1,057

شعبان اور نبی کریمؐ۔۔۔۔۔ تحریر: فرزانہ خورشید

اسلامی وہجری کلینڈر کے اس آٹھویں مہینے ماہ شعبان کی اہمیت، فرضیت، فضیلت تب اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ ہمارے آقا امام الانبیاء سرور کونین حضرت محمد مصطفیؐ نے اسے اپنا مہینہ قرار دیا۔ جو میرے نبی کا مہینہ ہو بھلا وہ کیوں کسی تعریف کا محتاج رہ سکتا ہے آپؐ نے فرمایا شَعبانُ شَہٌری وَ َرمَضان شَہرُ اللہ “یعنی شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے”۔
رجب و شعبان میں برکت کی دعا۔۔۔۔۔۔




جیسے ہی رجب المرجب کا چاند نظر آتا آپؐ یہ دعا فرمایا کرتے تھے ترجمہ” الہی رجب اور شعبان میں ہمیں برکت دے اور ہم کو خیریت کے ساتھ رمضان تک پہنچا دے”۔( مشکوۃ المصابیح: رقم الحدیث1396)
اور ہمیں بھی تاکید فرمائی کہ خیریت کے ساتھ رمضان کے مہینے تک پہنچنے کی دعا کثرت سے کیا کرو ،درحقیقت یہ وہ مہینہ ہے جس میں برکتوں، رحمتوں اور مغفرتوں کی بہتات ہوتی ہے اور جو مسلمان بھی اسے پائے اسے خوب سے خوب تر گزارنے کی ہر ممکن جدوجہد کرے تاکہ خدا تعالی کے ان بے حساب خزانے سے محروم نہ رہ سکے۔
شعبان رمضان کی تیاری کا مہینہ۔۔۔۔۔۔۔۔
آپؐ نے ماہِ شعبان میں رمضان شریف کی تیاری کی ترغیب دی۔ بلاشبہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل یہ مہینہ بڑی عظمت کا حامل ہے جس میں انسان اپنے معاملات، اخلاق اور عبادات کو نکھار سکتا ہے،اور ماہِ رمضان خوب گزارنے کے لیے بہترین لائحہ عمل تدبیر کر سکتا ہے، اور یکسوئی کے ساتھ عبادت کرکے اپنا ربط خدا تعالی سے بڑھا سکتا ہے، ذکر الہی اور نوافل کے اہتمام کے ذریعے اپنے رب کا قُرب پا سکتا ہے۔




کثرتِ صومِ شعبان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپؐ اس ماہ میں کثرت سے روزہ رکھا کرتے تھے کہ صحابہ کرامؓ کو گمان ہوتا کے آپ کبھی ترک نہیں کریں گے چناچہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ “میں نے حضورؐ کو شعبان اور رمضان کے سوا متواتر دو مہینے روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا” (ترمذی شریف1/155) حضرت عائشؓہ نے فرمایا کہ “حضور اکرمؐ کو یہ بات پسند تھی کہ شعبان کے روزے رکھتے رکھتے رمضان سے ملا دیں”
( کنز العمال رقم الحدیث26086)
آپؐ نے کثرت کے ساتھ روزہ رکھنے کا حکم بھی فرمایا حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ سے سوال کیا گیا ترجمہ “رمضان المبارک کے بعد افضل روزہ کون سا ہے؟ ارشاد فرمایا رمضان کی تعظیم کے لئے شعبان کا روزہ الخ( ترمذی شریف1/166)
ماہ شعبان کی عظمت و فضیلت۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلاشبہ ماہ شعبان برکتوں اور خوب عظمت والا مہینہ ہے اور تمام مہینوں کے سردار ماہِ رمضان شریف کی تیاری کیلئے بہترین موقع ہے۔ اس ماہ کی پندرھویں شب کو بندوں کے اعمال اللہ کی طرف پیش کئے جاتے ہیں اور اس سال مرنے والوں کی فہرست کو ملک الموت کے حوالے کیا جاتا ہے، اس رات اللہ سبحانہ تعالی کثرت سے مغفرت فرماتا ہے۔ نبی کریمؐ نے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے معلوم کیا کہ تم جانتے ہو کہ شعبان کو شعبان کیوں کہتے ہیں؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں چنانچہ آپؐ نے ارشاد فرمایا اس لئے کہ رمضان کے لئے اس میں خیر کثیر کے بہت سے شعبے نکل پڑتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا “تمام مہینوں پر ماہِ رجب کی ایسی فضیلت ہے کہ جیسے قرآن کریم کی تمام کلاموں پر اور باقی مہینوں پر شعبان کی ایسی فضیلت ہے جیسے میری فضیلت تمام انبیاء پر اور رمضان کی فضیلت باقی مہینوں پر ایسی ہے جیسے اللہ کی فضیلت اپنی مخلوق پر”
(نزھۃ المجالس:310/1)
ماہ شعبان کی پندرہویں شب (براءت)
احادیث نبویؐ کی روشنی میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت علیؓ بن ابی طالب سے( ایک ضعیف روایات) مروی ہے کہ رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا “جب نصف شعبان (پندرھویں شعبان) کی رات آ جائے تو تم اس رات میں قیام کرو اور اس کے دن پندرھویں تاریخ کا روزہ رکھا کرو اس لیے کہ اس رات میں اللہ سورج غروب ہونے سے طلوع فجر تک قریب کے آسمان پر نزول فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ کیا ہے کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا جس کی میں مغفرت کروں؟ کیا ہے کوئی مجھ سے رزق کا طالب کہ میں اس کو رزق عطا کروں؟ کیا ہے کوئی کسی مصیبت یا بیماری میں مبتلا کہ میں اس کو عافیت عطا کروں؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ اللہ برابر یہ آواز دیتے رہتے ہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا ہے”




سنن ابن ماجہ:99شعب الایمان367/3رقم:3/122
آخری شعبان آپؐ کا خطبہ
استقبالِ رمضان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت سلمان الخیر فارسیؓ سے مروی ہے کہ رسولؐ اللہ نے ہمیں شعبان کے مہینے کی آخری تاریخ میں تفصیلی خطبہ دیا “اے لوگو تم پر ایک عظمت،و برکت والا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے پھر آپؐ نے روزہ، تراویح، شب قدر، مغفرت باری تعالیٰ اوررمضان میں اہتمام سے کیے جانے والے خصوصی اعمالِ خیر کا تذکرہ فرمایا”
لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ اس ماہ شعبان میں رمضان کریم کی خوب تیاری کرے اس کا بھرپور استقبال کرے رمضان کے روزے اور تمام عبادات کی صحیح طریقے سے ادائیگی کے احکام و مسائل کی طرف رجوع کرے تاکہ کسی قسم کی کوئی کمی نہ رہ جائے اور آمدِ رمضان ہم مکمل طور پرتیار ہشاش بشاش ہو۔
حرفِ آخر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہ شعبان وہ مہینہ خاص ہے جس کی صحیح معنوں میں قدر سے ہم غافل ہی ہیں اور اس قیمتی مہینے کو بھی باقی مہینوں کی طرح اپنے دیگر دنیاوی مشاغل میں ہم یوں ہی گزار دیتے ہیں۔ اللہ سبحانہ تعالی اس ماہ شعبان کی خیروڈھیروں برکتوں سے ہمیں خوب فائدہ اٹھانے والا اور اس کے بعد آنے والے اس ماہِ رمضان المبارک کو ہمارے لئے بخشش کا ذریعہ بنا دے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں