1,111

چکوال کے پستہ بادام اور رتہ شریف

راجہ لیاقت
ایک بار پھر میں کلرکہار کے قریب ”رتہ شریف“ میں ڈاکٹر عظمت صاحب کے ”ریسرچ سنٹر“ میں موجود تھا۔ اس بار پھر اسلام آباد کی صحافت کے ”گرو“ رانا اسلم خان صاحب کی قیادت میں ہم بذریعہ موٹروے ڈاکٹر عظمت صاحب فارم ہاؤس پہنچے تھے۔ اب کی بار”بڈھا گورایا“ سے خصوصی طور پر بلوائے گئے رانا اسلم خان صاحب کے چچا، ان کے بیٹے اور دو تین دیگر لوگ بھی ساتھ تھے۔ رانا اسلم خان کا خیال تھا اور بڑا صحیح خیال تھا کہ ان کی آبائی زمین جو کئی مربعوں پر مشتمل ہے، اس میں گندم اور منجھی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عظمت صاحب کے تیار کئے گئے ”انقلابی“ پودے اور




درخت لگانے چاہیے تھے جو گندم اور چاول کی نسبت دس، بارہ گنا زیادہ منافع بھی دیں گے اور ”وختا“ بھی کم کرنا پڑے گا۔ چونکہ چاچا جی نے اپنی پیدائش سے لیکر اب تک وہی روایتی زمیندارہ کیا تھا، ان کی سمجھ میں گرو رانا اسلم صاحب کی حکیمانہ باتیں نہیں آرہی تھیں۔ اس لئے انہیں خاص طور پر دعوت دی گئی تھی کہ وہ ”موقع واردات“ پر آئیں۔ ملاحظہ کریں اور پھر کوئی فیصلہ کریں۔
ڈاکٹر عظمت صاحب اب کی بار شلوار، قمیض کے بجائے ڈھیلے ڈھالے ٹراؤزر شرٹ اور جوگرز میں استقبال کے لئے موجود تھے، چہرے پر ہمیشہ کی طرح مہربان مسکراہٹ سجائے سب کا پرتپاک استقبال کیا۔ ان کے مارکیٹنگ منیجر رانا توصیف اسلام آباد سے ہی ہمارے ساتھ گئے تھے جو بحریہ ٹاؤن جسے میں خاص طور پر ”کرائم ٹاؤن“ لکھتا ہوں کے فیز آٹھ میں رہائش پذیر ہیں۔ پہلے ایک بڑے بینک میں تھے، دس بارہ سال قبل گولڈن شیک کے بعد وہ پودوں اور درختوں کی دنیا میں داخل ہوگئے اور بڑی کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ چائے سے تواضع کے بعد ڈاکٹر صاحب نے اپنے ملازمین کو کھانا تیار کرنے کی ہدایت کی اور ہمیں ساتھ لیکر قریب ہی اپنی ”تجربہ گاہ“ میں لے گئے۔ گملوں، کیاریوں میں لگے دنیا جہان کے پودے موجود ہیں۔ کالی مرچ، سبز الائچی، پستہ، بادام، اخروٹ، سیب، کیلا، ساگوان، مٹھا، سیڈیس کنو اور مالٹا سمیت بھانت بھانت کی جڑی بوٹیوں سمیت ادرک، جانوروں کا چارہ، جب ڈاکٹر عظمت صاحب ان پودوں کی تاریخ کہ کہاں سے منگوائے گئے ہیں، کیسے تیار کئے جاتے ہیں۔ کس طرح لگائے جاتے ہیں۔ پیداوار کب اور کتنی دیتے ہیں، کے حوالے سے بریفنگ دے رہے تھے تو رانا اسلم خان صاحب کے چاچا جی حیرت زدہ کھڑے سن رہے تھے۔ بالکل ایسے ہی جیسے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں آئے، پہلی بار اسلام آباد کو دیکھنے والے بھولے بھالے طلباء دیکھ رہے تھے کیونکہ انہوں نے کبھی ”مدرسوں“ وہ بھی پہاڑوں اور جنگلوں میں بنائے گئے مدرسوں کے سوا کچھ دیکھا ہی نہ تھا۔




دو تین انچ کی ”جڑوں“ کے بارے میں ڈاکٹر عظمت صاحب نے بتایا کہ یہ جانوروں کا چارہ ہے۔ ایک ”جڑ“ سے ایک من چارہ چند ہفتوں میں تیار ہو جاتا ہے۔ زمین میں لگانے کے بعد یہ چودہ، پندرہ سال تک چارہ استعمال ہوتا رہتا ہے۔ آپ کاٹتے جائیں، جانوروں کو کھلاتے جائیں اور پھر ساتھ ساتھ تیار ہوتا جاتا ہے۔ بادام کے بارے میں بتایا کہ ایک سال میں پھل اپنا شروع کر دیتا ہے۔ چار سے سات کلو بادام ایک پودے سے حاصل ہوتے ہیں۔ چھوٹے سے سیب کے درخت کے بارے میں بتایا کہ ایک پھول سے پانچ عدد بہترین اور لذیذ پھل لگتے ہیں اور سال میں دو بار پھل دیتا ہے۔ اس دوران تلہ گنگ سے میرے دوست ملک فاروق بھی وہاں پہنچ گئے تھے جنہیں میں نے یہاں بلوایا تھا۔ ملک فاروق نے تھانہ ٹمن سے تھوڑا آگے ایک گاؤں ”شاہ محمدی“ میں سواں کے کنارے ہزاروں کنال زمین خرید کر اس میں تین لاکھ سفیدے کے درخت لگائے ہیں جبکہ ابھی مزید درخت جن میں بانس، مالٹا وغیرہ شامل ہیں، لگا رہے ہیں۔ میں نے انہیں ڈاکٹر عظمت صاحب کے حیرت انگیز امپورٹڈ پودوں اور فارم ہاؤس کے بارے میں بتایا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ انہیں بھی اپنی زمین میں اس طرح کا تجربہ کرنا چاہیے۔ ان کا خیال یہاں آکر پختہ یقین میں بدل چکا تھا اور انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اپنی غیرآباد زمین میں ”ساگوان“ ضرور لگائیں گے۔ ساگوان کے بارے میں ڈاکٹر عظمت صاحب نے بتایا کہ پانچ سے سات سال میں ساٹھ فٹ کا تناور درخت بن جاتا ہے اور ایک درخت دو لاکھ سے زائد قیمت میں فروخت ہو جاتا ہے۔

سرگودھا یونیورسٹی کے دو ریسرچرز بھی یہاں آئے ہوئے تھے، وہ بھی سرگودھا میں ڈاکٹر صاحب کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہ رہے تھے۔ کھانا تیار تھا۔ دیسی مرغے، مٹن کے ساتھ تندور کی روٹیاں، یقین کریں اسلام آباد کے چار پانچ سٹار ہوٹلوں سے زیادہ لذیذ کھانا، اوپر سے ایک بار پھر تازہ دودھ سے تیار کردہ دودھ پتی، ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ روس، بیلجیئم اور یورپ کے دیگر ممالک کے کچھ لوگ بھی ان سے رابطے میں آئے ہیں۔ وہ باقاعدہ ”رتہ شریف“ کے وزٹ کر رہے ہیں، قطری شہزادوں کے لگائے گئے گرین ہاؤسز اب کرائے کی زمین سے اُکھاڑ کر اپنی ذاتی خریدی گئی زمین میں لگائے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے بارہ ہزار سے زائد زمیندار ڈاکٹر عظمت صاحب کے باقاعدہ ”کسٹمرز“ بن چکے ہیں۔ لیکن یہ ڈاکٹر عظمت صاحب کا بڑا پن ہے کہ وہ اپنے تجربات کو اپنی ذات اور صرف اپنے فائدے کے لئے استعمال نہیں کر رہے بلکہ وہ ہر کسی کو بتاتے بلکہ ”اکساتے“ ہیں کہ وہ روایتی زمیندارہ کے ساتھ جدید ترین تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔ اس سے پورے ملک میں انقلاب کے ساتھ لوگوں کے لئے روزگار کا کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ یہ ضلع چکوال کی خوش نصیبی ہے کہ دنیا بھر کی خاک چھاننے والے ڈاکٹر عظمت جو لاہور جیسے پر رونق شہر کے باسی تھے۔ سب کچھ ایک طرف رکھ کر کلرکہار کے قریب رتہ شریف کے جنگل میں ڈیرے ڈال کے بیٹھ گئے ہیں۔ وہ چاہیں تو اپنے بچوں کو لندن اور امریکہ میں پڑھا سکتے ہیں۔ مگر ان کے دونوں بیٹے کلرکہار کے فوجی فاؤنڈیشن میں تعلیم کے ساتھ مکمل قدرتی ماحول میں پرورش کی منزلیں طے کر رہے ہیں۔ پہلی بار کی طرح میرا یقین دوسری بار وزٹ کے دوران مزید پختہ ہوگیا کہ ڈاکٹر عظمت صاحب جیسے محب وطن لوگوں کی موجودگی میں، یہ ملک بہت جلد اپنی منزل کی طرف پہنچے گا اور وہاں کے لوگ سیاستدانوں کے جھوٹے وعدوں سے باہر نکل کر خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں