1,127

جرمنی کے سرمایہ کار پاکستان میں جوائنٹ وینچرز اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں۔ سردار یاسر الیاس خان

اسلام آباد ( سی این پی ) ایس ایم ای شعبہ جرمنی کی معیشت میں ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لہذا جرمنی اور پاکستان ایس ایم ایز کے درمیان مضبوط روابط قائم کر کے فائدہ مند نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ جرمنی کے سرمایہ کار پاکستان میں دلچسپی لے رہے ہیں کیونکہ پاکستان کاروبار اور سرمایہ کاری کے لئے ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ جرمنی کی کمپنی جی آئی زیڈ پاکستان میں نوجوانوں کی فنی تربیت اور مہارت کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے سرگرم عمل ہے لہذا پاکستان کا نجی شعبہ ان تربیت یافتہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو استعمال کر کے اپنی پیداوار بہتر کر سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان میں تعینات جرمنی کے سفیر برن ہارڈ اسٹیفن سلوگیک نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورہ کے موقع پر تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جرمن سفارتخانے کے اقتصادی کونسلر کرسچن بٹچر بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ تھے۔




سی پیک میں جرمن سرمایہ کاروں کیلئے جوائنٹ وینچرز و سرمایہ کاری کے پرکشش مواقعوں کے بارے میں تجویز کا جواب دیتے ہوئے جرمن سفیر نے کہا کہ سی پیک میں مقامی سرمایہ کاروں کی زیادہ شرکت سے غیر ملکی سرمایہ کاروں میں بہتر اعتماد پیدا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری آرہی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کو معاشی پالیسیوں میں تسلسل اور ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کے لئے ٹیکس نظام میں مزید اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری تنازعات کے کیسوں کو جلد نمٹانے کیلئے بھی پاکستان کو اس نظام میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے جس سے غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میںمزید ترغیب ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی اور پاکستان کے مابین واٹر مینجمنٹ، ویسٹ مینجمنٹ، ہیلتھ کیئر، صنعت و زراعت اور فوڈ سیکیورٹی سمیت دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کی عمدہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ جرمنی میں پاکستان کے سفیر کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ مزید جرمن سرمایہ کاروں کو پاکستان کی طرف راغب کیا جاسکے۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ جرمنی پاکستان کا ایک اہم تجارتی پارٹنر ہے کیونکہ دونوں کی باہمی تجارت 3 ارب ڈالر سے زائد ہے تاہم انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی معیشت کے سائز کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی تجارت میں اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹوموبائل پاکستان میں ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا سیکٹر ہے لہذا جرمنی کی آٹو موبائل کمپنیاں ٹیکنالوجی کی منتقلی کر کے پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے کے پلانٹ لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لیبر کاسٹ سمیت کاروبار کرنے کی لاگت یورپ کی نسبت کافی کم ہے لہذا جرمنی کے سرمایہ کار پاکستان میں دلچسپی کے شعبوں میں جوائنٹ وینچرز اور سرمایہ کاری کر کے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ جرمن کمپنیاں پہلے ہی پاکستان میں کامیاب کاروبار کر رہی ہیں اور مزید کمپنیوں کو پاکستانی مارکیٹ میں ترقی کے مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے سفیر کو مختلف تجارتی و صنعتی نمائشوں کے انعقاد کے لئے چیمبر کے آئندہ کے منصوبوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ جرمن سرمایہ کار ان میں شرکت کر کے کاروبار کو فروغ دینے کی کوشش کریں۔




چیمبر کی سینئر نائب صدر فاطمہ عظیم ، نائب صدر عبدالرحمن خان، میاں شوکت مسعود، محمد شاکر، جاوید اقبال، اویس خٹک، شوکت حیات خان، اسلم کھوکھر، شکیل منیر، سعید خان، چوہدری اشرف فرزند، خالد چوہدری، ناصرہ علی اور دیگر نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پاکستان و جرمنی کے مابین دوطرفہ تجارتی اور معاشی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لئے مفید تجاویز پیش کیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں