1,027

پاکستان اپنی متعدد مصنوعات آذربائیجان کو برآمد کرنے کی عمدہ صلاحیت رکھتا ہے۔ سردار یاسر الیاس خان

اسلام آباد ( سی این پی ) پاکستان میں تعینات آذربائیجان کے سفیر علی علی زادہ نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ دونوں ممالک متعدد شعبوں میں تجارتی اور معاشی تعاون کو فروغ دے کر اپنی معیشتوں کیلئے فائدہ مند نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آذربائیجان اور پاکستان کے درمیان سیاسی سطح پر بہت اچھے تعلقات ہیں لیکن تجارتی و اقتصادی تعلقات صلاحیت سے بہت کم ہیں لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک باہمی تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے پرزیادہ توجہ دیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورہ کے موقع پر تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔




علی علی زادہ نے کہا کہ آذربائیجان کے عوام پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں اورپاکستان کے ساتھ کاروبار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں لہذا پاکستان آذر بائیجاں کے ساتھ تجارتی تعاون کو مضبوط کرنے کیلئے کوششیں تیز کرے۔ انہوں نے کہا کہ آذربائیجان نے روس سمیت خطے کے 10 ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے کر رکھے ہیں لہذا آذر بائیجاں کے ساتھ تجارتی تعاون کو فروغ دے کر پاکستان ان تمام ممالک کو اپنی برآمدات بہتر فروغ دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین تجارتی سرگرمیاں سست روی کا شکار رہی ہیں تاہم کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد دو طرفہ تجارت میں بہتر اضافے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ آذربائیجان کرونا وائرس کے خاتمہ کے بعد جلد ہی پاکستان کے ساتھ ریلوے لنک اور براہ راست پروازیں شروع کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک زراعت، صنعت، سیاحت، کان کنی،ہوٹلنگ اور دفاع سمیت متعدد شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔




آذر بائیجان کے سفیر نے کہا کہ پاکستان کی فارماسوٹیکل کمپنیوں کے لئے آذر بائیجاں میں کاروبار کرنے کے شاندار مواقع پائے جاتے ہیں لہذا وہ ان کے ملک میں دوائیاں تیار کرنے کیلئے مینوفیکچرنگ پلانٹ لگانے کی کوشش کریں جس سے ان کی برآمدات کو بھی بہتر فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ آذربائیجان باکو کی بندرگاہ کے قریب ایک فری اکنامک زون قائم کر رہا ہے لہذا پاکستان کے سرمایہ کاراس میں جوائنٹ ونچزر اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ مارچ میں دونوں ممالک کے مابین ایک آن لائن بزنس فورم کا انقعاد کرنے کا منصوبہ ہے لہذا پاکستان کہ بزنس کمیونٹی کے لئے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ اس فورم میں شرکت کر کے آذر بائیجاں کی تاجر بردری سے کاروباری تعاون کو فروغ دینے پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی کا ایک وفدآذربائیجان کا دورہ کرے تا کہ وہاں کی مارکیٹ میں اپنے لئے کاروبار ی شراکتوں کے امکانات کا جائزہ لے جبکہ ان کا سفارتخانہ دورے کو کامیاب بنانے میں ہرممکن تعاون کرے گا۔




اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسڑی کے صدر سردار یاسر الیاس خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین باہمی تجارت تقریباً 16 تا 17 ملین امریکی ڈالر ہے جو ان کی اصل صلا حیت سے بہت کم ہے حالانکہ وہ متعدد اشیاء میں ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کر سکتے ہیں۔ لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک باہمی تجارت میں بہتری لانے کے لئے مزید کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ فارماسوٹیکلز، کاسمیٹکس، سرجیکل آلات، کھیلوں کا سامان، کٹلری، بجلی کا سازوسامان، ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات، فرنیچر، دستکاری کی چیزیں، زرعی اجناس، پھل ، انجینئرنگ اور کنزیومر گڈزسمیت پاکستان اپنی متعدد مصنوعات آذربائیجان کو برآمد کرنے کی عمدہ صلاحیت رکھتا ہے لہذا آذربائیجان کو چاہیے کہ وہ پاکستان سے ان مصنوعات کو درآمد کرنے کی کوشش کرے۔




سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ پاکستان میں سی پیک کے تحت متعدد اسپیشل اکنامک زونز قائم کئے جا رہے ہیں جن میں سرمایہ کاروں کو 10 سال تک ٹیکس چھوٹ دی جا رہی ہے لہذاآذربائیجان کے سرمایہ کاروں کیلئے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ ان زونز میںجوائنٹ ونچرز اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں جس سے دونوں ممالک کے باہمی کاروباری تعلقات مذید مستحکم ہونگے۔انہوں نے کہا کہ آذربائیجان توانائی شعبے میں بہتر صلاحیت رکھتا ہے لہذا وہ اس شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئی سی سی آئی مارچ میں اپنا ایک تجارتی وفد آذربائیجان لے جانے کی کوشش کرے گا تاکہ وہاں کی تاجر برادری کے ساتھ ملاقاتیں کر کے مختلف شعبوں میں کاروباری شراکتوں کے مواقع تلاش کئے جائیں اور آذربائیجان کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کی معیشت کے مختلف شعبوں میں پائے جانے والے کاروباری مواقعوں سے آگاہ کیا جائے تا کہ وہ پاکستان میں کاروبار کے امکانات تلاش کریں۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سنیئر نائب صدر فاطمہ عظیم، نائب صدر عبد الرحمن خان، اسلم کھوکھر، خالد چوہدری اور دیگر ممبران نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے مابین تجارتی و اقتصادی تعلقات کو بہتر کرنے کیلئے مختلف تجاویز پیش کیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں