1,059

”امراءکا شوق، چولستان جیپ ریلی“

تحریر اکرم عامر
ملک میں مہنگائی، غربت، بیروزگاری اور افراتفری کے اس پرفتن دور میں کوئی خوش نصیب ہی ہو گا جسے سال میں چند دن سیر و سیاحت کےلئے تفریح مقامات پر گزارنے کے موقع میسر آئے، کیونکہ ملکی حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ معاشرے کے 86 فیصد طبقے کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور یہ طبقہ اپنا اور کنبے کا پیٹ پالنے کےلئے رات دن محنت و مشقت کر کے گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ صاحب حیثیت 9 فیصد طبقہ ایسا ہے جو 8 گھنٹے کام کر کے باقی وقت آرام اور آسائش سے بمشکل گزار رہا ہے، 5 فیصد طبقہ ملک کی امراءکلاس سے تعلق رکھتا ہے، جن میں جاگیر دار، وڈیرے، صنعت کار سرمایہ دار شامل ہیں، ان میں سے اکثریت غریبوں اور درمیانے طبقے کے کمائے پیسے کو گھن لگا کر




اپنے طرح طرح کے شاہانہ شوق پورے کرتے ہیں، کوئی ہر روز کلب جا کر اپنی تسکین پوری کرتا ہے تو کوئی اپنے عیش کدوں پر رنگین محفلیں سجا کر خود اور اپنے حلقہ احباب کےلئے راحت و تسکین کا سامان فراہم کرتا ہے۔ امراءکے شوقوں میں ایک شوق جیپ ریلی بھی ہے، یوں تو ملک میں کئی مقامات پر جیپ ریلیوں کا انعقاد ہوتا ہے لیکن بہاولپور کے علاقے چولستان (روہی) میں ہونےوالی جیپ ریلی پاکستان کے علاوہ دنیا میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔
امسال راقم کو بھی چولستان میں سولہویں چار روزہ جیپ ریلی دیکھنے کا موقع ملا، اور میں اپنے دوست رانا بلال کے ہمراہ گاڑی میں سرگودھا سے روانہ سفر ہوا، براستہ موٹر وے سالم انٹر چینج سے چڑھ کر اوچ شریف اتر کر احمد پور شرقیہ پہنچا تو سینئر جرنلسٹ سہیل چوہدری کی رہائشگاہ پر ملک کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے شعبہ صحافت، علم و ادب سے وابستہ شخصیات ملک عطاءاﷲ اعوان، ضیاءشہزاد بڑانی، ملک جاوید وینس، عطاءاﷲ بھٹی، محمد رمضان اور دیگر دوست پہلے سے موجود تھے، نوابوں کے شہر کی طرح دل کے نواب سہیل چوہدری نے حق میزبانی ادا کیا اور پرتکلف عشائیہ کھانے کے بعد دوستوں کا قافلہ رات 11 بجے کے قریب جیپ ریلی کے مقام چولستان پہنچا تو 8 لاکھ ایکڑ پر محیط چولستان میں 220 کلو میٹر جیپ ریلی کے ٹریک کے انٹری پوائنٹ سے اختتامی پوائنٹ تک جنگل میں منگل کا سماں تھا، ہزاروں کی تعداد میں اندرونی و بیرونی ممالک سے جیپ ریلی دیکھنے کےلئے آنے والے سیاحوں نے جگہ جگہ خیمہ بستیاں آباد کر رکھی تھیں، جن میں پہنچ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہم یورپ یا عرب ریاست کے کسی بڑے کلب میں پہنچ چکے ہیں، ان عارضی طور پر بسائی گئی خیمہ بستیوں میں چاروں صوبوں کی ثقافت کے ساتھ ہر طرح کے رنگا رنگ پروگرام دیکھنے کو مل رہے تھے، کسی طرف سے میوزک اور کسی طرف سے گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی آوازیں صحرا میں خوبصورت ماحول پیدا کیے ہوئے تھی، رات چھپر ہوٹل کے خیمہ میں گزار کر ناشتہ کر کے جیپ ریلی کا آغاز جس کا انتظام اب کی بار محکمہ ٹوورازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے کیا تھا اور جس کی نگرانی جنرل منیجر محکمہ ٹوورازم پنجاب عاصم رضا خان خود کر رہے تھے اور چولستان میں ہونے والے اس چار روزہ پروگرام جس میں ملک بھر سے کم و بیش ساڑھے 4 لاکھ سے زائد گاڑیاں اور لاکھوں افراد پہنچے تھے کی سکیورٹی اور ٹریفک کے نظام کو رواں دواں رکھنے کےلئے دبنگ ڈی پی او بہاولپور حسن مشتاق سکھیرا خود انتظامات کی نگرانی کر رہے تھے، ریلی کا ابتدائیہ سیشن دیکھ کر قافلہ چولستان میں مائی کے ٹوبہ کے قریب ایک خیمہ میں پہنچا تو فلکشیر گھلو، شاہد گرمانی، قمر خان، حفیظ الرحمان، شوکت گھلو ایڈووکیٹ، حسن خان مارکی والے اور دیگر دوست احباب جنگل میں خوب محفل جمائے ہوئے تھے، خیمہ میں سرائیکی وسیب کی بھرپور جھلک نظر آ رہی تھی، ساتھ طرح طرح کے کھانوں سے مہمانوں کی تواضع ہو رہی تھی، خیمے کے روح رواں فلک شیر گھلو اور دیگر افراد نے حق میزبانی ادا کیا، قلم کاروں کے قافلے کے شرکاءان کے خلوص اور پرتکلف کھانوں کو مدتوں یاد رکھیں گے، کچھ گھنٹہ خیمہ میں گزار کر پھر روہی کی سیر کرتے ہوئے قلعہ دراوڑ اور اس کی ملحقہ مسجد کو دیکھا، مسجد تو اب بھی اپنی آب و تاب سے فن تعمیرات کا شاہکار ہونے کا نمونہ پیش کر رہی تھی، لیکن قلعہ دراوڑ کی خستہ حالی حکومتی عدم توجہی کا رونا رو رہی تھی، گو کہ اب ایک این جی او اس تاریخی ثقافتی ورثہ کو اصل حالت میں واپس لانے کےلئے




مرمت کا کام کر رہی ہے، یہاں واضح کر دوں کہ بہاولپور، چولستان اور اس میں موجود محلات اور قلعہ جات کی تاریخ تو آئندہ کالموں میں مرحلہ وار لکھی جائے گی۔ تاریخی قلعہ دراوڑ اور ریت کے ٹیلوں میں بنی خوبصورت مسجد جو کئی سو سال بعد بھی فن تعمیر کا لاجواب اور خوبصورت نمونہ پیش کر رہی تھی دیکھ کر قافلہ واپس چھپر ہوٹل کے قریب خیمہ میں پہنچا اور روہی کے خوب رنگ دیکھے، رات بسر کی اور دوسرے دن پھر جیپ ریلی کا آغاز اور اختتام دیکھ کر قافلہ دوبارہ روانہ سفر ہوا اور لودھراں پہنچ گیا، جہاں سرائیکی کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کے شاگرد خاص ملک جاوید وینس نے قافلے کے شرکاءکے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ کا اہتمام کر رکھا تھا، پھر صبح لودھراں سے ناشتہ شاعر، صحافی و ادبی شخصیت عطاءاﷲ اعوان کے ہاں سے کر کے قافلہ بہاولپور نور محل دیکھنے جو کہ بہاولپور کے دیگر محلات کی طرح پاک فوج کی تحویل میں ہے (ماسوائے صادق گڑھ پیلس کے) پہنچا، تو نور محل کے گیٹ، استقبالیہ سے لے کر محل میں لگے مختلف سرائیکی ثقافت کی اشیاءکے سٹالوں پر تعینات پاک فوج کے جوانوں کا حسن اخلاق متاثر کن تھا، جو راقم، قافلے کے شرکاءسمیت نور محل میں آنے والے سینکڑوں سیاحوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آ رہے تھے، اور انہیں نور محل کی افادیت بارے آگاہ کر رہے تھے، جی بھر کر نور محل دیکھنے کے بعد انڈیا کا تاج محل اس کے مقابلے میں زیر محسوس ہوا، کئی گھنٹے یہاں گزارنے کے بعد قافلہ دین اسلام کی تبلیغ کے حوالے سے اپنا الگ مقام و شناخت رکھنے والے تاریخی شہر اوچ شریف پہنچا، جہاں ایک لاکھ 24 ہزار انبیاءو اولیاءکرام مدفن ہیں اور دین اسلام کی تبلیغ و پھیلاﺅ کے حوالے سے اوچ شریف ایک کتاب اور باب کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے تاریخی مقامات حکومتی عدم توجہی کے باعث منہدم ہوکر ختم ہو رہے ہیں کے بارے میں تفصیلی ذکر بھی آئندہ کالموں میں کروں گا، یہاں کچھ درگاہوں پر حاضری دے کر علی پور پہنچے، جہاں صحافی اور علم و ادب کے منبہ ضیاءشہزاد بڑانی نے حسب سابق دوستوں کے اعزاز میں عصرانے کا اہتمام کیا ہو اتھا، اب کی بار منع کرنے کے باوجود میزبان کی طرف سے ہر سال کی طرح اس سال بھی کھانے میں کئی ڈشوں کا مزید اضافہ کیا گیا تھا، فرق صرف یہ تھا کہ پچھلے ادوار میں یہ اہتمام ہیڈ پنجند کے مقام پر پکھیوں میں قائم ٹھیلوں میں ہوتا تھا، انتظامیہ کی جانب سے ہیڈ پنجند سے ٹھیلے اٹھائے جانے کے باعث اب کی بار انتظام ہیڈ پنجند کی بجائے چالیس کلو میٹر دور علی پور کے ایک ہوٹل میں کیا گیا تھا جہاں قافلے کے شرکاءکھانے سے دو دو ہاتھ کر رہے تھے کہ اس دوران ایک اور سینئر صحافی ساتھی رانا منان قافلہ علی پور پہنچنے کی اطلاع پا کر ہوٹل پہنچ گئے، اور اتنے خلوص سے قافلے کے شرکاءکو اپنے ہاں چائے کی دعوت دی کہ وقت کی قلت کے باوجود کوئی بھی دوست انکار نہ کر سکا، اور پھر رانا منان کے ہاں سے کڑک چائے پی کر قافلہ کے شرکاءانبیاءو اولیاءکے کرام کے شہر اوچ شریف کے انٹر چینج پہنچا اس دوران چولستان ریلی 2021ءکے نتائج آ چکے تھے، اور صاحبزادہ سلطان 220 کلو میٹر کا سفر3 گھنٹے 18 منٹ میں طے کر کے پہلی، میر نادر مگسی یہی فاصلہ 3 گھنٹے 22 منٹ میں طے کر کے دوسری، جعفر مگسی نے تین گھنٹے 24 منٹ میں طے کر کے تیسری پوزیشن حاصل کر لی تھی اور یہ شخصیات وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے انعامات وصول کر چکے تھے، اس دورانیہ میں راقم سمیت قافلے کے شرکاءنے چولستان سے اوچ شریف تک اپنے ملک میں وہ خوبصورت نظارے، منظر اور مقامات بھی دیکھے جو دنیا بھر میں شاید نہ ہوں، یہاں تاریخ و ثقافت کے اکثر باب حکومتی عدم توجہی کے باعث خستہ حال ہو کر اپنی اصلی ساخت کھو رہے ہیں۔




اﷲ پاک ہمارے ملک کے حکمرانوں کو بہاولپور، چولستان، اوچ شریف سمیت ملک بھر میں موجود تاریخی و ثقافتی ورثہ کو محفوظ بنانے کی توفیق عطاءفرمائے اگر ایسا ہو جائے تو یقین سے کہتا ہوں کہ اب تو سالانہ لاکھوں افراد سیاحتی و تفریح مقامات دیکھنے کےلئے یورپی ممالک اور عرب ریاستوں میں جاتے ہیں، اپنے ملک کے ثقافتی مقامات کی حالت بہتر بنانے کی صورت میں عرب ریاستوں اور یورپ سے سالانہ لاکھوں سیاح پاکستان آئیں گے اور اس سے پاکستان کو اربوں نہیں کھربوں روپے کی سالانہ آمدن ہو گی اور پاکستان کا شمار بھی دنیا کے سیاحتی ممالک میں ہونے لگے گا۔ ملک کے کپتان عمران خان جو آئے روز کہتے ہیں کہ ملک میں نئے تفریح اور سیاحتی پوائنٹ قائم کیے جائیں گے تو انہیں بہاولپور، اوچ شریف اور ملک میں دیگر تاریخی مقامات، محلات، قلعہ جات اور ثقافتی ورثہ کو محفوظ بنانے پر خاص توجہ دینا ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں