1,067

خاک بسر دیوانہ

حمزہ ممتاز

مانو کہ مجھے وقت پر حکمرانی سی مل چکی تھی۔شب وروز کی گردش سے آزاد،سپنوں کی دنیا میں دور کہیں میرا ٹھکانہ تھا۔ساتھ:۔۔۔ ساتھ تو صرف اپنے چند خوابوں کا گلدستہ تھا۔میرے اجڑےپجڑے خیمے میں روشنیاں بلند ہو رہیں تھیں اور باہر کا منظر تو مانو بہشت کا ٹکڑا روپوش ہو۔چراغاں حدِ نظر سرسبز و شاداب،لہلہاہٹ سے بھرپور ۔گلاب اور چنبیلی کا حسن عروج پر،چرند پرند قدرت کی اس موسیقی میں مست اور چاند کی چاندنی جیسے بغاوت کر کہ مکمل واضح ہو چکی تھی۔ہاں وہ شخص جہاں بھی جاتا وہاں کا منظر یوں الٹا دیتا تھا۔وہ۔۔۔۔۔۔ ہاں وہ میری خزاں کی رُت میں سہمی زندگی کا سامان بن چکا تھا۔سماں گیا تھا وہ مجھ میں۔زندگی حسین سی لگنے لگی تھی ۔اور جب وہ میرا نام لے کر مخاطب کرتا تو




تو ہفتوں اسی خوشی میں گزر جاتے۔وقت رفتار پکڑتا گیا اور میں مسکرانا سیکھ رہا تھا۔میں شاید وہ سہما سا لڑکا رہاں ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔میرا آج میرے ماضی پر قابو پا چکا تھاپھر کیا ہوا۔۔۔پھر کیا ہوا۔۔۔پھر وہی ہوا جو ہر کہانی میں ہوتا ھے۔ رات کے پچھلے پہر دم گھٹ رہا تھا اداسی اپنے عروج پر پہنچ کئی کچھ بھیانک ہونے کے سب امکانات واضح ہو چکے تھے۔صبح کا وقت باہر نکلا تو خون کی ایک لہر،گلاب اور چنبیلی جل کر راکھ بن چکے تھے،چراغاں اجڑ گئے اور چرند پرند سب ہجرت کر چکے تھے۔ہر رونق وہ شخص اپنے ساتھ لے گیا۔میرے سپنوں کی دنیا میرا گھر میرے خواب سب دم دوڑ گئے اور میں اکیلا نکل پڑا پھر اسی شخص کی تلاش میں۔میرے لیے وہ شخص نہیں تھا پوری کائنات بن چکا تھابس چلتے چلتے دور ایک اندھیری گہاٹ سے گزر ہوا۔وہاں سب سفید لباس میں ملبوس تھے اور دور دور تک سناٹا۔ساتھ تختی پر لکھا تھا “یہ شہرِخاموشاں ھے یہاں باتیں نہیں کرتے



بس ایک خوبصورت نوجوان ملانام تو یاد نہیں۔ہاں شاید عزرائیل بتا رہا تھا۔میں کافی تھک چکا تھا تو اس سے آرامگاہ کا مطالبہ کیا۔وہ بھی شاید اس کا انتظام پہلے کر چلا تھابس مجھے دو گز زمین کے ٹکڑے میں لیٹا کر چلا گیا۔پھر یوں ہوا کہ وہ خاموشاں تنہایاں ویرانیاں مجھے راس آگئیں۔ان یادوں کے سہارے آج بھی بوسیدہ ہڑیوں کا ڈہانچا یعنی کہ میں سرِ راہ انتظار ہوں۔۔۔۔۔
سفراب ختم ہواشاید
پھر ملیں گے مگر شاید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں