1,075

‏پرائیویٹ سکولز کے اساتذہ کی تنخواہیں بھی بڑھائی جائیں کیونکہ وہ بھی سرکاری سکول کے اساتذہ کرام کے بچوں کو پڑھاتے ہیں

تحریر حافظ محمد بلال روز نامہ پاکستان لودھراں

میں نے آج تک پرائیویٹ اداروں میں تعلیم کی شمع روشن کراتے ہوئے استاذمحترم جو دن رات محنت کرتے ہوئے اس ملک کے نوجوانوں کا بھتر سے بھتر مستقبل بناتے ہوئے نظر آتے ہیں جن کی محنت کی جنتی بھی تعریف کی جائے کم ہوگی ان بچاروں کی مھانا تنخواہیں تو کسی بجٹ میں نہیں بڑھائی گئی ان بچارے استاذمحترم کے ساتھ تو اتنا پرائیویٹ اداروں میں اتنا ظلم ہوتا ہے اس کی جتنی بھی بطور صحافی مزمت کروں کم ہے میں آنکھوں دیکھا حال آپ سے شیئر کرتا چلوں کہ ہمارے استاذ محترم جو پرائیویٹ سکولوں میں کرونا وائرس کے دنوں میں جب ادارے کرونا کی وجہ سے بند تھے پیف سکول بند ہوگیے تھے دیگر پرائیویٹ سکول بھی بند ہوگئے تھے اس مشکل ترین وقت حالات میں بچارے استاد محترم کو مھانا تنخواہیں تک نہیں دی گئی آو میرے ساتھ بیٹھ کر




مناظرہ کروں میں تو سارے کے سارے پیف سکولوں یا دیگر پرائیویٹ اداروں کے مالکان نے باقاعدگی سے تنخواہیں بجٹ لیتے رہے پیف سکولوں کو تھوڑا کم پیمنٹ سہی مگر ملتی ضرور رہی مگر پیف سکولوں کے مالکان نجی سکولوں کے مالکان نے بچارے استاذمحترم کو اس کرونا کے مشکل وقت میں بھی تنخواہیں نہیں دیں جب کہ تنخواہیں پیف کے ہیڈ آفس سے باقاعدہ ملتی رہیں چند ایک سکولوں کے مالکان نے ٹیچر کو اس مشکل وقت بھی تنخواہیں دی بھی ہونگے مگر اس کی تعداد بہت کم ہے مگر پیف سکولوں کے نجی سکولوں کے مالکان نے کسی بھی ٹیچر کو تنخواہیں دینے کی بجائے حکومت پنجاب کو برا بھلا کہتے ہوئے کروانا جیسے موجودہ صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو گالی گلوچ دے کر استاد محترم کی تنخواہوں کو ادا کرنے سے جان چھڑانے میں کامیاب ہوتے نظر آئے معلوم نے پیف سکول پرائیویٹ سکولوں کے مالکان کروڑوں روپوں میں کیسے پہنچ گیے ہیں جب کے اسی پرائیویٹ اداروں میں تعلیم کی شمع کرانے والے استاد آج بھی بہت زیادہ غریب ہیں مجھے یاد ہے کہ کرونا کے اس مشکل ترین وقت میں ایسے بھی نجی سکولوں کے استاد محترم پیف سکولوں کے ٹیچر گھر کے اخرجات ادا کرنے کیلئے ریڑھی لگاتے ہوئے گھروں کے گزر بسر کرتے ہوئے نظر اتے تھے اور اس وقت بھی پرائیویٹ سکولوں میں ایسے ٹیچر بھی موجود ہیں جو فسٹ ٹائم سکول تو سیکنڈ ٹائم کوئی نہ کوئی مزدوری یا چھوٹی موٹی نوکری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں میں کئی استاد محترم کو جب اس مشکل صورتحال سے نمٹتے ہوئے دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسوں اجاتے ہیں




اسی طرح کرونا کے وقت میں نے جب نجی سکولوں کے استاد محترم کو مزوری کرتے ہوئے دیکھا تو مجھے رونا اگیا یے میں احتجاج کرنے والے ملازمین اور یونین کے ٹھیکیداروں سے پوچھنا یے چاہتا ہوں کیا یے معلم اس قوم کے استاد نہیں کیا ان کا کوئی مقام نہیں بس گورمنٹ پنجاب کے استاد ہی زیادہ عزتِ کے قابل ہیں کیا یے استاد نہیں ہیں کیا ان پرائیویٹ سکولوں کے ٹیچروں کے بچے نہیں ہیں افسوس ان بیچاروں کے حقوق کیلئے تو کوئی یونین نہیں میری گزارش کہ امیر کو امیر بنانے کیلئے تو ہمارے ملک میں بہت زیادہ یونین ہیں مگر غریبوں کے حقوق کیلئے تو کوئی یونین نہیں ہیں پرائیویٹ سکولوں کے استاد محترم کی کوئی بات نہیں سنتا نہ حکومت نہ سکول مالکان کرونا کے اس مشکل وقت میں نجی سکولوں کے اداروں کے مالکان بھی بچوں کے و الدین سے باقاعدہ فیسیں لیتے رہے اس مشکل وقت میں بچوں کے و الدین بہت زیادہ پریشان ہوئے مگر پرائیویٹ سکول مالکان نے و الدین کی ایک نہ سنی کچھ سکولوں کے مالکان نے سکول اوپن ہونے سے ساری بقایا فیسیں زبردستی وصول کی ہیں حالانکہ گورمنٹ پنجاب سپریم کورٹ آفس پاکستان تک سب بڑے بڑے اداروں نے نجی سکول مالکان کو بچوں کے و الدین سے فیسیں وصول کرنے سے منع کیا تھا مگر نجی سکول کے مالکان نے کسی بھی بڑے ادارے کی ایک نہ سنی مجھے یاد ہیں آج بھی ایسے استاذمحترم پرائیویٹ سکولوں میں موجود ہیں جن کو کئی کئی سال سکولوں میں پڑھاتے ہوئے گزر گئے ہیں مگر ان کو آج بھی پانچ سات زیادہ سے زیادہ دس ہزار تک مھانا تنخواہیں دی جا رہی ہیں کبھی ہم نے یے سوچا کہ یے بھی بچارے اس ملک کا اثاثہ ہیں ان کے بھی بچے ہیں ان کے بھی مسائل ہیں مگر ہمارے میں سرکاری ملازمین کو تو ریاست کا ستون مانا جاتا ہے پرائیویٹ سیکٹر میں کسی بھی ملازمین کے بارے میں کسی بھی حکومت نے نہیں سوچا گورمنٹ پنجاب کے تمام ملازمین کے بچوں کو یہیں پرائیویٹ سکولوں کے ٹیچر ہی پڑھاتے ہیں چلیں اور کوئی بات نہ دیکھیں تو ایک اسی بات پر ہی ترس کھالیں کہ یے پرائیویٹ سکولوں کے استاد محترم گورمنٹ سکولوں کے بچوں کو پڑھاتے ہیں یے بھی عزت قابل استاد محترم ہیں ان کے بھی حقوق ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں