1,031

کرونا رب کا اشارہ ہے۔۔۔۔۔ تحریر: فرزانہ خورشید

سورۃالاعراف میں اللہ سبحانہ تعالی قومِ نوح،قومِ عاد ،قومِ ثمود، قوم شعیب اور حضرت موسیؑ کی قوم بنی اسرائیل اور فرعون کے عبرتناک واقعات سے ہمیں بتا رہا ہے کہ اللہ سے ڈرو اس کی نافرمانی سے ڈرو، وہ اپنی کی گئی نافرمانی کا حساب لیتا ہے، یہ تمام قومیں جن پر اللہ کا عذاب نازل ہوا، یہ سب وہ قومیں تھیں جو اس کے احکامات سے غافل ہوئیں،بے راہ روی کا شکار ہوئیں، اس سے نہ ڈریں جب کہ اللہ نے انہیں خوب مہلتیں دیں، کبھی تنگی دی کہ یہ راہ راست پر آجائیں، کیونکہ تنگی سےدل نرم پڑ جاتے ہیں، تو کبھی خوشحالی عطا کی کہ شکر گزار بن جائیں اپنے خالق کے آگے جھک جائیں اپنے مالک کے اطاعت و بندگی کی جانب پلٹ آئیں، چھوٹی چھوٹی تکلیفوں مصیبتوں اور پریشانیوں سے پلٹ آنے کی مہلتیں مسلسل دی جاتی رہی، مگر یہ نہ مانیں ،نہ جُھکیں، جمی رہی اپنی ڈھٹائی پر ضد میں اڑی رہیں، رب کو نہ مانا اس کے احکامات کو نہ مانا تو پھر کیا ہوا سب اس کے قہر کا شکار ہوگئی اپنی نافرمانیوں اور سرکشی کے بوجھ تلے دفن ہوئیں، مٹ گئیں، عبرت بنیں نیست و نابود کردی گئیں۔



اللہ ہمیں بھی آزماتا ہے کبھی تکلیفیں، بیماریاں، مصیبتیں اور پریشانیاں دے کر تو کبھی راحت و خوشحالی کی فراوانی سے دونوں صورتوں میں ہمیں چوکنا رہنا چاہیے، تکلیف اگر ہے تو اسے صرف گناہوں کا وبال نہ سمجھیں راحت اگر میسر ہے تو اسے اس کی رضا کا پروانہ سمجھ کر بیٹھ نہ جائیں بس ڈرتے رہیں، رحمت کی امید کریں ،مگر ساتھ گناہوں سے بچنے کی کوشش بھی۔
تنگی یا خوشحالی تنبیہ ہو سکتی ہے، یہ آزمائش ہو سکتی ہے، یہ مہلت ہو سکتی ہے تاکہ ہم پلٹ آئیں اس کی طرف اس کے شکر گزار بنیں، اپنے معاملات درست کرلیں، اپنی عبادات سنوار لیں، آخرت کی فکر کریں، اپنے ایمان کو بڑھا لیں، اس سے رجوع کریں اسے پکاریں، بخشش کی طلب کریں، اس کی رضا کا سوال کریں، مگر بھٹکے نہ منہ نہ موڑیں، ضد نہ کریں گناہوں پر نہ اکڑیں۔
آج کرونا بھی اس کی طرف سے ہمارے لئے تنبیہ ہے ، آزمائش ہے،رجوعِ الہی کا ذریعہ ہے ،ہمیں اس سے ڈرنا چاہیے اسے پکارنا چاہئے، یہ اس کی ناراضگی کی نشانی ہے، زمین اس کی نافرمانی سے سے بھر چکی ہے، ہر طرف گناہوں کا تلاطم برپا ہے وہ ناراض ہے ہم سے ہم بھٹک گئے ،ہم اس کی رضا کو چھوڑ کر مخلوق کو راضی کرنے کی چاہ میں، دکھاوے میں اس کے احکاموں سے تجاوز کر گئے۔



ہم اس کے لیے آئے اور اسے منانا ہماری منزل ہے مگر ہم دوسری قوموں کی طرح مخالف سمت میں سر پٹ دوڑ رہے ہیں، جلدی میں ہیں، ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں، راہ میں جو بھی آۓ کچل دیں گیں، بس آگے جانا ہے چاہے جن ذرائع سے بھی جائیں، کوئی انا میں ہے، کوئی ریاکاری میں ،کوئی حرام، حلال کی تمیز کیے بغیر بس حصولِ دولت کے چکر میں مال اور اولاد کی محبت میں گرفتار بھول گیا کہ جانا کہاں ہے اور کہا جا رہا ہے؟۔
کرونا کی وبا میرے رب کا اشارہ ہے ہم بھٹکے ہوئے مسلمانوں کو اپنی منزل سمجھنا ہے، اپنی زندگی کے حقیقی مقصد کو متعین کرنا ہے، بہت ہوئی بے راہ روی ہمیں اپنے رب کی جانب پلٹنا ہے ہم صراطِ مستقیم کے مسافر ہیں، ہمیں دوسری قوموں کی طرح گمراہیوں کے گمنام رستے پر بھٹکنا نہیں ہے،ہم اسکی رضا کے طلب گار ہیں اورہمیں اسکی رضا کو حاصل کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں