1,060

خواب گاہ میں ریت

از قلم : ملک شاہد عزیز انجم
مبشر سعید کا کلام صوری و معنوی خصوصیات کے لحاظ سے بحر بے پایاں ہے۔ کلام میں منظر نگاری کے تمام لوازمات مثلاً قدرت بیان ، ندرت تشبیہ اور علو تخیل سب ہے۔ ان کا کلام پڑھتے ہوئے تمام مناظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔
کہتے ہیں :۔
ایک کمرا، کہ خواب جیسا ہے
دھیان جس کا جگا رہا ہے مجھے
ایک کشتی اداس بیٹھی ہے
ایک دریا بلا رہا ہے مجھے
دشت کی پیاس یاد آتی ہے
رنج دریا کا کھا رہا ہے مجھے




مبشر سعید اپنے تخیل کو لفظوں کا وجود دینا اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کا یہ انداز ہمیں کالرج کی یاد دلاتا ہے۔ جو قوتِ متخیلہ سے سخن کی تخلیق کا ہنر جانتا تھا اور اب اس روایت کا سراغ مبشر سعید کی شاعری میں بہر طور ملتا ہے۔

رات جب آ گئی، آسمان کی فضا روشنی سے اٹی
میں اکیلا اداسی بِتاتا رہا، دل جلاتا رہا

ان کے مجموعہ کلام “خواب گاہ میں ریت ” میں کھتارسس، منظر نگاری ، خود کلامی ، خیال و احساس ، فکر و فن کا نرم مصرعوں میں بیان ، دردواثر ، سوز و گداز ،عاشقانہ رنگ ، جوش بیان ، رفعت تخیل اور رقص و سرود کا خوشگوار رنگ جگہ جگہ ملتا ہے۔

میں اگر پھول کی پتی پہ ترا نام لکھوں
تتلیاں اڑ کے ترے نام پہ آنے لگیں

خود کلامی کا خوبصورت انداز دیکھیں۔

آئینہ دیکھ کر پوچھتا ہوں
میں کہیں آپ سے ملا تو نہیں ؟

مجھے اپنا بدن ملتا نہیں ہے
بتاؤ تو ، کہاں رکھا ہے مجھ کو ؟




ان کا کلام پڑھنے کے بعد احساس ہوتا ہے گویا “خوابوں کی دھن پہ رقصاں ہے زندگی ” ۔ آپ حسرت محبت ، رنگ و فطرت ،رقص و سرور کے خوشگوار ماحول کے بہترین شاعر ہیں۔

اب مرا عشق دھمالوں سے کہیں آگے ہے
اب ضروری ہے کہ میں وجد میں لاؤں تجھ کو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں