1,056

جب ایک فلسطینی نے مرتضیٰ بھٹو سے منہ پھیر لیا.

تحریر طاہر نعیم ملک

ھمارے دوست فرخ سہیل گوئندی معروف دانشور کالم نگار پبلشر نے چند سال قبل ایک کتاب کی تقریب رونمائی منعقد کی.
جس میں ھمارے بزرگ دوست پیپلزپارٹی راولپنڈی کے سابق صدر اور سینئر سردار سلیم جب ایک طویل عرصے بعد پیپلز پارٹی کے راھنما بلاول بھٹو سے ملے تو بلاول نے سردار صاحب سے کہا کہ انہیں اپنے ماموں ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے مرتضیٰ بھٹو سے متعلق کوئی دلچسپ واقع سنائیں
.
جب جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کرلیا تو سردار صاحب جیسے سینکڑوں کارکنوں کو پابند سلاسل کیا گیا.
سردار سلیم پر ملڑی کورٹ پر مقدمہ چلا دس کوڑے مارنے کی سزا سنائی گئ سزا کے بعد جیل منتقل کردیا گیا.
جب پی آئ اے کا طیارہ اغوا ھو کر کابل پہنچا تو ھائی جیکرز نے جنرل ضیاء الحق کی حکومت سے سیاسی قیدی اور راھنماؤں کارکنوں کی جیل سے رھائی کے عوض طیارے کی ھائی جیکنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا.
یہ تاریخ کی سب سے طویل ھائی جیکنگ تھی مطالبات کی منظوری کے بعد سردار سلیم کرنل ر حبیب علی بابا شیخ منصور فرخندہ بخاری ڈاکٹر غلام حسین راجہ انور وغیرہ کابل پہنچے اور بعد ازاں مرتضیٰ بھٹو شاہ نواز بھٹو کی معیت میں پہلے لبییا اور پھر حافظ الا اسد کے سرکاری مہمان بن کر دمشق شام میں جا پنا لی.



انہی دنوں سردار سلیم مرتضیٰ بھٹو کے متعمد خاص تھے لہذا بلاول بھٹو نے سردار سلیم سے یہ سوال اس پس منظر کے پیش نظر پوچھا.
سردار سلیم بتانے لگے کہ ان دنوں ھم استنبول سے دمشق بذریعہ پرواز عازم سفر تھے.
کہ ساتھ مرتضیٰ بھٹو اور میرے ساتھ ایک فلسطینی اور ایک ترک مسافر بھی بیٹھا تھا دوران پرواز فلسطینی نے جیب سے سگریٹ نکالتے ھوئے مرتضیٰ بھٹو سے لائٹر طلب کیا.
یاد رھے کہ ان دنوں ھوائی جہاز میں نشستوں کی ترتیب سموکنگ اور نو سموکنگ کے حساب سے ھوتی تھی اسگریٹ نوش مسافر سموکنگ نشستوں کا انتخاب کرتے.
جب مرتضیٰ بھٹو نے لائٹر فلسطینی ھم سفر کو دے دیا اور اس نے اسگریٹ سلگا لیا تو تعارف ھوا فلسطینی مسافر نے اپنا نام اور فلسطین سے نسبت بتائی.



مرتضیٰ بھٹو نے جب اپنا تعلق پاکستان سے بتایا تو اس فلسطینی نے منہ پھیر لیا اور کچھ خاص رغبت کا مظاہرہ بھی نہ کیا.
دوران پرواز جب چند گھنٹوں کے بعد ائیر ھوسٹس کی جانب سے کھانا پیش کیا گیا تو کھانے کے بعد مرتضیٰ بھٹو نے اسگریٹ سلگاتے ھوئے ساتھ بیٹھے فلسطینی کو دوبارہ لائٹر اور اسگریٹ پیش کیا تو فلسطینی نے کہا کہ وہ اسگریٹ نوش ھی نہیں کرتا.
اس پر مرتضیٰ بھٹو نے دفعتاً حیرت سے دریافت کیا کہ ابھی چند گھنٹے قبل تو آپ مجھ سے لائٹر طلب کرکے اسگریٹ نوشی کررھے تھے اور اب آپ اسگریٹ نوشی سے ھی انکاری ہو چکے ہیں.
جس پر فلسطینی نے کہا کہ اس وقت مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ آپ پاکستانی ہیں.
دراصل میں پاکستانیوں سے نفرت کرتا ہوں اس کی وجہ یہ ھے کہ پاکستانی محسن کش قوم ہیں انہوں نے عالم اسلام کے عظیم راھنما ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی اگر قوم اس عظیم راھنما کی قدر کرتی تو رات کی تاریکی میں عالمی استعمار کے ایجنٹ جنرل ضیاء الحق کی کیا مجال اور جرات ھوتی کہ وہ اس عظیم راھنما کی زندگی کو ختم کرسکتا.
فلسطینی مسافر کا کہنا تھا ذوالفقار علی بھٹو فلسطینیوں کے بہت بڑے وکیل تھے ان کی موت سے فلسطین کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا مسلمان منقسم ھوئے اور فلسطین کاز کو نقصان پہنچا.



یاد رھے کہ اس وقت مسلم دنیا کو قیادت نصیب تھی جس میں نہ صرف بھٹو بلکہ یاسر عرفات حافظ الاسد شاہ فیصل شہید کرنل قذافی احمد بن بیلا صدام حسین وغیرہ شامل تھے کہ جن کے دم سے دنیا بھر کے پسے ھوئے مظلوم اور مجبور مسلمانوں کو مسلم کاز اجاگر کرنے کے حوالے سے بڑی مثبت امیدیں وابستہ تھیں.
خیر جب مرتضیٰ بھٹو نے اس فلسطینی ھم سفر کو اپنا تعارف کروایا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے فرزند ارجمند ہیں تو اس فلسطینی کی آنکھیں فرط جذبات سے بھیگ گئیں اور اس نے فرط عقیدت سے مرتضیٰ بھٹو کا ھاتھ تھام لیا.
آج یہ واقعہ اس وجہ سے بھی یاد آیا کہ آج فلسطین اور غزا کی پٹی پر پھر برق فروزاں ھے.
بیت المقدس اور یروشلم میں مظلوموں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ دئیے گئے ہیں لیکن افسوس ناک امر یہ ھے کہ مظلوم فلسطینیوں کو ایٹمی صلاحیت اور طاقت کے حامل مسلم دنیا کے اھم ملک پاکستان کی قیادت سے کوئی امید وابستہ نہیں.
کیونکہ پاکستان کا شمار اب ان ملکوں میں ھوتا ھے جو زکوٰۃ صدقات اور فطرانہ کے حصول پر خوشی کرتا ھے.
اور جس کے وزیر اعظم یہ بیان دیتے ہیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اگر ھماری مالی مدد نہ کرتے تو ھم دیوالیہ ھوچکے ھوتے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں