1,104

جانز ٹاؤن ایک موت گھاٹ

از قلم : ملک شاہد عزیز انجم

‏یہ کچرے کا ڈھیر نہیں ہے بلکہ لاشیں ہیں اُن لوگوں کی جنھوں نے 1978 میں اجتماعی خودکشی کی۔ 900 افراد نے اپنے مذہبی رہنما کے کہنے پر ذہر پیا۔ تاریخ میں اسے Jonestown Massacre کہا جاتا ہے۔




امریکی میں ایک شخص Jim Jones نے 1950 میں ایک نئے عیسائی فرقے People Temple کی بنیاد ڈالی۔
‏معاشی مساوات، رنگ ونسل کے تعصب سے پاک معاشرہ اس تحریک کا مقصد تھا۔ Jim Jones کے مریدین ہزاروں میں تھے ان میں ہر طبقے کے لوگ شامل تھے۔ Jim اپنے خطبات میں ایک خیالی ریاست کا درس دیتے جہاں امیر غریب کی کوئی تفریق نہ ہو۔ امریکی حکومت انکے سوشلسٹ نظریات سے تنگ تھی انکی سرگرمیوں ‏کو شک کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔ Jim کو بھی معلوم تھا امریکہ میں انکا خیالی معاشرہ قائم نہیں ہوسکتا۔ ان لوگوں نے اسکا یہ حل نکالا کہ چندے سے جنوبی امریکا کے ایک جنگل میں کچھ زمین خریدی اور وہاں اپنی ایک چھوٹی سی ریاست قائم کی، مریدین امریکہ سے وہاں منتقل ہوگئے اور ایک کمیونسٹ ‏طرز کی زندگی گزارنے لگے۔



کچھ ہی دنوں میں انھیں اندازہ ہوگیا کہ یہ Jonestown نامی خیالی ریاست ذیادہ دن نہیں چل سکتی، ادھر امریکہ کو بھی اپنے شہریوں کی فکر تھی، آخر کار حالات یہاں تک پہنچے کہ Jim نے اپنے مریدین کو حکم دیا کہ اب ذہر ہی پی لیا جائے یہ امریکی چین سے جینے نہیں دینگے۔ اس واقعے کو چالیس برس ہو گئے ہیں۔ انسانی تاریخ میں یہ ایک جگر خراش واقعہ ہے جس کی اور کہیں مثال نہیں ملتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں