1,236

چکوال شہر کےمسائل حل کرنے کے لیے چکوال سٹی کونسل قائم

چکوال( سی ین پی )دو لاکھ کی آبادی پر مشتمل چکوال شہر کے دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے چکوال سٹی کونسل قائم کر دی گئی، چکوال سٹی کونسل سیاسی و مذہبی وابستگی سے بالاتر ہو کر شہریوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرے گی۔ شہریوں کو درپیش دیرینہ مسائل چکوال سٹی کونسل کی مجلس عاملہ میں میڈیا کے سامنے پیش کیے۔چکوال سٹی کونسل کے روح رواں محمد اشرف آصف نے قاضی سرمد بلال ایڈووکیٹ اور مجلس عاملہ کے دیگر ممبران کے





ہمراہ چکوال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو لاکھ آبادی پر مشتمل شہر مختلف بلدیاتی اور انتظامی مسائل کا شکار ہے اور دیرینہ مسائل کے حل کے لیے چکوال سٹی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے محمد اشرف آصف نے مسائل میڈیا کے سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ چکوال شہر میں جگہ جگہ گندگی اور کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ،خاص طور پر اندرون شہر کی صورت حال بہت خراب ہے ،صفائی کا عملہ نہ صرف کم ہے بلکہ کام میں سست بھی ہے انہوں نے کہا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود ابھی تک شہر میں پلاسٹک کے شاپر دھڑا دھڑ استعمال ہو رہے ہیں۔نالیاں گندے پانی سے بھری پڑی ہیں، نکاسی آب کا کوئی انتظام نہیں، بارش کا پانی نکالنے کے لیے کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ چکوال کے مختلف اطراف نشیبی علاقے موجود ہیں مناسب بندوبست کر کے بڑے نالے بنا کر پانی نکالا جا سکتا ہے ۔شہر میں پانی کا مسئلہ دوسرے نمبر پر ہے واٹر سپلائی ایک تہائی سے بھی کم پریشر کو پانی فراہم کرتی ہے پائپ پھٹے ہوئے ہیں مختلف جگہوں پر گٹر کا پانی عام پانی میں شامل ہوتا ہے پینے کا پانی نایاب ہے اور اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے بلدیہ کے پاس کوئی منصوبہ نہیں۔ اشرف آصف نے بتایا کہ شہر کی سڑکیں اور گلیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں بعض گلیاں تنگ اور کچی ہےں ان کی باقاعدہ مرمت کا کوئی نظام نہیں۔ نئی آبادیوں میں گلیاں نہیں بنائی جا رہیں۔ صحت کے حوالے سے مسائل بیان کرتے ہوئے اشرف آصف نے بتایا کہ شہر کے واحد ہسپتال میں ٹیسٹ ناقص اور مہنگے ہو رہے ہیں ،ادویات کی دستیابی برائے نام ،نیز کسی بھی بیمار کے ساتھ رہنے والے تیماردار کو کوئی بینچ یا دیگر سہولت نہیں فراہم کی جاتی۔لوگوں کو سرجری کے لیے دوسرے شہروںمیں بھیج دیا جاتا ہے اور پرائیویٹ ہسپتال منہ مانگے دام وصول کرتے ہیں۔محکمہ واپڈا نئے میٹر لگانے اورٹرانسفارمر لگانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے اور اس حوالے سے کرپشن کی شکایات عام ہیں۔




گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کو یونیورسٹی بنانے کے بعد ضلعی ہیڈ کوارٹر پر کوئی بوائز کالج نہیں جس کی وجہ سے لوگ پرائیویٹ کالجز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ اراضی ریکارڈ سنٹر عوام کو سہولتیں دینے کی بجائے کرپشن کا مرکز بن چکا۔معمولی کاموں کے لیے رشوت اور کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے ۔زمین پر کمرشل سرگرمی کے لیے زمین کی کل مالیت کا دس سے بیس فیصد ٹیکس لگایا جاتا ہے جو کہ بہت بڑی ناانصافی ہے ۔اس کے علاوہ خریدی گئی زمین پانچ سال کے اندر فروخت کرنے پر دوبارہ گین ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جو کہ ختم ہونا چاہئے ۔شہر کی مختلف سڑکیں اور فٹ پاتھ تجاوزات کی زد میں ہیں جس سے ٹریفک کی آمدورفت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ پارکنگ کا کوئی نظام نہیں حالانکہ بلدیہ نے گزشتہ سالوں میں زمین کی ہر رجسٹری میں پارکنگ فیس وصول کی جو کہ کروڑوں روپے بنتی ہے۔چکوال سٹی کونسل مطالبہ کرتی ہے کہ میونسپل کمیٹی پارکنگ فیس کی مد میں کروڑوں روپے وصول کرنے کا شہریوں کو حساب دے ۔نیز بلدیاتی اداروں اور انتظامیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ شہر سے کچرا اٹھانے کے لیے کسی پرائیویٹ کمپنی کو ٹھیکہ دیا جائے، اے سی ہاﺅس اور سابقہ ایم سی گرلز سکول کی جگہ پارکنگ پلازہ عوامی ٹائلٹ اور رکشہ سٹینڈ بنایا جائے اس سے پارکنگ کے مسائل حل ہونے کے ساتھ ساتھ میونسپل کمیٹی کی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔ تمام بڑے نالوں کو از سر نو مکمل طور پر گہرائی تک صاف کیا جائے ۔بازاروں میںتجاوزات اور سڑکوں پر فٹ پاتھ خالی کرائے جائیں تاکہ پیدل چلنے والوں کو مشکل پیش نہ آئے خلاف ورزی کرنے والوں پر قانون لاگو کیا جائے، بلدیہ کے بس سٹینڈ کو آباد اور اس کا نظام درست کیا جائے اس سے بھی بلدیہ کی آمدنی بڑھے گی۔سرکاری زمینوں پر ضرورت کے مطابق کمرشل تعمیرات کر کے آمدنی میں اضافہ کیا جائے ،ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ہر طرح کامطلوبہ سامان فراہم کیا جائے اور پرائیویٹ ہسپتالوں کی کڑی نگرانی کی جائے پرائس کنٹرول کمیٹی میں شہریوں کے حقیقی نمائندے شامل کیے جائیں۔ نئے مکان کا نقشہ منظور کرتے وقت اس میں ایک یا دو درخت لگانے کی شرط رکھی جائے۔ شہر میں پولیس گشت کا نظام مضبوط بنایا جائے تاکہ آئے دن ہونے والی چوریوں کی وراداتوں پر قابو پایا جا سکے۔ چکوال سٹی کونسل کی پریس کانفرنس سے قاضی سرمد بلال ایڈووکیٹ اور انجینئر ابرار ملک نے بھی خطاب کیا اور مسائل کے حل کے لیے اپنی تجاویز اور آراءسے آگاہ کیا۔ دریں اثناءچکوال سٹی کونسل کی مجلس عاملہ کے ممبران میں محمد اشرف آصف کے علاوہ قاضی سرمد بلال ایڈووکیٹ ،حافظ ناصر، ملک آصف جاوید، ڈاکٹر اظہر اعوان، چوہدری ساجد سلطان اور عامر محمود تترال کو شامل کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں