چکے ہیں مارکیٹ میں کریڈٹ سسٹم ختم ہونے سے مالی طور پر کمزور بہت سے لوگ کام چھوڑ چکے ہیں پولٹری فارموں سے لے کر پرچون فروش تک ہزاروں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر بیمار اور مضر صحت مرغیوں کی فروخت یا پولٹری کی صنعت میں کسی قسم کی بیماری کو محض پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب لغو باتیں ہم لوگ کئی دہائیوں سے گھروں میں مرغی استعمال کرتے ہیں ہم لوگ لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کر کے یہاں بیٹھے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے مہنگے نرخوں پر کوئی آڑھتی، ڈسٹری بیوٹر یا دکاندار بیمار اور لاغر مرغی خریدے گا انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کوئی گھناؤنا فعل کہیں موجود بھی ہے تو اس کا مرغی منڈی یا جائز کاروبار کرنے والوں سے کوئی تعلق نہیں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹیں یا ویڈیو ز دوردراز علاقوں کی ہوتی ہیں اور




ایک منصوبہ بندی کے تحت انہیں وائرل کیا جاتا ہے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوڈ اتھارٹی نے کاروائیاں بند نہ کیں تو ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا اور احتجاج کی کال دی جائے گی انہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور چیئر مین فوڈ اتھارٹی تنویر بٹ سے بھی اپیل کی کہ وہ آئے روز مرغی منڈی میں فوڈ اتھارٹی کے بلاجواز چھاپوں کا نوٹس لیں اور تاجروں کو کاروبار کے لئے بہتر فضا مہیا کریں اور سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈے کا تدارک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں