1,031

عقیدہ حلول و تجسم

از قلم : عزیز انجم ملک

حلول و تجسم کا عقیدہ سب سے پہلے انجیل یوحنا میں ملتا ہے، اس انجیل کا مصنف، حضرت مسیح کی سوانح کی ابتداء ان الفاظ سے کرتا ہے۔
“ابتداء میں کلام تھا، اور کلام خدا کے ساتھ تھا، اور کلام خدا تھا یہی ابتداء میں خدا کے ساتھ تھا۔ ” ( یوحنا 1:او 2)
اور آگے چل کر وہ لکھتا ہے۔
“اور کلام مجسم ہوا، اور فضل اور سچائی سے معمور ہو کر ہمارے درمیان رہا، اور ہم نے اس کا ایسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اکلوتے کا جلال ( یوحنا : 14)
عیسائی مذہب میں “کلام” خدا کے اقنوم ابن سے عبارت ہے، جو خود مستقل خدا ہے، اس لئے یوحنا کی عبارت کا مطلب یہ ہوا کہ خدا کی صفت کلام یعنی بیٹے کا اقنوم ختم ہو کر حضرت مسیح علیہ السلام کے روپ میں آ گیا تھا، مارس ریلٹن اس عقیدے کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
“کیتھولک عقیدے کا کہنا یہ ہے کہ وہ ذات جو خدا تھی ، خدائی صفات کو چھوڑے بغیر انسان بن گئی، یعنی اس نے ہمارے جیسے وجود کی کیفیات اختیار کر لیں جو زمان و مکان کی قیود میں مقید ہے اور ایک عرصے تک ہمارے درمیان مقیم رہی ہے “۔




بیٹے، کے اقنوم کو یسوع مسیح کے انسانی وجود کے ساتھ متحد کرنے والی طاقت عیسائیوں کے نزدیک روح القدس تھی پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ روح القدس سے مراد عیسائی مذہب میں خدا کی صفت تھی اس لئے اس عقیدے کا مطلب یہ ہوا کہ چونکہ خدا کو اپنے بندوں سے محبت تھی اس لیے اس نے اپنی صفت محبت کے ذریعہ اقنوم ابن کو دنیا میں بھیج دیا، تاکہ وہ لوگوں کے اصلی گناہ کا کفارہ بن سکے۔
یہاں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ عیسائیوں کے نزدیک بیٹے کے حضرت مسیح علیہ السلام میں حلول کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ” بیٹا خدائی چھوڑ کر انسان بن گیا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے صرف خدا تھا اب انسان بھی ہو گیا،” لہذا اس عقیدے کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام بیک وقت خدا بھی تھے اور انسان بھی۔
الفریڈ ای گاروے اسی بات کو ان الفاظ میں ظاہر کرتا ہے۔
” وہ حضرت مسیح حقیقتاً خدا بھی تھے، اور انسان بھی، ان کی ان دونوں حیثیتوں میں سے کسی ایک کے انکار یا ان کے وجود میں دونوں کے متحد ہونے کے انکار ہی سے مختلف بدعتی نظریات پیدا ہوئے۔ اتہانے شیس نے اریوس کے مقابلے میں اس نظریے کی پرزور حمایت کی تھی لہذا منظور شدہ فارمولا یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ایک شخصیت میں دو ماہتیں جمع ہو گئی تھیں” ( انسائیکلوپیڈیا آف ریلجن اینڈ ایتھکس ) انسانی حیثیت سے حضرت مسیح علیہ السلام خدا سے کم رتبہ تھے، اس لئے انہوں نے یہ کہا تھا کہ:
” باپ مجھ سے بڑا ہے ”
اور اسی حیثیت سے ان میں تمام انسانی کیفیات پائی جاتی تھیں لیکن خدائی حیثیت سے وہ باپ کے ہم رتبہ ہیں، اس لئے انجیل میں آپ کا یہ قول مزکور ہے۔
“میں اور باپ ایک ہیں”
آگسٹائن لکھتے ہیں،




“علیٰ ہذا القیاس خدائی حیثیت سے انہوں نے انسان کو پیدا کیا، اور انسانی حیثیت سے وہ خود پیدا کیے گئے ”
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص خدا بھی ہو اور انسان بھی خالق بھی اور مخلوق بھی، برتر بھی ہو اور کمتر بھی۔ عقیدہ تثلیث کی طرح یہ سوال بھی صدیوں سے بحث و تمحیص کا محور بنا رہا ہے۔ااس سوال کے جواب میں اس قدر کتابیں لکھی گئی ہیں کہ علم مسیحیت کے نام سے ایک مستقل علم کی بنیاد پر گئی۔
جہان تک رومن کیتھولک چرچ کا تعلق ہے وہ اس سوال کے جواب میں زیادہ تر انجیل یوحنا کی مختلف عبارتوں سے استدلال کرتا ہے۔ گویا اسکے نزدیک یہ عقیدہ نقلی دلائل سے ثابت ہے، رہی عقل تو عقیدہ حلول کو ۔۔۔۔۔ انسانی سمجھ سے قریب کرنے کے لیے وہ چند مثالیں پیش کرتا ہے ، کوئی کہتا ہے کہ خدا اور انسان کا یہ اتحاد ایسا تھا جیسے انگوٹھی میں کوئی تحریر نقش کر دی جاتی ہے کوئی کہتا ہے کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے آئینے میں کسی انسان کی شکل منعکس ہو جائے تو جس طرح انگوٹھی اور تحریر کے نقش ہونے سے ایک ہی وجود میں دو قسم کی چیزیں پائی جاتی ہیں ۔انگوٹھی اور تحریر اور جس طرح آئینے میں کسی شکل کے منعکس ہونے سے ایک ہی وجود میں دو حقیقتیں پائی جاتی ہیں ، آئینہ اور عکس اسی طرح ابن حضرت مسیح علیہ السلام کے انسانی وجود میں حلول کر گیا تھا، اور اس کی وجہ سے ان کی شخصیت میں بھی بیک وقت دو حقیقتیں پائی جاتی تھیں ، ایک خدا اور ایک انسان کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس دلیل کو اکثر مفکرین نے قبول نہیں کیا۔
اس تاویل میں انسان کو خدا کے مشابہ بنا کر پیدا کرنے کے یہ عجیب معنی بیان کئے گئے ہیں کہ خدا میں پہلے سے انسانیت کا ایک عنصر موجود تھا اور اس عنصر کا ایک عکس انسان میں منتقل کر دیا گیا۔حالانکہ اگر کتاب پیدائش کے الفاظ واقعتاً الہامی ہیں تو ان کا زیادہ سے زیادہ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو علم و شعور عطا کیا ہے اسے اچھے برے کی تمیز بتلائی اور خیر و شر دونوں کی طاقت عطا کی خود کیتھولک علماء قدیم زمانے سے اس آیت کا یہی مطلب بیان کرتے آئے ہیں۔




آگسٹائن اپنی مشہور کتاب “دی سٹی آف گاڈ” میں لکھتے ہیں:
” پھر خدا نے انسان کو اپنی مشابہت میں پیدا کیا، اس لئیے اس نے انسان کے لیے ایک ایسی روح پیدا کی جس میں عقل و فہم کی صلاحیتیں ودیعت کی گئی تھیں تاکہ وہ زمین کی ہوا اور سمندر کی تمام مخلوقات سے افضل ہو جائے۔ جنہیں یہ چیزیں عطا نہیں کی گئیں ”
یہ تھا عقیدہ حلول و تجسم کا تعارف۔ یہ مذہب عیسائیت سے تعلق رکھتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں