1,037

گلگت بلتستان ۔ ترقی کے سفر کے لئے تجاویز

تحریر علی شیر

میں ایک قلمکار / صداکار ہوں، محروم و محکوم عام عوام کا ترجمان ہوں مجھ پر یہ لازم ہیکہ میں ان کی پکار ان کے چہرے پر درج المناک کرب کو تحریر کا روپ دینا، مسیحائی کا روپ اپنائے ان کی آنکھوں میں اچھے دنوں کی نوعید کا چراغ روشن کرنے کی دعویداری کی بنیاد پر انہی کے ووٹ سے اقتدار کے اونچے ایوان کی اختیارات سے سجی کرسیوں پر فائض ہونے والے حکمرانوں تک پہنچانا
میرا کام صدا لگانا میرا کام آئینہ دیکھانا




کوئی سنے نہ سنے کوئی پڑھے نہ پڑھے یہ ان کی صوابدید ہے اسی جزبے اسی فرض کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لئیے میری یہ کوشش رہی ہیکہ میں گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی میں اپنے حصے کا کردار نبھاتا رہوں، ماضی میں برسر اقتدار رہنے والی سیاسی جماعتوں کے لئیے بھی اپنی بساط سے بڑھ کر انسانی ترقی کو کیسے یقینی بنایا جاسکتا ہے امور پر بھرپور معاونت فراہم کی شعبہ تعلیم، سیاحت، معیشت، ثقافت، نوجوانوں کی صلاحیتوں سے خطے کو کیسے مستفید رکھا جاسکتا ہے ان کے مستقبل سے ہی خطے کا مستقبل جڑا ہوا ہے ان کے مستقبل کو کیسے روشن بنایا جاسکتا ہے ان کی تربیت سیاسی، معاشرتی، معاشی امور پر خودداری کے فلسفے کی روح سے کیسے کی جاسکتی سے لیکر شعبہ صحت کو درپیش مسائل اور اس شعبہ میں کیسے بہتری لائی جاسکتی ہیں پر بھرپور معاونت فراہم کی مگر صد افسوس کہ ماضی کی ان حکومتوں نے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے اداروں کی سائنسی بنیادوں پر از سر نو تعمیر عام انسان کی معیار زندگی کو بلند رکھنے کے لئیے انسانوں پر سرمایہ کاری کو اپنا نصب العین نہیں بنایا
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہیکہ پاکستان مسلم لیگ نون کے دور اقتدار میں ریکارڑ ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دیا گیا ہاں مگر یہ بحث بنتی ہیکہ آیا جن منصوبوں کو حافظ حفیظ الرحمان دور حکومت میں جاری کیا گیا کیا وہ وقت کی اہم ضرورت تھے یا نہیں
حافظ حفیظ الرحمان صاحب کے دور اقتدار میں جن عوامل پر سب سے زیادہ توجوں مرکوز رکھنی چاہئیے تھی ان میں سب سے اہم اداروں کو آئن کی اصل روح کیمطابق سائنسی بنیادوں پر از سر نو تعمیر تھی مگر انہوں نے اداریاتی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے بجائے اداریاتی امور کو سرانجام دینے والے زعماء کو اہمیت دی جسکے نتائج آج ہم سب کے سامنے ہیں کوئی بھی ادارہ ائینی تشریح کے مطابق نہیں کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں جنہوں نے خطے کو درپیش مسائل سے نبرد ازماء رہنے کے لئیے حکمت عملی کو ترتیب دیا ہوں حتی کہ روزگار کے مواقع بھی جماع حکمت عملی کے تحت نہیں نظریہ ضرورت کے تحت فراہم کرتے رہے، جمہوری مزاج کے حامل ممالک میں سول سپریمیسی کا ائینہ سول ادارے ہی ہوتے ہیں منتخب ممبران کا کام عوام کی معیار زندگی کو بہتر بنانا ریاست اور عوام کے مابین مشترک مفادات کا تعین کرنا ریاست اور باشندگان کے مابین ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لئیے اداریاتی نظام ہی بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور یہ اداریاتی نظام منتخب مقننہ کے زیر طابع ہوتا ہے ممبران اسمبلی، وزراء کا کام نالیاں، رابطہ سڑکیں، ڈسپنسریاں، جامعات بنوانے سے زیادہ اہم نظام کو حکومتی امور کو عوام دوست بنانے کے لئیے ریاستی امور کو جدید خطوط پر استوار رکھنے مستقبل کو لاحق خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئیے اسمبلی میں پالیسیز پیش کرنا اور جہاں ضرورت محسوس ہوں وہاں نئے قوانین کا تخلیق کرتے ہوئے مظبوط محفوظ روشن مستقبل کو یقینی بنوانا




جب سول ادارے سیاسی خواہشات کی تکمیل کے بجائے ائین کی تشریح کیمطابق امور کی انجام دہی پر گامزن ہوجائے تو پھر ممکن ہی نہیں کہ وہ معاشرہ یا ملک حقیقی خوشحالی کے دور میں داخل نہ ہوسکے
مختصرا یہ کہ ماضی کی حکومت کو بحیثیت قلمکار شعبہ صحت کو درپیش مسائل سے متعدد بار جہاں اگاہ رکھتا رہا وہی پر ان مسائل سے نبرد ازما ہونے کے لئیے مفید تجاویز بھی پیش کی تھی جنہیں حکومتی ایواں سے لیکر حکومتی آکابرین نے سمجھنا تو درکنار توجہ دینا بھی گوارہ نہیں کیا اج بھی گلگت بلتستان شعبہ صحت انہی مسائل کا شکار ہے
موجودہ وزیر اعلی چونکہ ترقی پسند سوچ کے حامل ہے انسانی معاشرے میں انسانوں پر ہی سرمایہ کاری کو بنیادی فریضہ سمجھتے ہیں تو سوچا کیوں نہ موجودہ نوجوان وزیراعلی گلگت بلتستان کے سامنے شعبہ صحت کو درپیش مسائل اور ان سے نبرد ازما ہونے کے لئیے تجاویز انہیں پیش کروں

شعبہ صحت کی زبوں حالی

اس موضوع پر شاید ایک کتاب بھی کم ہو جو تمام مسائل کا احاطہ کر سکے . مگر اگر اس بات کو سمجھنا ہے کہ دشوار گزار پہاڑوں پر بسنے والے انسانوں کو صحت کے حوالے سے کیا مشکلات پیش آتی ہیں تو یہی بات کارکردگی دکھانے کیلئے کافی ہے کہ 11 اضلاع میں سے صرف تین اضلاع ایسے ہیں( گلگت , چلاس , سکردو ) جہاں کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کو ہم حقیقی معنوں فنکشنل کہہ سکتے ہیں , فنکشنل سے مراد یہ نہیں ہے کہ کسی DHQ میں سٹاف ایک کروڑوں روپے سے تعمیر کی گئی بلڈنگ میں , لاکھوں کی مشینری کے سامنے کھڑا ہے اور مریض کو حتمی علاج کیلئے , جیسے آپریشن , سی سیکشن اور دوسرے لائف سیونگ پروسیجرز کیلئے آگے ریفر کر رہا ہے , بلکہ فنکشنل سے مراد یہ ہے کہ یہ سہولیات اس کو اسی ہسپتال میں ملیں. بقیہ اضلاع میں سرجن , میڈیکل سپیشلسٹ اور گائنی کالوجسٹ کا تقریبا سرے سے وجود ہی نہیں ہے , اور کنسلٹنٹ لیول کیسسز میں جنرل کیڈر کے ڈاکٹرز ( میڈیل آفیسرز ) مداخلت کرنے سے بھی گھبراتے ہیں اور اصولا بھی انہیں نہیں کرنا چاہیئے. ان اضلاع میں کروڑوں کی لاگت سے تیار کی گئی بلڈنگذ حقیقت میں ڈسپنری کی طرح کام کر رہی ہیں اس کی وجہ ان ہسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں کا نہ ہونا ہے.
اس مدعے کے بعد دیکھا یہ گیا ہے کہ نزلہ پھر بڑے ہسپتالوں کے ڈاکٹرز پر گرنا شروع ہوجاتا ہے , حکومت کی طرف سے یہ بیانیہ سامنے آتا ہے کہ کنسلٹنٹس بڑے شہروں سے باہر نہیں جانا چاہتے , ان کو کلینکس کی فکر ہے , وغیرہ وغیرہ , چلیں فرض کر لیں کہ میں ایک سرجن ہوں , اور میری پوسٹنگ استور یا نگر کر دی جاتی ہے , میں وہاں بغیر بے ہوشی کے ڈاکٹر کے, ٹرینڈ عملے کہ کس کام آوں گا! وہاں بیٹھ کر میں بھی وہی کام کروں گا جو میڈیکل آفیسر کر رہا کہ جی اس کو گلگت لے جائیں , اس کے آپریشن کی ضرورت ہے.
دوسری طرف یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ کیا ان نام نہاد “بڑے” ہسپتالوں میں واقعی سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعداد سرپلس ہے !
اگر صرف DHQ gilgit کی بات کریں تو وہاں ٹوٹل سرجنز کی تعداد لگ بھگ تین ہے.
ان سرجنز کے ساتھ کوئی جونئیئر ڈاکٹر نہیں ہوتا جو ان کا ورک لوڈ شیئر کرے , داخل کرنے سے لیکر , pre operation assessment تک اور آپریشن سے لیکر پوسٹ آپریشن مانیٹرنگ تک سارے کا سارے کام انہی کے سر ہے , اس کے علاوہ opd , وارڈ راونڈ اور پھر ایوننگ اور نائٹ ایمرجنسیز دیکھنا بھی انہی کے سر پر ہے. یہ 10 لوگوں کا کام ہے تاکہ عوام کو ایک بہتر , اور smooth میڈیکل ٹریٹمنٹ مل سکے جو ایک فرد پر ڈال دی جاتی ہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ کوئی مسلہ نہ ہو.
یہی حال پھر میڈیسن کا ہے , کنسلٹنٹ راونڈ کے بعد آرڈر لکھ کر چلا جاتا ہے opd کے سینکڑوں نئے مریض دیکھنے اور داخل مریض پھر JMT ) junior medical technician جو کہ نرس بھی نہیں ہیں کہ رحم وکرم پر ہوتا ہے. ( یاد رہے JMT کا کام مریضوں کی صفائی کی دیکھ بال , کپڑے بدلنا , واک کرانا اور دیگر چیزیں ہیں , ان کا کام انجکشن لگانا , مانیٹرنگ کرنا ہرگز نہیں ہے , یہ کام کولائفائڈ نرسنگ سٹاف کا ہے ) کئی ایسے کیسز دیکھے گئے ہیں جہاں کنسلٹنٹس سیریس مریضوں کے لئیے اہم ٹیسٹ اور دیگر آرڈرز لکھ دیتے ہیں اور ان پر وقت پر عمل نہیں ہوتا ہے. دوسرے اضلاع سے جب کوئی مریض لیکر ان بڑے ہسپتالوں میں پہنچتا ہے تو اول تو اسے داخل کرنے کیلئے بیڈ نہیں ملتا , مل جائے تو اس کے قیام کے دوران ڈاکٹر سے سامنا مارننگ راونڈ میں ہوتا ہے , یا پھر جان کنی کے عالم میں ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ سے شام کو یا رات کو میڈیکل آفیسر الوداعی CPR دینے آتا ہے , تب ہوتا ہے.
اس کے علاوہ وہ شعبے جو سرے سے یہاں موجود نہیں ہیں اس میں نیورسرجری سرفہرست ہے , نیورو سرجری میں گزشتہ برس داکٹر سدھیر کے روپ میں ایک مسیحا ایا جس نے اب تک ہزار کے قریب کامیاب سرجریاں کی اب ان کی معاونت میں خطے کی ایک بیٹی نے بھی اسی شعبے کو اپنایا یہاں یہ بھی قارئین کو بتاتا چلوں کہ ڈاکٹر سدھیر نے جن نامساعد حالات میں نیورو سرجری کی عملا تعلیم مکمل کی اس پر میں نے ماضی میں مکمل تحریر پیش کر چکا ہوں اس نوجوان نیورو سرجن کو نہ ہی حکومتی سطح اور نہ ہی محکمہ صحت نے معاونت فراہم کی حتی کہ اس نوجوان کی حوصلہ افزائی کے بجائے اسے زہنی دباو کا شکار رکھنے کی بھرپور کوشش کی
دیگر میں peads surgery ( بچوں کی سرجری ) cardiac surgeon , وغیرہ آتے ہیں.
بار دیگر PMA اور YDA کی طرف سے تجاویز دی گئی کہ کیسے اس نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے مگر مسائل جو کہ توں ہیں. چیدہ چیدہ تجاویز یہ ہیں .




تجاویز
1) حکومت کے اپنے اعداد وشمار کے مطابق , موجودہ انفراسٹیکچر کو رن کرنے کیلئے کم سے کم 1500 ڈاکٹرز کی ضرورت ہے , جبکہ موجودہ تعداد 500 سے بھی کم ہے.

2 ) تمام DHQs میں ہمہ وقت , سرجن, میڈیکل سپیشلسٹ , چائلڈ سپیشلسٹ , گائنی کالوجسٹ اور انیستھیٹسٹ کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے اور ان کو سپورٹنگ سٹاف کی صورت میں , فی کنسلٹنٹ 3 میڈیکل آفیسرز دئیے جائیں جو تین شفٹس میں داخل مریضوں کی مانیٹرنگ کریں.

3) بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی ڈپارٹمنٹس کو شعبے کے حساب سے بنایا جائے , جیسے سرجیکل ایمرجنسی , میڈیکل ایمر جنسی , وغیرہ , اور کنسلٹنٹ آن کال کے فرسودہ نظام کو ختم کیا جائے . اس کے بدلے , موجودہ کنسلٹنٹس کی تعداد کو کم از کم تین گنا بڑھا کر ایوننگ اور نائٹ میں ایمرجنسی میں مستقل موجودگی کو یقینی بنایا جائے.

4) ہر وارڈ میں تین شفٹس میں میڈیکل آفیسرز کی مستقل موجودگی کو یقینی بنایا جائے , جو مریض کے علاج , بنتی
بگڑتی صورت حال پر بروقت کنسلٹنٹ کو مطلع کر سکے اور فوری اقدامات کو یقینی بنا سکے.

اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ہر صحت کے حوالے سے جس بھی مسلے کو پکڑیں بنیاد وہی human resource کی کمی ہی نکلتی ہے, کسی بھی مریض سے پوچھیں اس کا ہسپتالوں اور ڈاکڑوں سے یہی گلہ رہتا ہے , تسلی سے دیکھا نہیں , مریض کے سیریس ہونے پر بروقت آئے نہیں , بروقت آپریشن نہ ہو سکا. اس بیچارے کو یہ نہیں پتا ہوتا ہے کہ یہ سب بروقت نہ ہونے کی وجہ افرادی قوت کی شدید قلت ہے. نظام ایسا دیا گیا ہے کہ 5 بندوں کا کام ایک سے لیا جا رہا ہے. اس پر سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ جب ہیلتھ ایڈمنسٹریشن سے بات کی جاتی ہے تو سینہ پھلا کر کہتے ہیں” ہمارے پاس کنسلٹنٹس کی ضرورت نہیں ہے , یہ سامنے دراز میں cvs بھری پڑی ہیں , ہماری سیٹس فل ہیں” وہ یہ نہیں بتاتے کہ جسطرح 1980 میں ایک سرجن , ایک میڈیکل سپیشلسٹ سے ہسپتال چلایا جاتا تھا , اس حساب سے تو واقعی تین سرجن کا ہونا “سپر سرپلس” ہے , مگر جس حساب سے آبادی بڑھی ہے , اور آمدورفت کے ذرائع بہتر ہونے سے دوسرے اضلاع سے بھی مریض لائے جاتے ہیں , یہ تعداد شرمناک حد تک کم ہے. یہی اس المناک صورتحال کی اصل وجہ ہے کہ پالیسی میکرز حال اور مستقبل کے زمینی حقائق کو سامنے رکھنے کی بجائے , 40 سال پیچھے چل رہے ہیں. اگر ایسا نہیں ہوتا تو دھڑا دھڑ کنکریٹ کی عمارتیں کھڑی کرنے سے پہلے pc 4 جو کہ ہیومن ریسورس سے متعلق ہے , اس پر زور دیا جاتا , نئی سیٹس creation پر توانائیاں لگائی جاتیں. کیونکہ عمارت تو 6 مہینے میں کھڑی ہوجاتی ہے , کروڑوں کا equipment بھی آجاتا ہے , مگر اس کو استعمال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا. سیاسی بنیادوں پر الیکشن کارڈ کے طور پر ڈسپنسری کو 10 بیڈ , 30 بیڈ ہسپتال بنا کر عمارت تو تعمیر ہوجاتی ہے , اس کا pc 4 سالوں سرد خانے میں پڑا رہتا ہے اور نتیجے کے طور پر ڈسپنسری کا عملہ ہی “اپ گریڈڈ ہسپتال” چلا رہا ہوتا ہے.

ہیومن ریسورس کہاں سے آئے !

آج کی تاریخ میں سالانہ 80 سے 90 کے قریب گلگت بلتستان کے ڈاکٹرز پاس آوٹ کر رہے ہیں. پچھلے ایک سال سے ڈپارٹمنٹ میں سیٹس نہ ہونے کی وجہ سے حکومت ان سینکڑوں ڈاکٹرز کو سسٹم سے باہر رکھے ہوئے ہے. 2010 کے بعد دوسرا پبلک سروس کمیشن وائی ڈی اے کے بھرپور احتجاج پر 2017 میں کنڈکٹ کیا گیا , تب یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اب سالانہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ڈاکٹروں کو بھرتی لیا جائے گا اور تاحال سیٹیں نہ ہونے کی وجہ سے پبلک سروس کمیشن کو سیٹس نہیں بھیجی گئیں. وائی ڈی اے کی تین سالہ جدوجہد کے نتیجے میں کنٹریکٹ ڈاکٹرز ریگولرائزیشن بل اس سال کے شروع میں منظور ہوا مگر تاحال اس پر عملدارآمد نہیں کیا گیا.
اس کے علاوہ جو مسلہ ایک اژدھے کی طرح پھن پھلائے کھڑا ہے , وہ پوسٹ گریجویشن ٹریننگ کا ہے. صوبے میں ٹیچنگ ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان کے ڈاکٹرز پنجاب اور kpk کے ہسپتالوں میں ٹریننگ کرنے جاتے تھے , مگر 2016 میں پنجاب میں CIP سنٹرل انڈکشن پالیسی نافذ ہونے کے بعد سپیشلسٹ ٹریننگ کی سیٹس محدود کر دی گئی ہیں , سالانہ 5 سے 6 ڈاکٹرز کو کوٹہ سیٹس پر ٹیننگ کا موقع دیا جاتا ہے جبکہ ہر انڈکشن میں گلگت بلتستان کے امیدوار 25 سے 30 ہوتے ہیں. پنجاب کی دیکھا دیکھی kpk نے بھی اس سال اوپن انڈکشن ختم کر کے GB کو چند سیٹس تک محدود کر دیا ہے. اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اگلے دس سالوں میں آپکو بڑے ہسپتالوں میں بھی سپیشلسٹ ڈاکٹرز ڈھونڈنے سے نہیں ملیں گے. Gb حکومت اس سلسلے میں بے بس ہے کیونکہ وہ دوسرے صوبوں کی پالیسیز کو اپنے حق میں نرم کرانے میں ناکام رہی ہے, یہ بتایا گیا کہ آرمی کے ساتھ ایک MOU دسخط کیا گیا ہے کہ وہ جی بی ڈاکٹرز کو ٹریننگ محیا کریں گے اور ان کا وظیفہ جی بی حکومت دے گی , مگر تاحال اس پر بھی کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی. کوئی EOL پالیسی ابھی تک وضح نہیں کی گئی اور نہ ہی ٹریننگ ڈیپوٹیشن پالیسی ترتیب دی گئی ہے , کئی ڈاکٹرز 5 5 سالوں سے اس انتظار میں دور دراز علاقوں میں بطور میڈیکل آفیسرز ڈیوٹیاں دے رہے ہیں کہ حکومت میرٹ پر مبنی کوئی پالیسی وضح کر کے ان کو ٹریننگ کے مواقع دے گی تاکہ وہ بطور سپیشلسٹ بہتر سروسز دے سکیں. بیشتر ینگ ڈاکٹرز ان حالات سے تنگ آکر واپس جا چکے ہیں اور نئے انے والوں کی راہیں روز بروز تنگ ہوتی جارہی ہیں. اگر ان حالات پر مائیکرو منیجمنٹ کی بجائے ایک جامع پالیسی نہ دی گئی تو حالات بد سے بدتر ہوتے جائیں گے.
ان مسائل پر حکومت کو چاہیئے کہ پالیسی میکنگ میں ڈاکٹرز کو آن بورڈ لیا جائے , تاکہ مثبت تجاویز پر مشترکہ لائحہ عمل کو اپناتے ہوئے شعبہ صحت کو صحیح معنوں میں پھر سے تعمیر کیا جاسکے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں