1,216

دمِ زندگی رم ِزندگی،غم زندگی سمِ زندگی (شاہدعزیزانجم)

زندگی کسی میدانِ کارِزار کا نام نہیں ۔ یہ جلوہ گاہ ہے، حسن کی جلوہ گاہ۔۔۔۔یہ ایک بارونق بازا ر ہے ۔ جس میں خریدار گزرتا ہے، وہ خریداری کرتا ہے ۔ ۔۔اور اس کا سرمایہ ختم ہو جاتا ہے۔ تعجب یہ ہے کہ اس کی خریداری بھی دھری کی دھری رہ جاتی ہے ۔ وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتا ہے، مگر رونق ِ بازار قائم رہتی ہے۔ اور خریدار۔۔۔۔۔۔ ختم ہوتے رہتے ہیں۔
زندگی کسی الجھے ہوئے سوال کا نام بھی نہیں۔ یہ ایک پر لطف منظر ہے ، ایسا لطیف منظر کہ تبصرے اور تنقید کے بوجھ کو بھی برداشت نہیں کرتا۔ یہ ایک دیکھنے والا منظر ہے اور سننے والا نغمہ ہے۔ ایک سوچنے والا منصوبہ نہیں ۔۔ یہ ایک مشکل معمہ نہیں ۔۔ زندگی تو بس زندگی ہی ہے۔ کسی کا احسان ہے۔۔۔کسی کی دین ہے۔۔ کسی کا عمل ہے۔
یہ سمندر کی طرح ہے ۔۔ وسیع و بے پایاں ، جس کا صرف ایک ہی کنارہ ہے۔ ایک ساحل ، جہا ں رونقیں ہیں ، میلے ہیں ، چراغاں ہیں ، ہجوم ہے ، تنہایاں اور اداسیاں بھی ہیں۔ دوسرے کنارے کی کسی کو کوئی خبر نہیں۔ جو لوگ دوسرے کنارے کی خبر لینے گئے ہیں ابھی تک لوٹے نہیں ۔




اِ س طرف رنگ ہی رنگ ہیں نیرنگ ہے اور دوسری طرف بے رنگ ۔شاید صرف ایک ہی رنگ ہے۔۔۔کون جانے اس سمندر میں کیا ہے اور اس کے پار کیا ہے ، یہاں میلہ ہے اور پھربھی انسان اکیلا ہے ، زندگی کب سے ہے اور کب تک ہے۔۔ کون جانے ۔۔۔ازل سے ابد تک یا ازل سے پہلے اور ابد کے بعد بھی زندگی ہی ہے۔
تخلیق ہونے سے پہلے یہ خالق کے ارادے میںزندہ تھی اور تکمیل کے بعد یہ خالق کے روبرو حاضر کر دی جائے گی ۔ زندگی بہرحال زندگی ہی ہے۔ خدا جانے کب ختم ہوتی ہے۔
زندگی جہا ں پھلنے پھولنے کا نام ہے وہاں اپنی آگ میںبھی جلنے کا نام ہے۔زندگی تخلیق کرتی ہے اور اپنی تخلیق کے مراحل میں تحلیل بھی ہوتی رہتی ہے۔ اس طرح زندگی ہونے اور نہ ہونے کے درمیان رہتی ہے۔ جلتی بجھتی زندگی امید و یاس میں رہتی ہے ۔ یہ سفید وسیاہ دھاگے سے بنا ہوا خوبصورت ملبوس ہے ۔ اس میں بہت کچھ ہے اس میں قہقے بھی ہیں ، ہچکیاں اور سسکیاں بھی۔۔
زندگی غریبوں کے کچے گھروندوں میں بھی سرشار رہ سکتی ہے اورامیروں کے پّکے محلات میں بیمار بھی ر ہ سکتی ہے ۔ زندگی اگر چاہے تو گردش ِ حالات سے منسوب ہو جاتی ہے اور اگر پسند فرمائے تو زمان و مکاں سے بے نیاز ہو کر اپنے لئے جہاں پیدا کرتی ہے۔
زندگی کسی فارمولے میں مقید نہیں رہ سکتی۔ اس کچھ بھی کہہ لیجئے یہ سنتی ہے۔ مسکراتی ہے اور کچھ ہی روپ اختیار کرکے فارمولے سے باہر نکل آتی ہے۔
اگر زندگی کو مسلسل سفر کہا جائے تو مکمل قیام کیا ہے ؟ اگر زندگی کو بیداری کہا جائے تو نیند اور غفلت کیا ہے ؟
اگر زندگی کو محبت کہا جائے تو نفرت کیا ہے ؟ بلکہ نفرت تو زیادہ زندہ چیز ہے ۔ نفرت، غصہ ، حسد اورانتقام زندگی کو اور متحرک کرتے ہیں۔ بہرحال محبت اور نفرت زندگی ہی کے نام ہیں۔




اگر مذہب کو زندگی مان لیں تو لامذہبیت کیا ہے ؟ اگر زندگی زمین ہے تو آسمان کیا ہے ؟ اگر مخلوق کو زندگی کہا جائے تو مخلوق پیدا کرنے والے ذات کو کیا کہیں ؟ بہر کیف۔۔ زندگی کی تعریف کرنا مشکل ہے اسے جاننا پہچاننا مشکل ہے ۔ یہ ایک راز ہے۔۔ ایسا راز کہ جس نے راز جان لیا وہ مر گیا اور جو نہ جان سکا اور مار ا گیا۔
زندگی تلاش میں ہے ۔۔ کسی کی تلاش میں ۔۔ زندگی اسے تلاش کرتی ہے جو زندگی کو تلاش کرتا ہے ۔ زندگی موت کے تعاقب میں ہے اور موت زندگی کے پیچھے آرہی ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کی تلاش میں ہیں۔جب تک دونوں میں ایک ختم نہیں ہوتا یہ کھیل جاری رہتا ہے۔ یعنی نور اور ظلمات کا کھیل۔ ہونے نہ ہونے کا کھیل ، ماننے اور نہ ماننے کا کھیل ۔ دن رات کا کھیل۔
زندگی بہت پرانی ہے۔۔بہت قدیم ہے۔ بہت بوڑھی ہے ۔ لیکن نئی بھی ہے۔ جدید ہے اور بہت جوان ہے۔ ہر قدیم کبھی جدید اور ہر جدید کبھی قدیم ہو گا۔یوں زندگی بیک وقت قدیم اور جدید ہے۔ پرانے شہر اور نئے انسان ، پرانے انسان اور نئے شہر۔آج کا انسان پرانے کھنڈرات میں خوش رہتا ہے۔ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ لوگ کون تھے جو ان کھنڈرات میں کبھی آباد تھے۔ یہ کھنڈرات کسی زمانے میں محلات تھے۔ نیا انسان پرانی کائنات کو دریافت کرنے نکلا ہے وہ ا سے ترقی کہتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ آج کا انسان آج بھی پرانی طرز پر پیدا ہوتا ہے۔ پرانے مصنفین کو پڑھتا ہے اور نئے علم کا اظہار کرتا ہے۔نئی بات کیا ہے ؟؟؟؟؟ پرانے چہرے ہیں، پرانی آنکھیں ہیں، پرانے آنسو ہیں، وہی کچھ ہے جو پہلے بھی تھا۔ اور پھر نئے انسان کے لیے پرانی منزل ،پرانے قبرستان یہ سب باتیں سمجھ نہیں آ سکتیں ۔یہ سب زندگی ہے ، برات اور جنازہ بھی۔۔۔ زندگی سمجھنا کتنا مشکل ہے ناں۔۔۔یہ دنیا بابل کا گھر ہے تو وہ دنیا سسرال ۔ تعجب ہے چار کہاں ڈولی لے چلے۔۔ اور چار بھائی جنازہ لے چلے۔ ایک ہی ہے سب ایک ہے۔۔۔۔
سب زندگی کے جلوے ہیں ۔ یہ سب ابواب کتاب ہستی کے ہیں۔ ابتدا اور انتہا سے بے نیاز یہ زندگی آغاز سے پہلے بھی تھی اور انجام کے بعد بھی ہوگی ۔ زندگی تو بس زندگی ہے۔ اسکا یوم پیدائش ہے اور اس کا یوم وفات ؟ کس کا ؟ کون مرتا ہے کون جیتا ہے ۔ کون جانتا ہے یہ لامحدود سفر کہاں شروع ہوا اور انجام کار کہاں ختم ہوگا۔



خیر زندگی ہمہ حال زوال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔دریا کی طرح جو چلتا رہتا ہے۔۔مسلسل۔۔ مستقل ۔۔ نہ کٹتا ہے اور نہ رکتا ہے ، بے دم ہوتا ہے۔ پہاڑوں کا پیغام ہے جو آب روا ں کے ذرئعیے سمندر کے نام کیا گیا ہے ۔ یہ پیغام زندگی ہے اور اسے لے جانے والا زندہ رہے گا۔ زندگی اپنی عزت خود ہے ، خود ہی اپنی آبرو خاک میں ملاتی ہے ۔ یہ خود محروم ومعزز ہے کبھی سرفراز ہے کبھی سرنگوں۔زندگی سرد خانوں میں دہکتی ہوئی آگ ہے نار ہے نار۔ اور زندگی اسی نار میں چھپا ہوا گلزار ہے ۔ یہ معمولی سی بات ہے زندگی دینے والے کے حوالے سے سمجھ آسکتی ہے: اگر تخلیق خالق سے متعلق ہو سلامت ورنہ یہی ایک قیامت۔زندگی اپنے ہی پردے میں چھپی ہوتی ہے اور اپنے ہی دروازے پر خودی دستک دیتی ہے اور خود ہی اندر سے جواب دیتی ہے ۔۔۔اندر آجائو۔۔ ہم تمھارا انتظار کررہے ہیں۔ بس زندگی اپنے روبروہونے کا نام ہے ، اپنے قریب ہونے کا نام ، اپنے سے قریب ہونے کا نام۔۔ اپنے سے آشنا ہونے کا نام ۔۔ اپنا ہی نام ہے ۔ میں ہی زندگی ہو ں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ تسلیم کروں کہ تو بھی زندگی ہے اور میںبھی زندگی ہی ہوں۔سب کا احترام ہی اپنا احترام ہے۔ سب کی زندگی ہی اپنی زندگی ہے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں