1,039

خواتین انٹرپرینورز کی حوصلہ افزائی کیلئے حکومت سازگار پالیساں بنائے ۔ میاں اکرم فرید

اسلام آباد ( سی این پی ) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قائم مقام صدر فاطمہ عظیم نے کہا کہ حکومت کی معاشی اصلاحات کا عمل سست روی سے جاری ہے جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں تیزی سے بحال نہیں ہو پا رہی ہیں لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری سرگرمیوں کی پائیدار ترقی کیلئے حکومت 2021میںمعاشی اصلاحات کا عمل تیز کرے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ نیا سال پاکستان کے لئے معاشی ترقی کا سال ہوگا تاہم ترجیحی بنیادوں پر معاشی اصلاحات کر کے ہی حکومت نئے سال کو معاشی ترقی کا سال بنا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات مقامی صنعت کاروں کے ایک وفد سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا جس نے فائونڈر گروپ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین میاں اکرم فرید کی قیادت میں ان سے ملاقات کی اور معاشی امور پر ان کے ساتھ بات چیت کی۔ طارق صادق، میاں شوکت مسعود، چوہدری وحیدالدین، ناصر قریشی اور اسلم کھوکھر وفد میں شامل تھے۔ چیمبر کے نائب صدر عبدالرحمن خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔




فاطمہ عظیم نے کہا کہ حکومت کے پاس معیشت کو تیزی سے بحال کرنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ سٹیٹ بینک کے شرح سو د میں کمی کر کے کم از کم 3فیصد تک لایا جائے جس سے نجی شعبے کو بینکوں سے سستے قرضے ملیں گے اور کاروبار و سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے کاروباری ادارے ابھی تک بحالی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور ان مشکل حالات میں سود کی شرح کو 3 فیصد تک کم کرنے سے ملک میں کاروباراور سرمایہ کاری کی ترقی کیلئے سازگار حالات پیدا ہوں گے لہذا حکومت اس طرف خصوصی توجہ دے۔




فائونڈر گروپ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین میاں اکرم فرید نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کوتیز رفتار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے صنعتی ترقی کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے تعمیراتی صنعت کے لئے ایک پرکشش پیکیج کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے اب ملک میں تعمیراتی سرگرمیاں پھل پھول رہی ہیں کیونکہ حال ہی میں بہت سے بڑے تعمیراتی منصوبے شروع کردیئے گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسی طرح کے ایک ریلیف پیکیج کا اعلان دیگر شعبوں کی صنعتوں کے لئے بھی کیا جا ئے جس سے ملک میں تیز رفتار صنعتی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ حکومت صنعتی مشینری، سازوسامان اور پلانٹس پر درآمدی محصولات اور ٹیکسوں میں واضع کمی کرے تاکہ مقامی صنعت اپنے آپ کو اپ گریڈ کر کے ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرے جس سے ہماری برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔




میاں اکرم فرید نے کہا کہ خواتین ملک کی کل آبادی کا 50 فیصد سے زائد ہیں لہذا حکومت خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور خواتین انٹرپرینیورز کی بہتر حوصلہ افزائی کے لئے مزید سازگار پالیسیاں تشکیل دینے پر خصوصی توجہ دے تاکہ خواتین ملک کی ترقی میں زیادہ موثر کردار ادا کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانے اور خواتین انٹرپرینیورز کو بہتر مراعات و سہولیات فراہم کرنے سے ملک میں ترقی اور خوشحالی آئے گی۔




ٔ

چیمبر کے نائب صدر عبد الرحمن خان نے کہا کہ ایف بی آر رواں مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایف بی آر میں مطلوبہ اصلاحات کا عمل تیز کرے تا کہ اس کی کارکردگی بہتر ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ٹیکس کی زیادہ شرح ملک میں ٹیکس چوری کی ایک بڑی وجہ ہے لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ٹیکس کی شرح کو کم کرنے اور ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کی کوشش کرے جس سے ٹیکس کلچر کی حوصلہ افزائی ہو گی اور ٹیکس محصولات میں کافی بہتری آئے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں