1,086

یہ موسم ہے بدلنے کا (تنویر غوری)

یہ موسم ہے بدلنے کا
گلوں کو دور کرنے کا
رخوں پر غور کرنے کا
دلوں میں پیار بھرنے کا
لبوں کو چور کرنے کا



آہٹوں سے مخمور کرنے کا
یادوں کو, حقیقت میں, بدلنے کا
اجٹرنے سے سنورنے کا
سبھی کچھ اب موافق ہے
بس، تمہی کو غور کرنا ہے
ارادوں کو بدلنا ہے
دلوں میں گھر کرنا ہے
یہ صرف، اب ہی ممکن ہے
اگر یہ اب بھی نہ ہوسکا تو
یہ موسم پھر نہ لوٹے گا
یہ دوری بڑھتی جائے گی
اور آخر، موت آئے گی
اور آخر، موت آئے گی
(تنویر غوری)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں