1,113

علامہ اقبال اور فلسفۂ ابلیس .تحریر ملک شاہد عزیز انجم

سر محمد اقبال اور فلسفۂ ابلیس
از: ملک شاہد عزیز انجم

مشہور انگریزی مقولہ ہے Give the devil its due یعنی برے کو اسکا حق دو۔ اقبال کا اور ابلیس کا تعلق اس مقولے کی لغوی تشریح ہے۔ ابلیس کا مقصد منفی ہے مگر اس مقصد کے حصول کے لیے ابلیس کی کوشش اور کاوش کس بھی مقصد کے حصول کے لیے مشعل راہ ثابت ہو سکتی ہے۔مقصد کے حصول میں نامساعد حالات سب سے بڑی رکاوٹ ہیں مگر حالات کے غیر موافق ہونے کی اس سے بڑھ کر اور کیا انتہا ہو سکتی ہے کہ خدا تعالٰی ہی ساتھ نہ ہو۔ دوسرا اہم مسٔلہ وسائل کی کمی ہے اور اگر کل وسائل ہی بھوک، خوف اور وسوسہ ہو جبکہ مقابل میں الہامی کتب، انبیاء کرام اور انسان کے اندر جنت کی طلب، دوزخ کا خوف،فراہمیِ رزق کی یقین دہانی،ابلیس کے مقصد کی واضع معلومات،معاشرے میں ناپسندیدگی، دنیا کی ناکامی، یوم حساب کی فکر، قبر کا عذاب وغیرہ سب شامل ہوں اور سب سے بڑھ کر ناکامی کی نوید کہ ‘ بےشک باطل مٹنے کے لیے ہے’ جس پر اگرچہ ہمارا یقین پختہ نہیں مگر ابلیس کو معلوم ہے، تو ابلیس کو اپنے مقصد کی بار آوری کے لیے کیا کچھ نہیں کرنا پڑتا۔ پھر بھی جب ہم حالات پر نظر دوڑاتے ہیں تو برائی موجزن نظر آتی ہے اور اقبال کو ان کوششوں کا جائزہ لینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو ابلیس کر رہا ہے۔ مقصد کے حصول کے لیے کوشش اہم شرط ہے اور یہی وہ چیز ہے جو اقبال اپنے فلسفہ ابلیس میں ہمارے سامنے لانا چاہتا ہے۔ اقبال نہ تو ابلیس کو ہیرو سمجھتا ہے اور نہ ہی اس کے کاموں کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے مگر جانتا ہے کہ وہ صفات جو ابلیس جیسے ملعون کو کامیابی دلا سکتی ہیں اگر مرد مومن سمجھ جائے اور اپنا لے تو وہ کیا نہیں کر سکتا۔




ابلیس کی کامیاب چالوں کو بھی اقبال واضع کرتا ہے اور اسکی بہانہ جو فطرت کو یوں بے نقاب کرتا ہے کہ ہمیں اپنی تاویلیں ابلیس کی عطا کردہ محسوس ہوتی ہیں اور ایک آگہی حاصل ہوتی ہے کہ جس کوہم اپنی سوچ جانتے ہوئےمطمعن ہیں وہ تو ہماری تخلیق کا مقصد ہی نہیں ہے۔



ہمارا ایک مسٔلہ یہ بھی ہے کہ ہم کسی کامیاب منفی چیز کا اس نظر سے جائزہ ہی نہیں لیتے کہ وہ کیا عوامل ہیں جن کے باعث یہ کامیاب ہوئی۔بلکہ اکثر اوقات ہم اسکا کا تجزیہ بھی منفی چیز کو اپنا لینے کے مترادف گردانتے ہیں۔ اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ یا توہم اسکو یکسر نظراندز کر دیتے ہیں، یا پھر کامیابی کے شوق میں منفی چیز کو اپنا لیتے ہیں اور وقت کے ساتھ چلنے کو بطور تاویل پیش کر دیتے ہیں ۔ دونوں صورتوں میں اسکا منتقی جائزہ نہیں لیا جاتا اورہم اس کی مثبت اساس سے دور رہتے ہیں۔ اسی سوچ کو ختم کرنے کے مدنظر اقبال نے منفی ترین شخصیت کا جائزہ لے کر مثبت سبق اخذ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں