1,065

سندھ : ماتحت عدلیہ کے 750 سے زائد ججوں اورپراسیکیوٹرز کے لئے انسانی حقوق کے تربیتی پروگرام کا آغاز

کراچی ( سی این پی ) سندھ کے نظام انصاف میں انسانی حقوق کے تحفظ کی ترویج سے متعلق تربیتی پروگرام کے سلسلے کی پہلی تین روزہ تربیت کا انعقاد ۔ اس سال کے دوران مجموعی طور پر اس طرح کی 22 ورکشاپس منعقد ہونگی ۔ پہلی تربیتی ورکشاپ میں 15 جوڈیشل مجسٹریٹس اور 10 پراسیکیوٹرز نے شرکت کی ۔ اس تربیتی سلسلے کا اہتمام سندھ جوڈیشل اکیڈمی نے یورپی یونین کی مالی اعانت سے سرگرم حقوق پاکستان پراجیکٹ کے تعاون سے کیا ہے ۔یورپی یونین کی اعانت کے حامل انسانی حقوق کے علمبردار اس پروگرام کے ذریعے سندھ کے تمام اضلاع سے ٹرائیل کورٹس کے 300 ججوں




اور 360 سرکاری وکیلوں کی استعداد کار کو بڑھائی جائے گی ۔ اس تربیتی پروگرام پر اس سال کے دوران سندھ جوڈیشل اکیڈمی کے ذریعے عمل در آمد کیا جائے گا ۔ پروگرام کے دوران تربیتی فرائض سندھ ہائیکورٹ کے سینیئر ججز ، سینئر وکلاء ، فوجداری نظام انصاف ، حقوق پاکستان پراجیکٹ اور سندھ جوڈیشل اکیڈمی کے ماہرین انجام دیں ۔تربیتی پروگرام کا مقصد نظام انصاف میں انسانی حقوق کے معیارات کے اطلاق اور فیصلہ تحریر کرتے وقت ان معیارات کو ملحوظ رکھنے کیلئے ججوں اور استغاثہ کی استعداد کو بڑھانا ہے۔ اس تربیتی پروگرام کے تربیتی مواد کو حقوق پاکستان اور سندھ جوڈیشل اکیڈمی کے ماہرین نے پراجیکٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی دیان حسن کی نگرانی میں تیار کیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے سندھ کے جوڈیشل مجسٹریٹس اور سرکاری وکیلوں کو پاکستان کے فوجداری نظام انصاف میں انسانی حقوق کے اطلاق اور انسانی حقوق کے معیار کو برقرار رکھنے ، گواہوں کے تحفظ اور فیصلہ تحریر کرتے وقت انسانی حقوق کے اصولوں کو شامل کرنے میں ٹرائل کورٹ کا کردار کو سمجھنے کی تربیت دی جائیگی ۔گزشتہ روز منعقدہ پہلی تربیت سے معروف ماہرین قانون جیسا کہ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ٓاف پاکستان فیصل صدیقی اور سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر صلاح الدین احمد نے خطاب کیا ۔ انہوں نے اپنے خطاب مین انسانی حقوق کی اہمیت اور فیصلوں میں ان کے عملی اطلاق میں ججز کے کردار کی اہمیت اجاگر کی ۔ ڈائریکٹر جنرل سندھ جوڈیشل اکیڈمی ، سندھ ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس محمد علی مظہر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے تربیتی نصاب کی تیاری کیلئے سندھ جوڈیشل اکیڈمی کے ساتھ مل کر کام کرنے پر حقوق پاکستان پراجیکٹ کی ٹیم کے کام کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ نصاب بین الاقوامی انسانی حقوق کے فروغ کے ساتھ ساتھ فوجداری نظام میں اس کے اطلاق کو بھی تفصیل سے ملحوظ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر ایک ایسا تربیتی نصاب تیار کرنے کی تعریف کی جس میں نظام انصاف میں خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے طریقہ کارکو شامل کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا تربیتی مواد کرنا





حقوق پاکستان کی ٹیم کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا ۔انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ حقوق پاکستان کی ٹیم نے تربیتی مواد تیار کرتے وقت نہ صڑف سندھ جوڈیشل اکیڈمی کے عہدیداران کو اپنے ساتھ شامل کیا بلکہ اس مواد میں سندھ بار کے ممتاز ممبر مسٹر فیصل صدیقی اور صدرسندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن صلاح الدین احمد کے لیکچرز بھی شامل کئے ۔ جسٹس مظہر نے کہا کہ حقوق پاکستان ٹیم کی کوششیں نظام انصاف میں انسانی حقوق کے اصولوں کے عملی اطلاق کو یقینی بنانے میں بہت زیادہ مدددیں گی ۔حقوق پاکستان پراجیکٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی دیان نے اپنے افتتاحی کلمات میں اس منصوبے اور اس کے تربیتی مقاصد کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگرام انسانی حقوق کے متعلقہ کرداروں سے مشاورت سے تیار کیا گیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ اس تربیت سے سندھ کے حقائق اور تناظر کی عکاسی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم خصوصی طور جسٹس مظہر اور سندھ جوڈیشل اکیڈیمی کی قیادت کے شکرگزار ہیں کہ جنکی مثالی اور پرعزم لیڈر شپ میں ہمین کام کرنے کا موقع ملا ہے ۔ علی دیان حسن نے کہا کہ جسٹس مظہر کی انسانی حقوق سے وابستگی نہ صرف ان کے فیصلوں بلکہ سندھ جوڈیشل اکیڈیمی کے سربراہ کے طور پر ان کے




اس عزم سے بھی عیاں ہے کہ تمام سطح کے جج انصاف کی فراہمی میں انسانی حقوق کی پاسداری کریں۔انہوں نے اس موقع پر حقوق پاکستان پراجیکٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کی استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے اس بڑے پیمانے پر شروع کیا جانیوالا یورپی یونین کا واحد منصوبہ ہے جس کی دنیا میں کہیں اور مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس کامیابی سے آنے والے سالوں میں اس طرح کے اقدامات کومزید فروغ حاصل ہوگا ۔تربیت کے اختتام معزز جسٹس جناب محمد علی مظہر نے تربیت مکمل کرنے والے شرکاء کو سرٹیفکیٹس سے نوازا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں