1,116

کرونا وائرس اور تعلیمی سرگرمیاں

راولپنڈی (ریحان احمد) پوری دینا میں جہاں کرونا وائرس نے اپنے پنجے جمائیں ہیں لاکھوں انسان اس کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں اورہر کوئی اس پریشانی میں مبتلا ہے کہ کب اس سے جان بچ پائے گی۔ اس کی ویکسین آچکی ہے یہ کتنی کارآمد ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
اسی طرح کرونا وائرس نے تعلیمی سسٹم کوبھی بری طرح متاثر کر دیا ہے جس سے بچے، جوان گھروں میں محسور ہو کررہ گئے اور سکول کالجز اور یونیورسٹیز سب بند ہو گئی۔




گورنمنٹ کے سخت اقدامات کی وجہ سے آللہ تعالی کا شکر ہے کہ پاکستان میں اس موزی مرض سے کافی حد تک کنٹرول کر لیا ہے۔ جس کے سبب بہت کم تعداد میں اب لوگ اس مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔
تعلیمی نظام کو بہت کرنے کے لیئے ہائر ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ پرائمری ایجوکیشن کی بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ کہ وہ یہ دیکھے کے لاک ڈاون کے دوران آن لائن پڑھائی کا سسٹم متعارف کروایا گیا۔ جس میں بچوں کو گھر بیٹھے موبائل فون سے تعلیم دی جاتی تھی۔ جو بچے گھر بیٹھے اپنے سکول، کالج یا یونیورسٹی سے اپنے استاد کی مدد سے تعلیم حاصل کر رہے تھے وہ کتنا کارآمد رہا۔ اور آیا بچے اس کی وجہ سے اپنی تعلیمی کمی کو پورا کر سکے ہیں کہ نہیں۔




بچوں کے ساتھ والدین پر بھی بہت بھاری ہوم ورک زمہ درای دے دی گئی ہے۔ جواب صرف والدین کی زمہ داری تھی کو وہ اس ہوم ورک کو حل کروائیں۔ ٹیچر تمام تر زمہ داری سے بری و زمہ ہو کر ڈھیر سارا ہوم ورک بچوں کو بھیج دیتے ہیں۔ اب والدین کی زمہ داری ہے کہ وہ اس کو کیسے بچوں کو مکمل کرواتے۔ اور ڈھیر سارا کام ایک دن میں مکمل کرنا بھی ناممکن ہے۔ جب سکول انتظامیہ سے بات کریں تو وہ آیئں بائیں شائیں کر کے بات کو ٹال دیتے ہیں۔ ایجوکیشن بورڈز اور ڈائریکٹریٹ آف یجوکیشن والے اس کا نوٹس لیں۔
شکر ہے اللہ تعالی کا اب سکول کھل گئے ہیں۔ اور بچوں کو سکول جانا شروع ہو گئے ہیں۔ لیکن تعلیمی کمی جو لاک ڈاون کی وجہ سے رہ گئی وہ کیسے مکمل کی جائے کیا سلیبس کوکم کیا جائے یا بچوں پہ بھاری بھرک تمام سلیبس کا بوجھ ڈال دیا جائے۔ دونوں صورتوں میں طلبہ و طالبات اس سے متاثر ہو رہے ہیں کہ آن لائن پڑھا کر آن لائن پیپر بھی لیے جائیں۔ کیونکہ سالانہ امتحانات سر پر ہیں۔ اور صرف پانچ فیصد بچوں کی تیاری ہے باقی طلبہ و طالبات شدید پریشانی مین مبتلا ہیں۔ والدین کا وفاقی وزیر برائے ایجوکیشن جناب شفقت محمود صاحب اور صوبائی وزیر برائے ایجوکیشن مراد راس صاحب سے اس پرخصوصی توجہ دینے کی گزارش کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں