1,088

راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں شامل زمین سے کوئی تعلق نہیں، غلام سرور

راولپنڈی ( سی این پی ) وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرورخان نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی انکوائری رپورٹ کو متنازع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے میں شامل زمین میں میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرہوا بازی غلام سرور خان نے کہا کہ رنگ روڈ کا منصوبہ کافی عرصے سے زیر غور ہے، موجودہ اپوزیشن پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) 3،3 بار اقتدار میں رہیں لیکن اس پر کوئی فیصلہ نہ کرسکیں اور اس کو عملی جامہ نہ پہنا سکیں۔



انہوں نے کہا کہ جی ٹی روڈ پر پنڈی سے لاہور یا ملتان کی طرف جائیں تو چھوٹے شہروں میں رنگ روڈ یا بائی پاسز موجود ہیں لیکن پنڈی کا بائی پاس اور رنگ روڈ کیوں نہیں بن سکا، یہ بڑا سوالیہ نشان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کو عملی جامہ پہنانے کا کسی نے نہیں سوچا لیکن ہماری پارٹی اور وزیراعظم عمران خان کا وژن تھا کہ یہ رنگ روڈ بننا ہے اور ہم نے بنانا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 2017 میں ایک الائمنٹ فائنل ہوئی تھی لیکن حتمی منظوری نہیں دی گئی تھی تاہم موجود حکومت نے اس منصوبے کو بنایا اور میں نے خود پنجاب ہاؤس میں بریفنگ لی تھی، کمشنر پنڈی کیپٹن (ر) محمود احمد تھے اور مجوزہ الائمنٹ بتائی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنیکلی ممکن نہیں ہے اور این ایچ اے کو بھی تحفظات ہیں تو میری تجویز تھی کہ موٹروے کے ساتھ استعمال کیا جائے تو جواب میں کہا کہ موٹر وے کے رائٹ آف ویز میں بہت ساری ہاؤسنگ سوسائٹیز آئی ہیں اور زیادہ لاگت لگے گی۔

انہوں نے کہا کہ الائمنٹ تک کوئی سیاسی تعلق نہیں ہے، اگر تبدیل ہوئی ہے تو یہ ٹیکنیکل وجوہات ہیں جو ہمیں اس وقت بتائی گئی ہیں۔

‘پروگرام کرنے والوں پر ہتک عزت کا دعویٰ کروں گا’
غلام سرور خان نے کہا کہ ہم بیچارے لوگ ہیں، کہیں دھول اڑتی ہے تو سب سے آسان نام کسی سیاست دان کا ہوتا ہے، نام لینا بھی آسان ہے اور اس کا پرچار کرنا بھی آسان ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے مختلف پروگرام اور یوٹیوب میں دیکھتا رہا اور سنتا رہا، ‘یوٹیوب چینل پرعمران خان نے دو باتیں کیں اور میں خود کو اس تک محدود کروں گا’۔




ان کا کہنا تھا کہ مجھے پیٹرولیم کی وزارت دی گئی تھی اور وہ تبدیل ہوئی اور وہ کسی اسکینڈل کی وجہ سے تبدیل ہوئی تو مجھے اس پر افسوس ہوا اور وزارتیں تبدیل کرنا وزیراعظم کا حق ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر کوئی اسکینڈل ہوتا تو مجھے گھر بھیج دیا جاتا اور اگر کوئی اسکینڈل تھا تو موصوف اس وقت ثبوت لاتے اور موٹر وے الائمنٹ کو اسکینڈل اور مجھ سے ملانے کی کوشش کی گئی جس کی میں مذمت کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ ثابت کریں کہ کس اسکینڈل کی بنیاد پر مجھے پیٹرولیم کی وزارت لی گئی اور اس اسکینڈل کو نمایاں کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسرا اسکینڈل بنانے کی ناکام کوشش کی گئی، میں اور میرے خاندان نے 5 دہائیوں سے سیاست کو عبادت، خدمت سمجھ کر کی ہے، دیانت سے کی ہے، سیاست کو ذریعہ معاش یا پہچان نہیں بنایا اور میں دعوے کے ساتھ کہہ رہا ہوں، ملک کے ادارے، ایجنسیاں اور میڈیا بھی موجود ہے۔

‘رنگ روڈ میں زمین ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑ دوں گا’
انہوں نے کہا کہ رنگ روڈ کے اسٹارٹنگ پوائنٹ سے آخرتک میری یا میرے بھائی، میرے بیٹے، میرے بھتیجے ، میرے خاندان اور میرے قوم کی ایک انچ یا ایک مرلہ ثابت ہوجائے پورا خاندان تاحیات سیاست چھوڑ دے گا، میں اس موصوف کو مخاطب کرکے کہہ رہا ہوں جس نے پہلے اور دوسرے اسکینڈل کی بات کی۔

غلام سرور خان نے کہا کہ وہ ثابت کریں کہ کبھی زمین تھی، کبھی زمین لی، کبھی زمین دی، کبھی زمین ہے تو میں سیاست چھوڑنے کو تیار ہوں، پھر مجھے کسی سوسائٹی کے ساتھ منسلک کرنے کی بھی کوشش کی گئی، میرا اور میرے خاندان کا کسی سوسائٹی سے کوئی لنک نہیں ہے۔




انہوں نے کہا کہ ‘سیاست عزت کے لیے کرتے ہیں، عزت پر حرف آئے گا تو مرنے اور مارنے پر ترجیح دیں گے، تو میں ہتک عزت کا دعویٰ کروں گا اس شخص کے خلاف، میں اس شخص کے خلاف جاؤں گا، جو میری ذات، میرے کردار اور میرے خاندان پر اس طرح کی ناپاک زبان کھولے گا اس کو چھوڑوں گا نہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) سیاسی جماعت ہے اور اس کے ایک رہنما نے کہا کہ غلام سرور خان اور اس کے بھائی کی زمین تھی اور اس کو لنک کرنے کے لیے الائمنٹ تبدیل کی گئی تو میں اس کو بھی چیلنج کرتا ہوں کہ لے آئیں ثبوت، اگر کوئی ثبوت نہیں ہیں الزام نہیں لگنا چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) کے عطااللہ تارڈ کا نام لیے بغیر کہا کہ انہیں بھی نوٹس دوں گا، اس کو بھی حساب دینا ہوگا کہ وہ کل کیا تھا اور آج کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے اور میرے خاندان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، نہ اس کی الائنمٹ، کسی سوسائٹی کے ساتھ ہمارا مالی تعلق ہے اور نہ ہمارے کہنے پر الائمنٹ تبدیل کی گئی۔

‘انکوائری رپورٹ متنازع ہے’
غلام سرور خان نے کہا کہ کمشنر کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی بنی جس میں ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل کمشنر پنڈی کو رکھا گیا، کمیٹی نے انکوائری کی لیکن کنوینرنے رپورٹ فائنل کی اس کی توثیق اراکین نے نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کنوینر نے اپنی آزادانہ رپورٹ اپنے دستخط سے وزیراعلیٰ کو بھیج دی اور اس پرصوبائی حکومت یا وزیراعلیٰ نے من و عن ایکشن لیا جبکہ میرے خیال میں یہ رپورٹ متنازع ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے اراکین نے کشمنر کی رپورٹ پر دستخط نہیں کیے تو اس کی وضاحت نہیں بنتی، اور ہماری تحریک انصاف کی حکومت انصاف کے تقاضے پوری نہیں کرتی۔




وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے لیے کہ یہ انکوائری متنازع ہوگئی ہے، اس رپورٹ کی کوئی کریڈیبلٹی نہیں ہے، میں کابینہ میں بھی بات کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ اس پر نئی کمیٹی اور تحقیقات کرنے والا ادارہ بنے، جس میں سیاست دان کا نام آتا ہے، میرا ساتھی زلفی بخاری کا نام ہے، میں ان کا دفاع نہیں کر رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا کسی خاندان اور کسی کے ساتھ ذاتی تعلق ہوسکتا ہے لیکن الائمنٹ، سوسائٹی، کسی کمپنی یا کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیٹی اور انکوائری رپورٹ میں بھی میرا نام نہیں ہے، میرا نام کہیں سے فیڈ ہوا اور کسی کے کہنے پر کچھ میڈیا ہاؤسز کی طرف سے ایک سیاسی جماعت کے حوالے سے لیا گیا، اس لیے ضروری سمجھا کیونکہ لوگوں کے ذہن میں میڈیا پر ہونے والی باتیں بیٹھ جاتی ہیں اور میں نے اس کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

غلام سرور خان نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کا فلیگ شپ منصوبہ اور قومی اہمیت کا منصوبہ ہے، اس لیے اس کو تنازع کا شکار نہیں ہونا چاہیے، یہ پاکستان، پنڈی اور اسلام آباد کا منصوبہ ہے، اس کا فائدہ پی ٹی آئی کو ملے گا، اس سے ضرور بننا چاہیے، کسی نے غلط کیا ہے تو اس کو سزا بھی ضرور ملنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں